قرباني کا جانور کون ذبح کرے؟

18
عبدالوحيد حفيظ الرياضي

الحمد للّٰہ ربّ العالمین والصّلٰوۃ والسّلام علٰی رسولہ الأمین، أما بعد:

اس بارے میں اللہ کی توفیق سے چند باتیں آپ حضرات کی  پیش خدمت ہیں بغور ملاحظہ فرمائیے.

  1. سنت مطہرہ سے یہ بات ثابت ہیکہ قربانی کرنے والا اپنا جانور خود ذبح کرے،، امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:” ضَحَّى النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بكَبْشينِ أمْلَحَيْنِ، فَرَأَيْتُهُ واضِعًا قَدَمَهُ علَى صِفَاحِهِمَا، يُسَمِّي ويُكَبِّرُ، فَذَبَحَهُما بيَدِهِ”.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبڑے مینڈہوں کی قربانی دی، میں نے آپ کو اپنا قدم ان کے پہلوؤں پررکہے بسم اللہ واللہ اکبر پڑہتے دیکہا اور آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا. (صحیح مسلم: 1966، صحیح بخاری: 5558)

 اور امام مسلم كي ایک روايت میں ہے کہ آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ چُھری کو پتھر سے تیز کرو۔ پھر آپ نے مینڈھے کو لٹا کر ذبح کیا اور فرمایا: بسم اللہ، اے میرے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد (ﷺ) کی طرف سے قبول فرما۔ (صحیح مسلم: 1967، دارالسلام: 5091)

  1. قربانی کرتے وقت کسی دوسرے شخص سے تعاون حاصل کرنا بہی سنت مطہرہ سے ثابت ہے، امام احمد نے ایک انصاری شخص سے روایت کی ہے :”أنه أضجع أضحيته ليذبحها، فقال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للرجل: «أَعِنِّي على ضحيتي» فأعانه.کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کیلئے پچہاڑ ا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی سے فرمایا ” قربانی (کے ذبح کرنے) میں میری مدد کرو ( الفتح الربانی فی ترتیب مسند الامام احمد)
  2. کسی دوسرے کیطرف سے قربانی کے جانور کو ذبح کرنا بہی سنت مطہرہ سے ثابت ہے، امام بخاری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا :”وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ"اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کیطرف سے گائے کی قربانی کی.( صحيح بخاري/5559).
  3. مسلم خاتون کا اپنی قربانی کے جانور ذبح کرنا جائز ہے، امام بخاری نے ذکر کیا ہے کہ:”وَأَمَرَ أَبُو مُوسَى ، بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ”.ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں ذبح کریں.( امام بخاري نے بَابُ مَنْ ذَبَحَ ضَحِيَّةَ غَيْرِهِ وَأَعَانَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ، فِي بَدَنَتِهِ کے تحت ذكر كيا ہے).

اور علامہ عینی نے تحریر کیا ہے :” وفیہ أن ذبح النساء نسائکہن یجوز إذا کن یحسن الذبح” اور اس میں یہ بات ہیکہ اگر عورتوں کو ذبح کرنے کا سلیقہ ہوتو ان کا اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے ( عمدۃ القاری 21/155)

عورتوں کے ذبح کرنے کے جواز پر وہ حدیث بہی دلالت کرتی ہے جسے امام بخاری نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ :” أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ، «فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا” بے شک ایک عورت نے پتہر سے ایک بکری کو ذبح کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دیا (صحیح بخاری/5504)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے

       وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.