پرائیویٹ اسکولوں کی جائز مانگ،صابرقاسمی

27

ارریہ( توصیف عالم مصوریہ) نمائندہ نوائےملت    آج پوری دنیامیں کرونا وائرس کی وباء پھیلی ہوئی ہے اور یہ کرونا ایسی وباء ہے کہ جس سماج میں پائی جاتی ہے اس سماج کو دنیا والےاچھو ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے لین دین اور ہر طرح کے معاملات کی شمولیت سے گریز کرتےہیں اور فورا سرکاری حکام کو بھی خبر دینے میں کوتاہی نہیں کرتے کہ ہم لوگ بھی اس وباء کی زد میں آجائیں اور اگر یہ کسی کے گھر میں کسی بھی فرد کو ہوجائے تو اس سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں حتی کہ شوہر کو ہی ہوجائے تو وہ بیوی جس نے اپنے پیداکرنےوالے والدین کو چھوڑ کر غیر کے ساتھ زندگی گزارنے پر راضی ہوئی ،جس نے اپنی شریک حیات چنی ، جس نے اپنی زندگی کا جیون ساتھی سمجھی ،جس نے مرتے دم تک ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا اور ایک مظبوط رشتے کو بخوشی منظوری دی وہ بھی ایک لمحہ اب ساتھ رہنے کو تیار نہیں اور دنیا کا ہر خطہ اس مہلک اور خطرناک وباءکی چپیٹ میں ہے ،ہرجگہ لوگ اس کرونا سے بچاؤ کے لئے الگ الگ احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے لگے ہیں اور ہر ایک کو اپنی جان کی فکر دامن گیر ہے اور ہرحکومت اپنے ماتحت کی جان بچانے میں رات ودن اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر کام کررہےہیں اور ہر جگہ بے سہاروں کی مالی امداد سے اس کی زندگی میں ایک نئی موڑ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس وباء میں مبتلاء ہر ایک فرد کی پوری نگرانی کی جاتی ہے اس کے پیچھے حکومتی ادارے جانی و مالی قربانی پیش کر رہی ہے اور حکومتی ترقیاتی منصوبے کو کر روک کر اس زہر آلود بیماری کو جڑ سے مٹانے کی ان تھک کوششیں ہورہی ہیں اور ہر حکومتی شعبہ جات میں اعلی افسران سے لیکر ادنی ملا زم تک کو اس مہاماری چھوٹ دی گئی اور ان کی غیر حاضری کو حاضری ما ن کر ان کے تنخواہوں کی ادائیگی کا فرمان جاری ہوتا ہے لیکن پرائیویٹ اسکولوں، کونوینٹوں اور کوچنگ سنیٹروں کے بارے میں نہ مرکزی تاناشاہ سرکار کچھ بولنے کو تیار ہے اور نہ ہی بہار سرکار کے حاشیہ خیال میں ان اداروں کی طرف کوئی رجحان ہے جب کہ خود نتیش کمار جی اپنے دور حکومت میں بار بار سب کے وکاس کا اعلان کیاہے لیکن ہم پرائیویٹ ادارے ہر حکومتی فرمانوں کو اپنایا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے مزید حکومتی عملے نے صوبائی سطح پر اسٹرائک کیا تب ہمارے ادارے آپ کی مدد کی چاہے وہ بورڈ کے امتحان کا معاملہ ہو یا پھر الیکشن کے موقعے پرٹرانسپورٹ کی ذمہ داری ہو اس سے قطع نظر گنگا جمنی تہذیب کا متحمل ملک کو تعلیم یافتہ ، مہذب، وفاداری اور دیش سے محبت کرنے والے سپوت تیار کرنے میں ہماری خدمت سرکاری اداروں سے کچھ کم نہیں ہے نیز ملک کو آگے لی جانے کا سپنا پورا کرنے میں ہمارا بھی اہم کردار رہتا ہے لیکن آج جب کہ یہ وبائی قہر ہم سب پر  بلاتفریق ومذہب وملت ظلم ڈھانے میں کمی نہیں کر رہاہے اور آئے دن اس کے بڑھوتڑی کی خبر آرہی ہے جس کی وجہ سے حکومتی ہدایات کے مطابق ہمارے ادارے مسلسل کئی مہینوں سے بند ہے اور پھر وزیراعلی جناب نتیش کمار جی نے محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ ماہ اکتوبر تک بند رکھنے کا فرمان بھی جاری کیا ہے جس کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں کی مالی حالت کافی بگھڑ گئی اور بہت سے ادارے سیلاب کی زد میں تہس نہس ہو کر اپنے آخری مرحلے میں ہے اور بہت سے ادارے اساتذہ و ملازمین ، مکان کےکرایہ ، بجلی بل اور لون کی قسطی کی وجہ سے بند ہونے کے در پے ہے اس لئے ہم سب پرائیویٹ اسکول و کوچنگ سینٹرس سرکار کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے احوال پر دھیان دیجیئےاور ہماری پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کیجئے ۔ فقط

محمد صابر قاسمی کریڈیبل پبلک اسکول عید گاہ ہاٹ دولت پور ڈوبا جو کی ہاٹ ارریہ بہار