عشرہ ذی الحجہ اور اس کے فضائل

35

ساری کائنات اللہ تعالی کی مخلوق ہے ، اللہ نے تمام مخلوق کو ایک درجہ میں نہیں رکھا ہے ، بلکہ ان میں حسب منشا ایک گونہ فضیلت رکھی ہے ، اور ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے ، چناچہ انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام میں حضرت محمد عربی ﷺ کو ملائکہ میں حضرت جبریئل کو ، مہینوں میں ماہ رمضان کو ، دنوں میں عرفہ و جمعہ کے دن کو ، عشرہ میں رمضان المبارک کے عشرہ ٔ اخیر ہ کو اور ذی الحجہ کے پہلے عشرے کو فضیلت و بر تر ی سے نوازا ہے ، ان کا ایک خصوصی مقام ہے ، عشرہ ٔ اولی کے فضیلت اور اس کی اہمیت ہی کے پیش نظر رب ذوالجلال نے قسم کھائی ، ارشاد ربانی : والفجر و لیال عشر و الشفع والوتر ، سورۃ الفجر ( ۱۔ ۳ )
ترجمہ : قسم ہے فجر کی ، اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی ، ترجمہ شیخ الہند ( انڈیا ، فرید بک ڈپو ، دہلی ) ص؍ ۷۸۹
مولانا عبد الماجد دریابادی ؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ، لکھتے ہیں کہ ‘‘ لیال عشر ’’ تابعین بلکہ صحابہ کرام ؓ سے روایت ہے کہ ان دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے ، جس کی بڑی فضیلت حدیث میں آئی ہے
عن عبد اللہ بن زبیر ؓ ( و لیال عشر ) اول ذی الحجۃ الی یوم النحر ( ابن جریر ؍ ۲۴ ص ۳۴۶ ) دریابادی ، عبد الماجدؒ ، تفسیر ماجدی ، انڈیا ، مکتبہ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ، لکھنؤ ، د،ت ) ج ؍ ۸ ص ۵۱۴
*عشرہ ٔ ذی الحجہ کی فضیلت کی وجہ* :
ان ایام کی خاص فضیلت اس بنیاد پر ہے کہ ان ایام میں انسان وہ عبادتیں انجام دیتا ہے ،جنہیں سال بھر کے دوسرے ایام میں انجام نہیں دیا جاسکتا ، ان کی انجام دہی کے لیے اللہ نے صرف انہیں ایام کو منتخب فرمایا ہے ، اور وہ ہیں ، حج و قربانی ، ان ایام کے علاوہ میں انسان ہر ان عبادتو ں و احکام کو بلاتعیین و تقیید وقت کے ادا کرے ، جو شریعت سے ثابت ہیں ، خواہ فرض ہو یا نفل ، تو اس کا اجر وثواب اسے ملے گا ، وہ عبادتیں عند اللہ مقبول ہوں گی ، جس سے قربت خداوندی اور دارین کی فوز وسعادت حاصل ہوگی ، لیکن اگر کوئی انسان چاہے کہ حج کو ماہ ذی قعدہ یا رمضان المبارک میں ادا کرلے تو یہ ادا نہیں ہوگا ، کیوں کہ حج کے ارکان مثلا ً عرفات میں جا کر ٹھرنا ، مزدلفہ میں رات گزارنا ، جمرات کی رمی کرنا ، و غیرہ ماہ ذی الحجہ ہی میں ضروی ہے ، دوسری عبادت قربانی ہے ، جس کے لیے اللہ نے ذی الحجہ کے تین دن مقرر فرمائے ہیں ، الغرض ذی الحجہ کے عشرۂ اولی کی فضیلت و اہمیت بکثرت وارد ہوئی ہے ، عثمانی ، مفتی تقی ، اصلاحی خطبات ، ( انڈیا ، مکتبہ مدنیہ دیوبند ، د، ت، ) ج؍ ۲ ص؍ ۱۲۳
*عشرہ ٔ ذی الحجہ کے اعمال کی فضیلت*
اعمال صالحہ اللہ کی رضا کا ایک مؤ ثر سبب ہیں ، اگر اعمال کے ذریعہ خوشنودی ٔ الہی حاصل نہیں ہوتی تو اللہ تعالی نماز ، روزہ و دیگر عبادا ت کا حکم نے فرماتا ، مزید یہ کہ فرض فرمایا اگر کوئی شخص ان اعمال پر مواظبت نہ برتے ، اور ادا نہ کرے ، تو وہ قابل مواخذہ ہوگا اور اس کی باز پر س ہوگی ، اعمال کی فضیلت حدیث میں بکثرت آئی ہے ،
چناچہ عشرہ ٔ ذی الحجہ کے بارے میں وارد ہوا ہے ، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا ، کہ کوئی بھی ایسا دن نہیں ہے کہ اس میں نیک عمل کرنا اللہ کے یہاں ان دس دنوں میں سے یعنی ذی الحجہ کے پہلے عشرہ سے زیادہ پسند ہو ، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! کیا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا بھی ان دنوں کے اعمال کے برابر نہیں ، مگر وہ شخص جو جان و مال کے ساتھ جہاد میں نکلا ہو ا ور پھر وہ بالک واپس نہ آیا ہو ( یعنی شہید ہوگیا ہو تو اس کے اعمال کے برابر نہیں ، مگر وہ شخص جو جان ومال کے ساتھ جہاد میں نکلا ہو اور وہ پھر بالکل واپس نہ آیا ہو ، ( یعنی شہید ہوگیا ہو) تو اس کے اعمال ان دنوں سے بھی زیادہ افضل ہیں ۔دیکھئے : البغوی ، مشکاۃ االمصابیح ، باب فی الاضحیۃ ، رقم الحدیث ، ۴۶۰ ( م، ط ، آئی ، ایم ، پبلیشنز پرائیویٹ لمٹیڈ ) ج ؍ ۱ ص؍ ۲۲۹
خلاصہ یہ کہ ذی الحجہ کاعشرہ ٔ اولی بہت ہی فضائل و مناقب کا حامل ہے ، اس میں عباد ت و ریاضت کرنا ، نفلی روزہ رکھنا اللہ کو بہت پسند ہے ،جو قرب الہی سعادت دارین و نجات دارین کا ایک اہم سعادت دارین و نجات دارین کا ایک اہم سبب او ر ذریعہ ہے ، دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان پر عمل کی توفیق بخشے آمین ثم آمین