قربانی کے احکام و مسائل-عبدالوحيد حفيظ الرياضي

14

الحمد للّٰہ ربّ العالمین والصّلٰوۃ والسّلام علٰی رسولہ الأمین، أما بعد:

اس مختصرمضمون میں قربانی کے بعض احکام و مسائل پیشِ خدمت ہیں :

قربانی کا اصطلاحی مفہوم:

قربانی : یا اضحیۃ : عید الاضحی کی نماز کے بعد سے ایام تشریق کے آخری دن تک ( تیرہ ذی الحجہ کی شام تک ) چوپائیوں ( اونٹ ، گائے ، بھیڑ ، بکری ) میں سے کوئي ایک اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے قربانی کی نیت سے جانورذبح کرنے کو اضحیۃ یا قربانی کہا جاتا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2).

{تواللہ تعالی کے لیے نماز ادا کر اورقربانی کر} سورۃ الکوثر

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا فرمان ہے :

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (163)سورة الأنعام.

{آپ کہہ دیجئے یقینا میری نماز اورمیری قربانی اورمیری زندگی اورمیرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے اس کا کوئي شریک نہیں ، اورمجھے اسی کا حکم دیا گيا ہے }الانعام ( 162/163)

اس آیت میں نسکی کا معنی میری قربانی ہے ۔

اورایک مقام پر اللہ سبحانہ وتعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (34)

{اورہم نے ہر امت کے لیے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے تا کہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ تعالی کا نام لیں جو اللہ تعالی نے انہیں دے رکھے ہیں ، سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والے کوخوشخبری سنادیجئے} الحج ( 34 ) ۔

قربانی کی فضیلت:
1. ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں ، سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ، لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی فضل الاضحیہ- حديث نمبر:1493،ضعيف)

2. حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہٴ کرام نے عرض کیا: ہمیں قربانی سے کیا فائدہ ہوگا؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں (بھی) نیکی ملے گی۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ثواب الاضحیہ- حديث نمبر:3126، ضعيف)

قربانی كا حكم:

قربانی سنت موکدہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ، فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ»

آج (عیدالاضحی) کے دن ہم سب سے پہلے نماز پڑھیں گے، پھر واپس آ کر قربانی کریں گے۔ جس نے ایسا کیا تو ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے (نماز سے) پہلے ذبح کر لیا تو اس کی قربانی نہیں ہے۔

(صحیح بخاری،كتاب الأضاحي ، باب سنۃ الأضحیۃ ،ح 5545)

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

قربانی سنت ہے واجب نہیں ہے اور جو شخص اس کی طاقت رکھے تو مجھے پسند نہیں ہے کہ وہ اسے ترک کر دے۔ (موطأ امام مالک 2/ 487)

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

قربانی کرنا سنت ہے (اور) میں اسے ترک کرنا پسند نہیں کرتا۔ (کتاب الام ج1ص 221)

ثابت ہوا کہ عید الاضحی کے موقع پر نمازِ عید کے بعد قربانی کرنا سنت موکدہ ہے اور شرعی عذر کے بغیر قربانی نہ کرنا ناپسندیدہ ہے۔

بعض منکرینِ حدیث نے بہت سے عقائد و مسائل ضروریہ کے انکار کے ساتھ، قربانی کے سنت ہونے کا بھی انکار کر دیا ہے، حالانکہ قربانی کا ثبوت احادیث صحیحہ متواترہ بلکہ قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ (مثلاً دیکھئے سورۃ الصافات: 107، الحج: 34، الانعام: 162)

قربانی کا مقصد:

قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ مطہرہ پر خلوصِ نیت سے عمل کرنا ہے اور ان شاء اللہ اس کا بہت بڑا ثواب ملے گا۔

جيسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ‌ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَـكُمۡ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ‌ؕ وَبَشِّرِ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

اللہ تعالٰی کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے توتمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح اللہ نے جانوروں کو تمہارا مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی راہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے ۔

ربانی کرنے والے کے لئے اہم شرائط:

1) قربانی کرنے والے کا صحیح العقیدہ مسلمان و متبعِ کتاب و سنت ہونا اور شرک، کفر و بدعات سے پاک ہونا ضروری ہے اور جس کا عقیدہ خراب ہو، اس کا کوئی عمل قابلِ قبول نہیں ہے۔ قرآن، حدیث اور اجماع کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہر وقت اپنے ایمان و عمل کا خاص خیال رکھیں۔

2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو اسے اپنے بال اور ناخن تراشنے سے رُک جانا چاہئے۔ (صحیح مسلم: 1977)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کرنے والے شخص کو یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال نہیں کاٹنے چاہئیں اور ناخن نہیں تراشنے چاہئیں۔

اگر کسی کا ناخن ٹوٹ جائے یا ایسی خرابی ہو جائے کہ ناخن تراشنا ضروری ہو تو پھر ایسا کرنا جائز ہے جیسا کہ اجماع سے ثابت ہے۔

3) اور جو قربانی کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے اس عشرہ میں ناخن اور بال تراشنے سے ممانعت کے بارے میں میری نگاہ سے کوئی صریح حدیث نہیں گذری، البتہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

"أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ” رواه ابوداود(7)، والنسائي(8)، والحاكم(9) وصححه، ووافقه الذهبي، وضعفه الألباني، انظر المشکاة مع تعليق الألباني:1/ 466 [1479] والمشكاة مع المرعاة: 1/ 466۔

مجھے قربانی کے دن عید منانے کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالی نے اس امت کے لئے اسے عید قرار دیا ہے، اس پر آپﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا: اگر میرے پاس دودھ کے لئے عاریۃً دی گئی بکری کے سوا کوئی جانور نہ ہو تو کیامیں اسی بکری کی قربانی کردوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! لیکن (قربانی کے دن) اپنے بال اور ناخن تراش لو، اپنے مونچھ کے بال کاٹ لو اور زیر ناف بال کا حلق کرلو، یہ اللہ کے نزدیک تمہاری مکمل قربانی ہو جائے گی۔

اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے اس شخص کے لئے بھی جس کے پاس قربانی کی استطاعت نہ ہو، اس عشرہ میں ناخن اور بال تراشوانے سے اجتناب کرنے کو کہا ہے، لیکن جیساکہ آپ دیکھ رہے ہیں اس حدیث میں ناخن اور بال تراشنے کی ممانعت نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے قربانی کے دن سر، مونچھ، اور زیر ناف بال اور ناخن کے کاٹنے کی فضیلت اور قربانی کے برابر اجر وثواب کا بیان ہے، اسی بنا پر امام نسائی وغیرہ نے اسے ”باب مَنْ لَمْ يَجِدِ الأُضْحِيَةَ“ کے تحت ذکر کیا ہے۔

اس واسطے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس کے پاس قربانی کرنے کی استطاعت نہ ہو، اگر وہ اس عشرہ میں ناخن اور بال مختصراً تراش لے، اور پھر دس تاریخ کوبھی تراش لے تو وہ اس اجر سے محروم اور کسی ممنوع چیز کا مرتکب نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ اس حدیث کی تصحیح و تضعیف کے بارے میں

اختلاف ہے، مگر راجح یہ ہے کہ یہ ضعیف ہے اس واسطے غیر مستطیع کے لئے یوم النحر کو بال اور ناخن ترشوانے پر قربانی کے ثواب کی بات محل نظر ہے۔ واللہ اعلم۔

(دیکھئے نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد ششم، صفحہ: 34- 37.)

قرباني كے جانور کی عمر:

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لا تذبحوا إلا مسنۃ إلا أن یعسر علیکم فتذبحوا جذعۃ من الضأن”

دو دانتوں والے (دوندے) جانور کے علاوہ ذبح نہ کرو اِلا یہ کہ تم پر تنگی ہو جائے تو دُنبے کا جذعہ ذبح کردو۔ (صحیح مسلم: 1963، ترقیم دارالسلام: 5082)

بکری (یا بھیڑ) کے اس بچے کو ’’جذعہ‘‘ کہتے ہیں جو آٹھ یا نو ماہ کا ہو گیا ہو۔ دیکھئے القاموس الوحید (ص243)

حافظ ابن حجر نے فرمایا: جمہور کے نزدیک بھیڑ (دُنبے) کا جذعہ اسے کہتے ہیں جس نے ایک سال پورا کر لیا ہو۔ (فتح الباری 10/ 5 تحت ح 5547)

بہتر یہی ہے کہ ایک سال کا جذعہ بھیڑ میں سے ہو، ورنہ آٹھ نو ماہ کابھی جائز ہے۔ واللہ اعلم

تنبیہ بلیغ: صحیح مسلم کی اس حدیث پر عصرِ حاضر کے شیخ البانی رحمہ اللہ کی جرح (دیکھئے الضعیفۃ: 65، ارواء الغلیل: 1145) مردود ہے۔

مستدرک الحاکم (4/ 226 ح 7538 وسندہ صحیح) کی حدیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسنہ نہ ہونے کی حالت میں جذعہ کی قربانی کافی ہے۔

قربانی کا وقت:
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قربانی کا وقت نماز عید کے بعد شروع ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص نماز سے پہلے ذبح کر لے تو وہ قربانی شمار نہ ہو گی۔ أنس بن مالك رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
"مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِه وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلٰوةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُه وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِيْنَ ”
کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے (کھانے پینے کے) لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا۔ اس نے اپنی قربانی پورے طور پر ادا کی اور مسلمانو کے طریقے کے مطابق عمل پیرا ہوا۔(صحيح بخاري، كتب الأضحية، باب سنة الأضحية، حديث نمبر:5246).

لیکن قربانی کے آخری وقت کے متعلق بہت سا اختلاف ہے۔ جمہور کے نزدیک عید کا روز اور تین روز اس کے بعد یعنی چار دن۔ امام مالک اور امام ابو حنیفہ اور امام احمد کے ایک قول میں قربانی کے تین دن ہیں۔ بعض کے نزدیک صرف ایک دن اور بعض کے نزدیک عید کے دن سے آخر مہینہ ذوالحجہ تک ہے.

علامہ ابن قیمؒ نے زاد المعاد میں جمہور کے قول کو ترجیح دی ہے اور حضرت علیؓ کا ایک قول نقل کیا ہے:۔
"أَیَّامُ النَّحْرِ یَوْمُ الْأَضْحٰی وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ بَعْدَه” قربانی کے دن عید کے روز سے تین دن بعد تک ہیں۔
اس کے بعد فرماتے ہیں، یہی قول بصرہ کے امام حسنؒ کا اور امامِ اہلِ مکہ عطاء بن ابی رباحؒ اور امام اہلِ شام اوزاعیؒ امام فقہاء اہلِ حدیث شافعیؒ کا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کتاب الاختیارات میں فرماتے ہیں:
"وآخر وقت ذبح الأضحية آخر أیام التشریق وھو مذھب شافعي وأحمد القولين في مذھب أحمد”.
قربانی کا آخری وقت ایام تشریق کا آخری دن ہے اور یہی مذہب امام شافعی اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کا بھی ہے۔
علامه شوکانیؒ نے نیل الاوطار ص ۳۵۹ جلد ۴ میں اور حافظ ابن کثیر نے تفسیر کی دوسری جلد ص ۵۳ میں اسی مسلک کی تائید کی ہے اور اس کو تمام اقوال میں ارجح بتایا ہے۔ پہلا قول یعنی صرف تین دن قربانی جائز رکھنے والوں کی دلیل مؤطا امام مالکؒ کی روایت عبد اللہ بن عمر سے ہے، فرماتے ہیں:
"الأضحی یومان بعد یوم الأضحیٰ ” کہ عید کے دن کے سوا دو دن اور قربانی کے ہیں۔
چونکہ یہ مرفوع حدیث نہیں۔ اس لئے پہلی مرفوع اور صحیح حدیثوں کے مقابلے میں اس کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔

وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين.