بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی

28

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے خلیفہ ، مولانا مملوک نانوتوی ؒ کے تلمیذ رشید ، اور مولانا رشید گنگوہی ؒ کے رفیق درس و ہم نشیں ، کفر و شرک ، الحا د و مداہنت ، بدعات و خرافات ، اور طرح طرح کی یورشوں و شورشوں سے مقابلہ آزمائی کے لیے میدان عمل میں کھڑا ہوکر نہایت ہی جرأت و بے باکی سے لڑنے والے ، مجاہد آزادی ، لیڈر علمائے کرام اور بانی دار العلوم دیوبند وہ تھے ۔حجۃ اللہ فی الارض مولانا قا سم نانوتوی ؒ !، آپ ؒ شعبان المعظم یا رمضان المبارک ۱۲۴۸ ھ؍ بہ مطابق جنوری ۱۸۳۳ ء میں پیدا ہوئے ، آپ ؒ لڑکپن کے زمانے سے ہی نہایت ہی ذہین و فطین تھے ، آپ ؒ زیادہ تر تعلیم مولانا مملوک علی ؒ نانوتوی ؒ سے حاصل کی ، جو دہلی عربک اسکول کے استاد تھے ، آپ ؒ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اور بھی بہت سارے اکابرین سے تعلیم حاصل کی ،آپ ؒ نے فن حدیث میں ہندوستان کے مشہور محدث شاہ عبد الغنی ؒسے دسترس حاصل کیا ، ابوداؤد کے علاوہ تمام کتابیں انہیں سے پڑھی ، جب کہ ابوداؤد شاہ محمد اسحاق دہلوی ؒ کے ایک شا گرد مولانا احمد علی محدث سہارنپوری ؒ سے پڑھی ، آپ ؒ نے فراغت کے بعد دینی وملی و سماجی خدمات میں اپنے آپ کو کھپادیا ، اور ہر طرح کے پیدا ہونے وا لے فتنوں کا مقابلہ کیا ، اور فتین حضرات کا تعاقب کیا ، آپ ؒ اپنی وراثت میں اپنے لیےذریعہ ثواب اور ہمارے لیے مشعل راہ چیزوں میں سے بہت ساری تصانیف ، اور بہت ساری تحریکات چھوڑ گئے ، مدارس اسلامیہ کا قیا م آپ ؒ کی رہین منت ہے ، اس لیے کہ قیام مدارس اسلامیہ آپ ؒ کی تحریکات میں سے ہے ، اور آپ ؒ خود ایشاء کے عظیم ادارہ دارالعلوم دیوبند کے بانی ہیں ،آپ ؒ ۴؍ جمادی الاولی ۱۲۹۷ ھ مطابق ۱۵؍ اپریل ۱۸۸۰ ء کو بعد نماز ظہر اس دنیائے فانی کو الوداع کہا ، اللہ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے آمین تفصیل دیکھیئے : وہ جو بیچتے تھے دوائے دل : مصنف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ؔمدظلہ العالی سن اشاعت : ۱۴۳۷بہ مطابق ۲۰۱۶ ء کتب خانہ نعیمیہ دیوبند ( ص؍ از ۲۱ تا ۶۱ )