مرحوم تسلیم الدین کا گھر میری سیاسی درسگاہ ہے : اخترالایمان

24

ارریہ (معراج خالد) ملک میں آج تک سب سے زیادہ میم اور بھیم کا استحصال ہوا ہے اس لئے سیاسی اختلاف پیدا کر لڑنے کے بجائے ہم سب کو میم اور بھیم کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے مذکورہ باتیں سابق مرکزی وزیر آنجہانی تسلیم الدین کے دوصاحبزادے سابق ایم پی سرفراز عالم اور نومنتخب ایم ایل اے شہنواز عالم کے بیچ چل رہے تنازعہ کے مد نظر ان کے گھر پہنچے ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اور امور سے نومنتخب ایم ایل اے اخترالایمان نے کہیں اس دوران میڈیا اہلکاروں سے انہوں نے کہاکہ آنجہانی تسلیم الدین کا گھر میری سیاسی درسگاہ ہے اس لئے میرے استاد کے دو بیٹوں کے درمیان ہو رہی لڑائی کو صلح کروانے آیا ہوں ایک سوال پر اخترالایمان نے کہا کہ مجلس مظلوموں کے ساتھ انصاف کرتی ہے اور انصاف کی لڑائی لڑتی ہے شہنواز کے ساتھ راجد والوں نے ناانصافی کی سیمبول دینے کے باوجود ٹکٹ سے محروم کردیا ایسے مظلوم کے ساتھ مجلس نے انصاف کیا اور بعد ازاں لوگوں نے انہیں منتخب کر دوبارہ اسمبلی بھیجنے کا کام کیا ،انہوں نے مزید کہا کہ سرفراز عالم میرے بڑے بھائی ہیں ان کا عہدہ بڑا ہے اگر وہ زعفرانی پارٹی کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی سے پارلیمانی الیکشن میں قسمت آزمائی کرتے ہیں تو میں گزشتہ لوک سبھا انتخاب کی طرح آئندہ بھی ان کیلئے ارریہ آکر محنت کروں گا اور انہیں کامیاب کروانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا راجد کے لوگوں نے جو کچھ کیا ہے وہ قابل مذمت ہے شہنواز عالم مرحوم والد کے ادھورے کام کو بخوبی آگے بڑھا رہے ہیں اس لئے ان کے کام کی پزیرائی کر انہیں آگے بڑھانا چاہیے اس موقع پر بائیسی سے نومنتخب رکن اسمبلی سید رکن الدین کوچادھامن کے اظہار اصفی بہادر گنج سے انظار نعیمی کے علاوہ مجلس کے درجنوں عہدیداران اور کارکنان موجود تھے