موسم سرما اور رحمت خداوندی

22
تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم بارہمولہ کشمیر
 ترا نقش پا تھا جو رہنما تو غبار راہ تھی کہکشاں
اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا
میرے رہنما ترا شکر یہ کروں کس زبان سے بھلا ادا
میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغ فکر جلا دیا
شرعی نصوص سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو شخص اوامر و نواہی انجام دیتے وقت جتنی مشقت اٹھائے گا اتنا ہی اس کے حق میں اجر و ثواب لکھا جائے گا.شرعی احکامات پر اجتہاد کرنے سے اللہ عزوجل بندے کے حق میں رحمت و برکات کے ابواب کھول دیتا ہے.سلف و صالحین کا معمول تھا کہ وہ اپنے لیل و نہار رب کائنات کی رضا حاصل کرنے میں صرف کرتے.سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی بندگی اتنی جد و جہد  سے کرتے کہ ان کے مبارک قدموں پر اثرات واضح ہوجاتے.جیسا کہ صحیحین میں تفصیل موجود ہے.عبادات ادا کرتے وقت دشواریوں کا سامنا کرنا اور پھر ان دشواریوں پر ثابت قدمی سے کام لینا بھی صبر کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جیسا کہ علماء اسلام نے وضاحت کی ہے.صبر ایمان میں اسی طرح اہم ہے جس طرح جسم میں سر,اگر سر کاٹ دیا جائے تو پورا جسم ناقص ہوجائے گا ,اسی طرح جب صبر ایمان سے جدا ہوجائے تو پورا ایمان کمزور پڑ جاتا ہے  جیسا کہ اھل السنہ والجماعت ایمان میں زیادتی و کمی کے قائل ہیں.عبادات پر صبر کرنے سے بندہ مومن کا ایمان نکھر جاتا ہے جبکہ عبادات میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرنے سے بندہ مسلم کا ایمان بکھر جاتا ہے.
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں سؤال کرتے ہیں کہ مجھے کسی ایسی عمل کی رہنمائی کی جائے جس کو میں مثل عضوا علیھا بالنواجذ تھام لوں.تو جواب دیا گیا تھا کہ ایمان کا دعوی کرنے کے بعد اس پر استقامت دکھائی جائے یعنی ایمان و اعمال کو جمع کیا جائے.یہ روایت سنن ترمذی و دیگر کتب احادیث میں جید سند سے موجود ہے.صحیح روایات سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے اللہ کے نذدیک محبوب عمل وہی ہے جس میں تسلسل پایا جائے اگرچہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو.احکام شریعت چونکہ کسی خاص وقت ,خاص موسم ,خاص حالات کے ساتھ مقید نہیں ہیں بلکہ سفر و حضر ,فرحت و غم ,تنگی وآسودحالی میں شرعی احکامات پر عمل کرنا اسلام کے متبعین پر لازم ہے.صبر و استقامت کا کردار ادا کرنے والوں کو فرشتے و دیگر مخلوقات اپنا محبوب رکھتے ہیں جیسا کہ قرآن و سنت اس پر دال ہے.
اسلام چونکہ دین رحمت ہے اور عالم انسانیت کے لئے باعث خیر و نجات ہے اسی لئے اسلام نے اپنے ماننے والوں پر خصوصی کرم کیا ہے کہ حالات میں تبدیلی آتے ہی شرعی اوامر میں بھی تبدیلی لائی گئی تاکہ اللہ کا قرب پانے والوں کو کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے.اسلام نے یہ قانوں مرتب کیا ہے کہ "لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا” نیز واضح کیا گیا کہ "یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر”.ہر شخص پر حسب استطاعت ہی شرعی قوانین نافض ہوتے ہیں.بعثت نبوی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ "ان اللہ لم یبعثنی معنتاً ولا متعنتاً ولکن بعثنی معلماً میسراً”.رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم اعظم مبعوث فرمائے گئے تھے.جنہوں نے اپنی امت پر ہر طرح کی مشقت کو دور کردیا.تبھی تو فرمایا کہ "میں اپنی امت پر ہر نماز کے ساتھ مسواک کو لازم کرتا لیکن ان پر مشقت نہ ڈالنے کی وجہ سے یہ حکم منسوخ کررہا ہوں”.اس بات کو سورۃ الحج میں علانیہ بیان کردیا گیا کہ "وما جعل علیکم فی الدین من حرص”.اب چونکہ سردیوں کے ایام طلوع ہونے والے ہیں ،اس لئے اہل ایمان پر لازم ہے کہ وہ سردیوں سے متعلق بعض فقہی مسائل کا ادراک کریں تاکہ وہ اس موسم سے مستفید ہوسکیں.سلف و صالحین سے منقول ہے کہ مومن کے لئے سردیوں کے ایام مثل موسم بہار ہیں کیونکہ سردیوں کی راتیں بڑھی ہوتی ہیں جو شب بیداری کرنے والوں کے لئے عظیم نعمت ہے اور سردیوں کے دن چھوٹے ہوتے ہیں جو روزہ داروں کے لئے نعمت عظمی ہے.
برصغیر پاک و ہند میں اساتذہ و طلباء کا یہ معمول ہے کہ وہ ان ایام میں مختلف مقامات پر دروس منعقد کرتے ہیں.وادی کشمیر میں ہر اتوار کو یہ فریضہ انجام دیا جاتا ہے جن سے فائدہ اٹھانا ہر عاقل پر لازم ہے.اسی طرح آن لائن تعلیم و تعلم کے ذریعہ بھی یہ عمل رواں دواں ہے.وادی کشمیر میں جو دینی ادارے اس عظیم کام میں صف اول میں کھڑے ہیں ان میں بٹہ مالو سرینگر میں I.E.C ,نوگام سرینگر میں M.S.B ,چاڑورہ بڈگام میں I.I.C.S ,کھنہ بل اسلام آباد میں MUALIM اور کھاگ بڈگام و اونتی پورہ میں چل رہے ہفتہ روزہ کلاسس قابل تحسین و قابل فخر ہیں.آن لائن درس و تدریس میں کشمیر کے ثقہ عالم دین فضیلتہ الشیخ الدکتور  مبشر احسن وانی المدنی حفظہ اللہ تعالی نے Ahsan Academy کا افتتاح کرکے فرد واحد کے لئے شرعی علوم حاصل کرنا آسان کردیا ہے.شیخ محترم نے اس مبارک اور مقدس کام کی ابتداء کرکے طلاب العلم و عوام الناس پر بڑا احسان کیا ہے جس کی حق ادائگی اسی صورتحال میں ہوسکتی ہے کہ ملت کے غیور افراد اس کارواں میں شامل ہوکر اپنی دنیا و عاقبت سنوار دیں.اس کے علاوہ ڈاکٹر منظور احمد میر حفظہ اللہ تعالی نے ہرفن مولا کردار ادا کرکے طلاب العلم کو منھج سلیم کا تعارف کروایا.
فقہی مسائل کی طرف آئیے,اگر ہم وضوء کے بارے میں فقہی مسائل کو غور سے پڑھیں تو تیمم کی سہولیت اہل ایمان پر کھلی ہوئی ہے.شدید سردیوں کے ایام میں مختلف مہلک امراض میں مبتلا افراد کے لئے تیمم کی سنت شریعت اسلامیہ نے راحت کے طور پر میسر رکھی ہے.اسی طرح اگر پانی میسر نہ ہو یا سخت سرد ہو جس سے صحت پر مضر اثرات پڑنے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں بھی تیمم سے کام لیا جاسکتا ہے.علماء ربانین سے اس کی مزید وضاحت جانی جاسکتی ہے.ثالثاً سردیوں کے ایام میں مخصوص شرائط کے ساتھ  موزوں پر مسح کیا جاسکتا ہے. خفین پر مسح کرنے پر پوری امت کا اتفاق ہے  رہا مسئلہ نعلین اور جوربین کا تو ان کی تفصیل دریافت کی جاسکتی ہے.اسی طرح عمامہ پر بھی مسح کرنا بالاتفاق ثابت ہے. موزہ نجاست سے پاک ہو,ٹکھنوں سے اوپر ہو,وضوء کرکے پہنا گیا ہو تو مسح کرسکتے ہیں.مدت مسح کے متعلق فقہاء کرام نے مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات کا وقت رکھا ہے اور مسافر کے لئے تین دن اور تین رات.رابعاً اگر برف زیادہ پڑھی ہو یا تیز بارش ہورہی ہو ,آندھی چل رہی ہو ,تیز بجلی کڑک رہی ہو تو ایسی صورت میں مؤذن کو حکم دیا گیا ہے کہ دوران اذان ” الا صلوا فی الرحال” کی صدا بلند کرے.یعنی نماز گھروں میں ادا کریں.سردیوں کے ایام میں و دیگر مشکل حالات سے نمٹنے اور ان میں شرعی احکامات پر کامل طریقے سے عمل کرنے کے لئے فقہاء کرام نے اس اصل کو بھی مرتب کیا ہے کہ "الضرورات تبيح المحضورات”.شریعت اسلامیہ نے "لا اكراه في الدين” قاعدے کے تحت اپنے متبعین کو یہ تلقین و تاکید کی ہے کہ ‘لوگوں کے سامنے دین آسانی سے پیش کرو,لوگوں کو خوشخبری سناؤ اور انہیں متنفر نہ کرو”.سفر کی حالت میں شریعت نے ہمیں قصر کرنے کا حکم دیا نیز جمع تقدیم و جمع تاخیر کی گنجائش بھی رکھی ہے.صحیح الاسناد روایت سے یہ عمل بھی ثابت ہے کہ اگر مرو و عورت پر غسل جنابت فرض ہوچکا ہو تو انہیں وضوء کرکے ہی کوئی چیز کھانی چاہئے یا آرام کرنا چاہئے لیکن مستحب یہی ہے کہ غسل ہی جلدی کیا کریں.خلاصہ کلام یہی ہے کہ اہل اسلام کو چاہئے کہ علم و علماء سے تعلق قائم کرکے اس موسم سرما سے نفع حاصل کریں.اسکے علاوہ امت کے ائمہ کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ دوران امامت مختصر قرات کریں ,نماز میں تخفیف سے کام لیں کیونکہ ان کی اقتداء میں بچے ,بوڑھے,ضعیف,کمزور,حاجت مند …سبھی ہوتے ہیں اور جب انفرادی نماز پڑھے تو قیام و طول میں رخصت ہے.جو شخص کھڑے ہوکر قیام نہیں کرسکتا اسے رہبری کی گئی کہ "صل قائماً فان لم تستطع فقاعداً فان لم تستطع فعلی جنب”. اگر کھڑے رہنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے.
اسلام کے جس شعبے کی طرف نظر ڈالی جائے ,رحمتوں کے موتی بکھرے ہوئے نظر آئیں گے.حائضہ عورت چونکہ درد و تکلیف میں ہوتی ہے ,اسے نماز اور روزہ چھوڑنے کی عظیم رخصت دی گئی .ان مخصوص ایام میں بیوی سے مباشرت کرنے  کو حرام قرار دیا گیا تاکہ اللہ کی بندیوں کے درد میں مزید اضافہ نہ ہو.سیرت نبویہ پر عمل کرکے ان ایام میں شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کا خیال رکھے اور اس کی خدمت کرے.اس سے کھیلے اور ہنسانے کی کوشش کرے.علامہ البانی رحمہ اللہ و دیگر محدثین نے ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے جن میں ان پڑھ افراد کو تعلیم دی گئی کہ اگر انہیں قرآن یاد نہ ہو تو وہ نماز میں "سبحان اللہ,الحمد للہ,لا الہ الا اللہ,واللہ اکبر ,ولا حول ولا قوۃ الا باللہ” کا ورد کریں.اسی طرح روزے میں افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر (مخصوص شرائط کے ساتھ) اس بات کی شاہد ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو راحت و آرام پہنچانا چاہتا ہے.احادیث صحیحہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ رب العزت نے چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر کتنا اجر رکھا ہے .لیکن ہم ہی رجوع کرنے کے لئے تیار نہیں.
دیکھنے میں آیا ہے کہ موسم سرما میں لوگ مساجد کا رخ عبادت کی غرض سے نہیں بلکہ غیبت کے غرض سے کرتے ہیں.ثانیاً مساجد سے جڑے ہوئے حمام میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر تنقید,ایک دوسرے کی عیب جوئی کرنا معمول سا بن گیا ہے.گرم حمام میں بیٹھ کر گرمی حاصل کرکے سیاسی و مذہبی مسائل Discuss کئے جاتے ہیں جس سے تحذیر لازمی ہے.ابن آدم وقت کو ضایع کررہا ہے.یہی وقت اگر مطالعہ ,تلاوت اور ذکر و اذکار میں گزرتا تو انسان اپنی قدر و منزلت کو پہچان سکتا تھا.گھر والوں سے بداخلاقی ,بچوں سے غیر شائستگی گھر گھر کی کہانی ہے جس سے اجتناب لازمی ہے.
اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں قرآن و سنت کا علم عطا کرکے اس پر عمل کرنے کی توفیق سے نوازے….آمین یا رب العالمین.