اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل سولہواں

39
پروفیسر مختار فرید بھیونڈی
پروفیسر مختار فرید بھیونڈی

پروفیسر مختار فرید بھیونڈی

  1. نسل ، قومیت یا مذہب کی بنا پر کسی بھی حد کے بغیر پوری عمر کے مرد اور خواتین کو شادی کرنے اور کنبہ بنانے کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ شادی ،  اورشادی کے بعد  اور اس کے تحلیل ہونے پر بھی ہر طرح کے  مساوی حقوق کے حقدار ہیں۔
  2. شادی صرف میاں بیوی کی آزادانہ اور مکمل رضامندی کے ساتھ ہوگی۔
  3. خاندان معاشرے کی فطری اور بنیادی گروپ کی اکائی ہے، معاشرے اورحکومت کے ذریعہ تحفظ کے حقدار ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل سولہواں  اور قرآن۔

قرآن میں خاندان کے تقدس کو واضح طور پر پہچان دئی گئی  ہے ، جس میں ہر ایک کی  برابری کے مابین تعلقات کو مفاہمت کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے ایسے موقع پر خواتین کو طلاق کے حقوق کی بھی ضمانت دی تھی جب ان کو  روایتی رواج  سے اس بات کا کوئی حق نہیں  تھا۔ نکاح اور طلاق  کا موضوع قرآن پاک میں متعدد مقامات پر مکمل طور پر بیان کیا گیا ہے ، نیز نبی. کے اعمال یا ان کے اقوال میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر زیادہ تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ، اور حقیقت میں یہ  تحریر اور وضاحت ،  کئی صفحات پر مشتعمل  ہوگی۔ اس لئے ،ہم صرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل سولہ پر توجہ دیں گے۔ اسلام میں شادی کا حق دلہا دلہن دونوں کو پورے انصاف کے ساتھ دیا گیا  ہے۔ یتیموں سے شادی کرنا ہے یہ پہلا حکم ہے  ، تاکہ معاشرے کے کمزور طبقے کی حمایت ہو۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کے مضمرات ، اور  عملی نفاست کو دیکھیں ، آئیے  یہ دیکھیں کہ عمل کی پیروی یا شروعات کس طرح کی جائے گی۔

اس کی سب سے اچھی مثال پیغمبر  ﷺکی پہلی شادی خوالید  بن اسد کی بیٹی  حضرت خدیجہ کے ساتھ ہے۔ شادی کے وقت محمد  ﷺکی عمر پچیس سال تھی اور حضرت  خدیجہ کی عمر چالیس سال تھی۔ اُن  کی شادی  پچیس سال تک یکجہتی کے ساتھ رہی جب حضرت خدیجہ کا انتقال نہ ہوا۔ محمد ﷺ  حضرت خدیجہ  کے ملازم تھے  اور اُنھوں نے محمد ﷺ کو دیانتدار ، نیک سلوک اور قابل احترام پایا  اور اس طرح انھوں  نے محمد ﷺ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر لڑکیوں کی طرف سے کوئی تجویز پیش کی جا سکتی ہے ،  تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے، اور خاندان کے سر براہ کولڑکی  کی پسند کی تصدیق ہوجائے تو اس بات کو بعد تحقیق قبول کر لینا چاہیے ۔یہ نمونہ ہے کہ لڑکی اپنی پسند کا اظہار کر سکتی ہے اور یہ آزادی لڑکیوں کو حاصل ہے۔ 

نکاح میں ، لڑکی کے انتخاب کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے ، اس کے لئےہم دوبارہ نبی ﷺ کا قول نقل کریں گے۔ بُریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ ایک نوجوان عورت  نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا ، میرے والد نے مجھ سے اپنے بھائی کے بیٹے (یعنی اس کے کزن) سے شادی کروائی، تاکہ اس کا رسوخ اپنے قبیلے قائم رہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معاملہ اسی کے  ہاتھ میں سونپ دیا ،  یعنی اس بات پر زور دیا کہ نکاح کی توثیق  عورت   کی منظوری پر مشروط ہے اور اس کے انکار سے اس کی نفی کردی جاتی ہے۔ تو اس نے کہا ، میں نے اپنے والد کو  اجازت  دی  اور توثیق کی ہے  مگر میں جاننا چاہتی تھی اور   خواتین کو یہ واضع کرنا   چاہتی ہوں کہ باپ ان معاملات میں اپنی بیٹیوں کوخود  کی مرضی پر مجبور نہیں   کر سکتے ہیں۔ مزید لازمی مہرکے ذریعہ بیوی کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ، جس کی ادائیگی اور اس پر مرد فرض قرار دی گئی ہے  ،  مہر کی  قیمت پر  لڑکی اور لڑکی کے سرپرست سے اتفاق کرنا پڑتا ہے۔ قرآن مجید نے عورت کو  مہر دینا لازم قرار دیا ہے جس کو شادی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

قرآن سور  ۃالنساء آیت نمبر ۴ میں فرماتا ہے، اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ  دے دو پھر اگر وہ اس میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ معاف کر دیں  یا دے دیں تو تم اسے مزہ دار خوشگوار سمجھ کر کھاؤ۔

اسطرح  اسلام نا صرف عورتوں کو  بلا تفریق رنگ و نسل اپنے پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے  بلکہ  اسے  ایک طرح کی مالی مدد کی  بھی تاکید کرتا ہے ، اور مہر کو فرض قرار دیتا ہے۔ 

یہ اقوام متحددہ کے انسانی قوانین کو حق اور تصدیق کرتا  ہے بلکہ عورتوں کو ایک طرح کی  فنانشیل  سیکورٹی بھی مہیا کراتا ہے یہ عورت کو مہر دے کر مالی تحفظ کی تصدیق کرتی ہے ۔ انسان کی حیثیت کے مطابق مہر   کی قیمت  ہو ، اور کافی ہونا چاہئے تاکہ  عورت  خود کفیل ہو  اور وہ  اپنا کچھ کاروبار کرسکے۔

کچھ لوگوں نے مہر کو مذاق بنا یا ہے، مہر اسقدر کم  دیتے ہیں کہ اس  سے عورت کی کوئی مالی تحفظ ممکن نہیں۔ اگر ہم قرآن کو سمجھیں جس میں اللہ نے مثالیں صرف ہمیں پڑھنے کے لئے نہیں دی ہیں بلکہ اس پر غور فکر کرنے کے لئے دیں ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مہر  کا ذکر سورۃ القصص آیت نمبر ۲۷ میں آتا ہے۔ اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے) کہا "میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا تم اِن شاءاللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے”

یہ آٹھ سال کی تنخواہ ہے! اس پر بھی  ہم کو  غور کرنا چاہئے۔ تاہم ، اسلام لوگوں پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا ہے کہ  زندگی  ان پر سخت ہوجائے۔

سورۃ النساء  ، آیت نمبر تین میں شادی کا حق بالکل واضح ہے۔ اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو ، تین ، چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو، یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے۔

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ ، "یتیموں” سے شادی پہلی پسند تاکہ   ان کا  لئے ایک سہارابن سکے کیونکہ یہ  ایک  کمزور طبقہ ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن نے چار بیویاں بیاہ کرنے کی اجازت دی ہے ، لیکن سخت شرطوں کے ساتھ ، تمام بیویوں میں انصاف فراہم کرنا ہے۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ قرآن سے پہلے کسی بھی مذہبی  کتاب میں تعداد اجواج پر کوئی پابندی نہیں عائد کی قرآن نے اس پر پابندی لگائی ہے، اور ایک بیوی پر زور دیا گیا ہے، کہ ان سے انصاف سے پیش آو، ساتھ ہی ساتھ سورۃ النساء میں آیت نمبر ۱۲۹ میں فرماتا ہے کہ بلا شبہ تم انصاف نہیں کرسکتے ہو۔

بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے لہٰذا (قانون الٰہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اِس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ 

جو لوگ قرآن سے متفق ہیں ، اور وہ  اس کے احکمات سے ڈرتے ہیں اور اسے سمجھتے ہیں کہ ایک سے زیادہ شادی کی اجازت مشروط طور پر دی گئی ہے ،  اور جو شرائط رکھی گئی ہیں وہ خود قرآن کے مطابق ہی سب سے مشکل ہیں اور اس طرح ، صرف ایک ہی بیوی سے شادی کرنا ہی انتخاب کا باقی رہ گیا ہے۔

خاندان معاشرے کا فطری اور بنیادی گروپ کی اکائی ہے اور معاشرے اور حکومت کے ذریعہ تحفظ کا حقدار ہے۔ قرآن کے احکامات کے رو سے کنبہ کے ساتھ رشتوں کو توڑنا  ایک بہت بڑا گناہ ہے ، اور اس طرح خاندانی سالمیت کا احترام کرنا ضروری  ہے۔اللہ سورة الإسراء آیت نمبر ۲۶ میں فرماتا ہے، رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو اور  فضول خرچی نہ کرو۔ 

اللہ سورۃ النساء آیت نمبر ۱ میں فرماتا ہے، لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔

یہ آیت اکثر جمعہ کے خطبے میں پڑھی جاتی ہے، مگر آیت تو رسماً پڑھی جاتی ہے، بغیر اس بات پر غور کئے کہ اللہ کیا کہہ رہا ہے؟ قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو، اس کے بعد اللہ ایک وارنگ دیتے ہیں، یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔یہ بات اگر ہم ذہنوں میں رکھیں تو یہ بات طے ہے کہ انسان اللہ کی ہدایت پر چلے گا ۔ اسی طرح اللہ سورۃ الرعد آیت نمبر ۲۵ میں فرماتا ہے، رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے۔اس بات پر غور کرو کہ اللہ کہہ رہا ہے، جو اُن رابطوں   کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ پھر آخر میں وارنگ دئی گئی ہے، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

یہ وہ آیات ہیں جن میں معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ وقار ، عزت اور احترام کو برقرار رکھتے ہوئے تعلقات کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے سخت سزا کی  تنبہی کی گئی  ہے۔

کنبہ کے تعلقات اور حدود کو برقرار رکھنے کے بارے میں مختلف حدیثیں موجود ہیں۔

جو اپنے رشتہ داروں سے صرف اس لئے تعلقات برقرار رکھتا ہے کہ وہ اس سے رشتہ قائم رکھے ہوئے ہے، وہ واقعتا رشتہ داری کو برقرار نہیں رکھتا ہے۔ بلکہ  ایک جو واقعتا ان تعلقات کو برقرار رکھتا ہے وہی ہے جو تعلقات کو توڑنے کے باوجود بھی تعلقات سدھارنے پر پہل کرتا  ہے۔ حدیث 5645 ، بخاری

اگر یہ تعلق محض تحفے  لوٹانے اور پسند کرنے کے عوض تحفے  دینا اور پہل نہیں کرنا ہے ، تو یہ رشتہ داری کے تعلقات کو برقرار نہیں رکھ رہا ہے ،  بلکہ یہ صرف اور صرف تحفوں کے لین دین ہے جو  ایک  قسم کا جواب دینا ہے۔ کچھ لوگ کسی تحفہ کے بدلے میں تحفہ دینے کے اصول کے پیچھے چلتے ہیں ، اور کسی کے  گھر ملنے کے  عوض ملنے جاتے ہیں ، لہذا اگر کوئی انہیں تحفہ نہیں دیتا ہے تو وہ اسے تحفہ نہیں دیتے ہیں ، اور اگر وہ ان سے ملنے نہیں جاتا ہے تو وہ اس سے ملنے نہیں جاتے ہیں۔ رشتہ داری کا احترام  رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے اور یہ  قرآن مجید میں یہ  ہدایت کہ رشتے کے بندھن کو قائم کا یہ مطلب بھی نہیں۔ یہ محض جواب ہے کسی کے تحفوں کا اور ان کے ملنے آنے کا۔ یہ وہ اعلی حسن اخلاق   نہیں ہے جس بلند معیار کے کردار   تک اللہ ہم کو  پہنچنے کی تاکید  کرتا ہے۔