جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتملک کے تازہ ترین حالات میں اللہ کاپیغام

ملک کے تازہ ترین حالات میں اللہ کاپیغام

ملک کے تازہ ترین حالات میی اللہ کا پیغام

    نواے قلم :اشفاق احمد القاسمی

   خادم :معھد الکتاب والسنہ سیھن ضلع نوادہ بہار

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے

تیرے بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میی

ذرا دیکھ جو کچھ ہورہاہے ہونے والا ہے

دھرا کیا ہے بھلا عھد کہن کے داستانوں میی

   قارئین عظام : دنیا کے تمام ممالک میی ہمارا یہ پیارا ملک ایک امتیازی حیثیت رکھتاہے ،ایک الگ ہی شان و مقام رکھتاہے ،اسکی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میی مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے باہم بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں ،اس ملک کی مثال اس گلشن کی سی ہے جس کو مختلف پھولوں کے ذریعہ مختلف بیل بوٹوں کے ذریعہ سجایا اور سنوار گیاہے ،اس گلشن کی زیب و زینت اور خوبصورتی انہی بیل بوٹوں پر منحصر ہے ،اب اگر ان پھولوں کو اس گلشن سے ختم کردیا جائے تو وہ گلشن ،،گلشن باقی نہیں رہے گا ،ٹھیک اسی طرح اس ملک کے گلشن میی مختلف مذاہب کے پھول اور مختلف زبانوں کے بیل بوٹے لگے ہوئے ہیں ،اور انہی پھولوں اور بیل بوٹوں سے اس ملک کی زیب و زینت اور اس کا حسن وجمال برقرار رہتا ہے ،اب اگر ان مذاہب کے پھولوں کو اس ملک سے ختم کردیا جائے تو اس ملک کے حسن و جمال میی زوال آجائے گا ،اس کی امتیازی حیثیت ختم ہوجائے گی ۔

 اس ملک کی ایک قدیم تہذیب ہے جس کو گنگا،جمنی تہذیب سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی آپس میی بھائی چارگی ،پیار ومحبت ،اخوت وہمدردی ۔

 جس کا نعرہ ہے ,,ہندومسلم سکھ عیسائی ،ہم آپس میں ہیں بھائی بھائی ،،۔۔

لیکن چند سالوں سے کچھ شدت پسند ،چنگیز وہلاکو جیسی ذہنیت رکھنے والے لوگ اس ملک میی جنم لےلئے ہیں ،جو اس خوش گوارفضاکو مسموم کرنے کیلے انتھک کوشش کررہے ہیں ،اور اس قدیم تہذیب کو مٹاکر جو رشتے کل تک دودھ اس پانی کیطرح پیوست تھے انہیں الگ الگ کرنے کی گھناونی سازشیں کررہےہیں ،ہندومسلم کے مابین عداوت و دشمنی کی دیوار قائم کررہےہیں ،نفرت کی فضا پیدا کررہےہیں ،جس کے نتیجے میی پورے ملک میی ہر طرف سے نفرت کی آگ دیکھائی دے رہی ہے ،دشمنی کی شعلے بلند ہورہے ہیی پوری فضا زہر آلود ہوچکی ہے ،اخبارات کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں اس دشمنی کی آگ بھٹرکتی دکھائی نہ دے رہی ہو ،کوئی دن ایسا خالی نہ جاتا جس میں مسلمانوں کو دھمکی نہ دی گئی ہو ،لو جہاد کے نام پر نئی نسلوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہاہے ،دہشت گردی کے الزامات میی نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے ،دھرم پریورتن کے نام پر مسلمانوں کے ایمان سے کھواڑ کیا جارہا ہے ،ملک سے نکلنے کی دھمکی دی جا رہی ہے ،راتوں رات مسلمانوں کی بستیاں نزر آتش کی جا رہی ہے ،مسلمانوں کی جائداد ان کی ذاتی پروپٹی بن چکی ہے ،اسلام کے شعائر کے ساتھ تمسخر کرنا مذاق اڑانا ،بے حرمتی کرنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے ۔

 مسلمانوں ؟ ایسے پر خطرناک حالات میی ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ رب کائنات کی کتاب کی جانب رجوع کرنے اور اس میں غوطہ زن ہونے کی ضرورت ہے ،کہ کیا ایسے پر خطر حالات میں بھی اللہ تعالی ہماری رہنمائی کرتا ہے ؟

 جب ہم قرآن کریم پر گہری نظر ڈالتے ہیں تو قرآن مجید کی والے آیت جو بڑے واضح انداز میی ہماری رہنمائی کرتی نظر آتی ہے ،اسلیے کہ یہ قرآن مجید قیامت تک کے لوگوں کی رہنمائی کےلیے اتارا گیا ہے ،یہ زندہ جاوید کتاب ہے ،جو ہر زمانے میی ایمان والوں کی رہنمائی کرتی ہے ،چناچہ اس آیت میی امم ماضیہ کے اپنے انبیاء اور ان کے متبعین کو دھمکی دینے کا مضمون ہے ،ٹھیک جس طرح ان لوگوں نے اپنے انبیاء اور ان کے متبعین سے کہا :

    وقال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا او لتعودن فی ملتنا فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظالمین ۔

 اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنی زمین اور علاقے سے نکاح دیں گئے ،یاتم ہمارے دین میی لوٹ آؤ چنانچہ اللہ تعالی نے ان کو حکم دیا کہ ہم ظالمین کو ہلاک کرنے والے ہیں ۔

یعنی کہ ہم تمہیں اپنے علاقے سے اپنی بستی سے اپنے ملک سے ضرور بھگادیں گے اسی طرح آج ہمیں یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ تم اس ملک کو چھوڑ کر چلے جاؤ،ورنہ ہم تم کو اس ملک سے نکال پھینکیں گئے ، طرح طرح کے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیی ،کسی کو دہشت گرد تو کسی کو پاکستانی کہ کر ایرسٹ کیا جارہے ،تو کسی کو بنگلہ دیشی کہ کر شہریت ختم کرنے کی منظم سازش کی جارہی ہے ۔

اور جب یہ نہیں کرسکے یعنی امم ماضیہ اپنے ملک سے انبیاء اور ان کیے متبعین کو نہیں نکال سکیں تو دوسرا اوپشن یہ دیاکہ اولتعودن فی ملتنا کہ تم اپنے پرانے مذہب پر لوٹ آؤ ،ہمارے مذہب کو اختیار کرلو۔

آج یہی ہم سے کہا جارہاہے کہ تم ہمارے دین کو اختیار کرلو،اپنے باپ داداؤں کے دین پر لوٹ آؤ،اور اس کا نام بھی بڑا اچھارکھا ہے جو ان کے قول لتعودن سے مناسبت بھی رکھتا ہہ کہ دھرم پرورتن یعنی سابقہ دین پر لوٹ آنا ۔

اب اے ہندی مسلمانوں :اگر تم اپنی شریعت و دین پر قائم رہے اور طاغوتی طاقتوں کا انکار کرتے رہے تو جس طرح اللہ کا پیغام لنھلکن الظالمین یعنی ہم ظالموں کو ہلاک کردینگئے ان پر صادق آیا انشاءاللہ ان ظالموں پر بھی صادق آئے گا ،مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پہلے پکے سچے مسلمان بن جائیں ،اپنے چہرہ انور پر نبی کریم ﷺکا نور سجالیں اپنے دل کو ایمان کے نور سے منور کرلیں اس اس بات کا اعلان کردیں کہ آج سے ہم اس ہمارا سب کچھ اللہ تعالی کیلے قربان ہے ۔

        ان صلاتی و نسکی و محیای و ممتاتی لللہ رب العالمین

    (یقینا میری نماز،میری قربانی ،میرا جینااور میرا مرنا اس پروردگار کے لے ہے جو تمام جہانوں کا رب اور پروردگار ہے)

پھر دیکھیں اللہ رب العزت کس طرح اپنی مدد اس نصرت کے دروازے ہم پر کھولتا ہے ۔

    فضائے بدرپیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

    اترسکتے ہیی گردوں سے قطاراندر قطار اب تو

   اشفاق احمد القاسمی

۲۶جمادی الثانی ۱۴۴۳ھجری

بروز سنیچر

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے