کیا عورت بھی قربانی کا جانور ذبح کرسکتی ہیں؟

51

۔ اسلام نے عورت پر فقط پردہ کو فرض کیا تھا اور کیا ہے،پردہ اور اسلامی حدود و قیود میں رہ کر جائز امور سے منع نہیں کیا تھا،لیکن آج معاشرے میں نہ یہ کہ صرف عورت سے ان کے فقط عورت ہونے کی بنا پر بہت سارے حقوق چھین لیے گئےہیں بلکہ ترقی یافتہ اس دور میں مرد حضرات بھی بڑے فخر سے کہتے ہیں،میں تو جاھل ہوں،یہ کام فقط مولوی،مولانا اور فضیلت الشیخ ہی کرسکتے ہیں۔

آج بھی عوام ،پڑھے لکھے سے مراد صرف ان حضرات کو ہی سمجھتے ہیں، جنہوں نے کسی مکتب،مدرسہ،جامعہ،کالج اور یونیورسیٹیوں کا دورہ کیےہوں،اگر کسی نے گھر بیٹھے ہی تعلیمی وسائل کو اپنا کر قرآن حفظ کیا،ان علوم و فنون کو پڑھا جسے پڑھنے کیلئے لوگ دور دراز کا سفر کرتے ہیں،تب بھی وہ لوگوں کے نزدیک عالم نہیں ہیں،لوگ انہیں مولوی اور فضیلت الشیخ نہیں مانتے ہیں،ان سے قربانی اور عقیقہ کا جانور ذبح نہیں کرواتے ہیں۔

۔قارئین کرام:مدارس،جامعات،کالج اور یونیورسیٹی کا تعلق علم سے ہوسکتاہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جن کا تعلق ان جگہوں سے ہوں،فقط وہی عالم اور مولانا ہوں گے،آج کے اس ترقی یافتہ دور میں تقریبا ہر شخص انٹرنیٹ یوز کرتاہے، بڑی سہولت کے ساتھ ہرزبان میں ہم دین کے متعلق مواد حاصل کرسکتے ہیں اور بڑی آسانی کے ساتھ ہم وہاں سے سیکھ سکتے ہیں،اگر آپ کسی مسئلے کو سیکھ جاتے ہیں تو آپ اس مسئلے کے عالم ہیں۔

لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہم دین کے بنیادی تمام مسائل کو جاننے کےباوجود بھی جہالت کا بہانہ بناکر دین سے بہت دور ہوچکے ہیں،ابھی قربانی کے ایام بہت قریب ہیں،ہرشخص قربانی کے تعلق سے مضامین لکھ رہے ہیں،سوچا میں بھی ایک مسئلہ کی وضاحت عصر حاضر کے تناظر میں کردوں،میں اپنے گاوں میں ہرسال قربانی کے پہلے دن بیس ،پچیس جانور تک ذبح کر ہی دیتاہوں،جن گھروں میں قربانی کرتاہوں ان کے یہاں تمام مسئلے مسائل کو جاننے والے مرد و خواتین بھی ہوتےہیں،عالمت اور فضیلت کے کلاسوں میں پڑھنے والے ان کے بیٹے اور بیٹیاں ہوتے ہیں،لیکن قربانی فقط ان ہی سے کرواتے ہیں جو مولوی کےنام سے مشہور ہوتے ہیں۔

۔ قارئین کرام :مرد حضرات جو مولوی کے نام سے مشہور ہوں یا نہ ہوں ،وہ بھی قربانی کرسکتے ہیں،انہیں اپنے قربانی کےجانور خود سے ہی ذبح کرنے چاہئے،یہی افضل ہے،نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سینگوں والے،دوچتکبرےمینڈھے ذبح کیے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا(صحیح بخاری،کتاب الاضاحی،باب التکبیر عندالذبح 5565)نیز حجةالوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیےتھے،اور یہ عمل اس لئے بھی افضل ہے کہ یہ فعل تقرب الہی کا باعث ہے،اور ایسا فعل جو قربت الہی کا سبب ہو،اس میں نائب مقرر کرنے کی بجائے اسے خود سرانجام دینا بہتر ہےیہ مسئلہ تو بہت حد تک شاید سب کو معلوم ہی ہوگا،دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ گھر کی عورتیں بھی قربانی کرسکتی ہیں،اگر وہ قربانی کرنا جانتی ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے کی خواتین قربانی اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں،شریعت کے اعتبار سے جو کام مرد کرسکتاہے،وہ عورت بھی کرسکتی ہے،الا یہ کہ اس کی ممانعت کی دلیل آجائے،سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نےاپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں خود ذبح کریں(فتح الباری25/10)۔

مختصر یہ کہ اگر آپ کو قربانی ذبح کرنے کی لمبی دعا یاد نہ ہو تو مختصر سی دعا پڑھ کر خود سے ذبح کریں،کسی مولوی سے تبرک سمجھ کر ذبح نہ کروائیں،افضل یہی ہے کہ آپ خود سے ذبح کریں،اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین یارب العالمین