قربانی کب اور کیوں واجب ہوئی؟

38

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریر۔۔ محمد سلمان ایوبی عمادپوری

ہو مبارک شب برأت عیدالاضحی عیدالفطر
ایسی خوشیاں زندگی میں بار بار آتی رہیں

عیدالاضحی اسلام کے دو عظیم تہواروں میں سے ایک تہوار ہے جسے نہایت ہی پر وقار انداز سے منایا جاتا ہے اسلامی تہوار متانت، سنجیدگی، وقار، کا بہترین شاہکار ہے نبی اکرم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس کی مثالیں قائم کی*

*ذی الحجہ کا مہینہ ،*

*اس میں جہاں اور بہت سے تاریخی واقعات نظر آتے ہیں وہیں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا تاریخ ساز واقعہ اپنی مثال آپ ہے ۔۔ دونوں باپ بیٹے کی یہ فقیدالمثال قربانی عظمت وعزیمت کا ایک ایسا نادر اور محیر العقول واقعہ ہے جس سے انسانی عقل حیرت زدہ ہوکر رہ جاتی ہے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے اس عمل کو اللہ نے ایسا پسند فرمایا کہ قیامت تک آپکی یاد کو امت میں زندہ رکھنے کا حکم دے دیا، اور اس کی نقل کرنے کو محبوب عبادت قرار دیکر بندوں پر لازم کر دیا، قربانی تمام امت کے لۓ واجب اور ضروری ہے۔۔*

*آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا*
*آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا*

*قربانی کی تعریف۔۔۔*

*مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے ۔۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جو اس امت کے لۓ باقی رکھی گئ ہے، حضور پر نور سرکار دو عالم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا حکم دیا گیا، باری تعالی کا ارشاد ہے ( فصل لربك ونحر ) یعنی نماز پڑھو اپنے رب کے لۓ اور قربانی کرو ،*

*قربانی احادیث کی روشنی میں۔۔*

*۱۔۔حضور اقدس محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) میں ابن آدم کا کوئ عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے ) سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ بال اور کھروں کے ساتھ آۓگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک قبول ہو جاتا ہے، لہزا اسے خوش دلی سے کرو ( ابو داؤد۔ ترمزی )۔۔*
*۲۔۔حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں دس سال رہے اور اس عرصہ میں آپنے ہر سال قربانی فرمائ ( مشکوة ترمزی ) ۔۔*
*۳۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ آتش جہنم سے بچ چائیگا ۔۔*

*یہی وجہ تھی ایک مرتبہ نبی اکرم محمد عربی صلی اللہ تعالا علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم فرمایا اۓ فاطمہ ! جاؤ ، اپنی قربانی پر حاضری دو ، کیونکہ اس کے خون سے جونہی پہلا قطرہ گریگا تمہارے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے نیز وہ جانور قیامت کے دن اپنے خون اور گوشت کے ساتھ لایا جائیگا پھر اسے ستر گنا { بھاری کرکے } تمہارے میزان میں رکھا جائیگا۔ حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ { فضیلت } آل رسول کے ساتھ خواص ہے یا آل رسول کے ساتھ تمام امت مسلمہ کے لۓ عام ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ فضیلت آل محمد کے لۓ بطور خواص ہے اور تمام مسلمانوں کے لۓ بھی عام ہے: یعنی ہر مسلمان کو بھی قربانی کے بعد یہ فضیلت حاصل ہوگی۔۔*

*قربانی ایک اہم عبادت بھی ہے اور شعار اسلام سے ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب تک* *مدینہ‌میں رہے ہر سال قربانی کی۔*قربانی ہر‌اس,شخص پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہو خواہ وہ دنیا کے کسی حصہ میں رہتا ہو*

*ذالحجہ کے مہینہ میں بال اور ناخون کاٹنے کا حکم۔۔*

*جوشخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو   اس کے لیےذی الحجہ کاچاند ہوجانے کے بعد بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب اور باعثِ ثواب امر ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے: ’’حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ماہ ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے‘‘ (صحیح مسلم )*

*قربانی کے فوائد*

*قربانی کے معاشی لحاظ سے بہت سے فائدہ ہیں ۔ قربانی کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے ۔ جس سے بہت سے انسانوں کو قوت بخش غذا نصیب ہو جاتی ہے لاکھوں قربانی کے جانور ذبح کرکے اسکی اجرت پا لیتے ہیں ۔۔*

*اسی طرح قربانی کا عمل اپنے اندر ظاہری طور پر بھی بہت سے فائدہ رکھتا ہے ۔ اور اس کا سب سے بڑا فائدہ تو روحانی ہے ، جس کا اثر اس عمل کا کو انجام دینے والوں کو حاصل ہوتا ہے ۔۔*

والسلام

محمد سلمان ایوبی ابن مولانا محمد طیب قاسمی ڈائریکٹر جامعہ حضرت فاطمہ عالم پور راۓپور ضلع سہارنپور