کوروناوائرس کی کامیاب ویکسین تیار،مفتی ہمایوں اقبال ندوی

16

کوروناوائرس کی کامیاب ویکسین تیار،مفتی ہمایوں اقبال ندوی
ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)
انجکشن ہو یا آپریشن ،یہ دونوں طریقہ علاج کا آج ایک عام رواج ہے۔بیشماربیماروں کواس کےذریعے صحت اورنئی زندگی مل رہی ہے۔زخموں پر مرہم رکھنا جتنا ضروری ہے اس پر ٹانکے لگانا کہیں اس سے زیادہ ضروری کام ہے،جب یہی زخم ناسوربن جاتا ہے،پھر آپریشن کی نوبت آجاتی ہے،یہ آخری شکل نہایت نازک ہےمگرایک انسانی جان کی حفاظت کے لئےضروری اورناگزیرہے۔ہماری تمہیدی گفتگو مرہم سے شروع ہوئی تھی،اور آپریشن تک پہونچ گئی ہے،مگرہمیں نہیں معلوم کہ یہ بتدریج مرحلہ وار کس کی یافت ہے ؟اور کس نے اس اہم کارنامہ کو انجام دیا ہے؟آج کی تاریخ میں بہتوں کونہیں معلوم ہےکہ اس کی ابتدا کس نے کی ہے اور باضابطہ آپریشن کو فن کی شکل کس نے دی ہے؟مگرہاں!اس فن کے پڑھنے والوں کو معلوم ہے وہ
شخص ابوالقاسم زہراوی ہیں،جوایک مسلمان ہیں، دنیا آج بھی فن جراحت کاانہیں امام کہتی ہے۔زہراوی نے اس موضوع پر” التصریف "نامی اپنی مشہورزمانہ کتاب تصنیف کی ہے ، پوری دنیا اس سے مستفید ہورہی ہے،یہ حصولیابی چونکہ ایک مسلمان کی ہے اس لئےیہاں پر اس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ بے محل نہیں ہوگا،جسمیں آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:”کوئی بیماری ایسی نہیں ہے جسکی دوا نہیں ہے "(حدیث )
یہی حدیث زہراوی کے سامنے اور پوری دنیا کے محققین کے سامنے رہی ہے،اسی سے فن طب میں سوچتے رہنے اور تحقیق کرنے کی غذا ملتی ہے اور کامیابی کی دہلیز پرایک انسان قدم رنجہ بھی ہوا ہے۔
جہانتک انجکشن کی بات ہے تووبائی امراض میں اس کی بالخصوص شدید ضرورت ہے۔پوری دنیا کسی ایک ہی وباسے بیک وقت متاثررہی ہو، اس کی مثال نہیں ملتی ہے،البتہ چیچک جیسی وبائی بیماری کم وبیش پوری دنیا میں قدر مشترک رہی ہے،اس عنوان پر بھی ایک مسلمان کا سر فخرسے بلند ہوجاتا ہے، اور خدا کے سامنے سجدہ شکر ادا کرنے لگتا ہے، وہ اس لئے کہ ایک مسلمان ہی نے چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا ہے،دنیا اس کے موجد کو محمد بن زکریا کے نام سے جانتی ہے،انسائکلوپیڈیا برٹانیکا میں اس کاصریح اعتراف بھی موجود ہے ۔فن طب کے اس تحقیقی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے،آج کوروناکے نام پر پوری دنیا کو اضطراب میں ڈال دینے والےوائرس کو لگام پہنانے کا کام بھی ایک مسلم جوڑے نے انجام دیا ہے۔
کوروناوائرس دنیا ئے انسانی کے لئے یہ سب سے بڑا مہلک وائرس ثابت ہوا ہے،یہ وائرس اپناسفرتیزی سے کرتاہے اور پوری دنیا میں اپنا وجود رکھتا ہے، اور اپنی شکل بھی بدلتا رہتا ہےجسکی وجہ کر کسی بھی گرفت سے باہر ہے،یہی وجہ یے تقریبا سال بھر کا عرصہ مکمل ہونے جارہا ہے کہیں سے کوئی کامیاب ویکسین کی اطمنان بخش جبر موصول نہیں ہوسکی ،ادھر اموات کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے،تنہاسپر پاور ملک امریکہ کا یہ حال ہے کہ اس وائرس سے مرنے والوں کی تعدادوہاں ڈھائی لاکھ ہے،ایک کروڑ سات لاکھ آٹھ ہزار سے زائد لوگ اس وائرس کے شکار ہیں ،اپنے ملک ہندوستان کی بھی حالت اس معاملے میں اچھی نہیں ہے،ہر آدمی پراس وائرس کا خوف نمایاں ہے،اسی لئےابھی بہار اسمبلی انتخاب میں ویکسین کو سیاسی ہتھکنڈہ بھی بنایا گیا تھا،اورمفت ویکسین دینے کی بات باضابطہ انتخابی منشور میں کہی گئی ہے،جبکہ الیکشن سے قبل کوئی کامیاب ویکسین نہیں بن سکی تھی،لیجئے آج یہ ویکسین تیار ہے اور اس کا سہرہ بھی ایک مسلمان سائنسداں جوڑےکے سرجاکر بندھ جاتا ہے ،جی ہاں! ڈاکٹر اوگر شاہین اور ڈاکٹراوزلم تورجی میاں بیوی ہیں،یہ دونوں ترک نزادہیں اور مسلمان ہیں،اسوقت جرمنی میں آباد ہیں،میڈیکل ریسرچ میں ان دونوں کو جنون کی حد تک لگاو ہے،اسی کا نتیجہ ہےکہ پوری دنیا اس عجیب الخلقت وائرس کی کا میاب ویکسین تیار کرنے میں حیراں سرگرداں تھی، اور کامیابی انہیں دونوں کو ملی ہے،جرمنی کی کمپنی بائیون ٹیک اور امریکی کمپنی فائزر کی مشترکہ کوشش سے تیار ہونے والی یہ ویکسین دراصل انہیں دونوں میاں بیوی کی مشترکہ کاوش ہے،ابتدائی تجربے ہی میں اس کے نوے فیصد بہتر نتائج آئے ہیں،اورعنقریب اس دواکی اجازت عام ہونے والی ہے۔اس خبر کوانقلابی اخبارروزنامہ انقلاب نے مورخہ ۱۱/نومبر ۲۰۲۰ءکو اپنے پہلے صفحہ پر شائع کیااور جناب شکیل شمسی صاحب نے پر مغز اداریہ بھی اس عنوان پرتحریر فرمادیا ہے، مگر افسوس کی بات تو یہ ہےکہ اتنی اہم خبر پر ہماری توجہ مبذول نہیں ہوسکی ہے،یہ ہماری بے حسی اور احسان فراموشی یے،ہمیں اس مسلم جوڑے کا ممنون ومشکور ہونا چاہئے اور اس موضوع پر مزید لکھنے اوربولنے کی بھی ضرورت ہے ۔