اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل بارہ تیرہ، چودہ اور پندرہ اور قرآن

18

یہ آرٹیکل کی تشریح لکھتے ہوئے قلم لرز گیا اور دل اللہ کے احساس تشکر سے بھر آیا ۔ قرآن ایسی ایسی باریک ناقابل تصور ہدایتوں سے بھر پور ہے۔ جن دانشوروں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ، انسانوں کے آزاد ی اور انسانوں کو صحیح اور جائز مقام دلانے کے لئے عالمی قوانین بنائیں ہیں ، جو عالم انسانیت کے لئے امن اور شانتی کا پیغام لئے ہوئے ہیں اُن سب کے تائید قرآن کرتا ہے۔ اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ کلام خالق کا ہے جو انسانوں کی فظرت سے اچھی طرح واقف ہے۔ ایسی باریک اور چھوٹی چھوٹی باتیں قرآن میں موجود ہیں، یہ باتیں پڑھ کر عقل حیران ہے کہ اللہ نے ہمیں پیغام انسانیت عطاء کیا اور ہم نے قرآن کو چھوڑ کر اسلام کو صرف رسومات تک محدود کرلیا ہے ، یعنی نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ۔ اور اس آیت کو بھی نظر انداز کیا جس میں اللہ کے پیغمبر ﷺ اُمت کی اس حرکت کی شکایت قیامت دن اس انداز میں کریں گے۔

اور رسول کہے گا اے میرے رب بےشک میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا۔ سورۃ الفرقان آیت نمبر ۳۰

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل اور قرآن۔

آرٹیکل نمبر بارہ:

کسی کو بھی اس کے، کنبہ ، گھر یا خط و کتابت میں مداخلت کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی اس کی عزت اور وقار پر حملہ کیا جائے گا۔ ہر کسی کو اس طرح کی مداخلت یا حملوں کے خلاف قانون کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

آرٹیکل بارہ اور قرآن۔

اس بات پر یقیناً غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ نے انسانیت کے وقار انسانی عزت اور احترام کا ہر طرح سے دفاع کیا ہے ، اور ہر اُس بات کا ذکر قرآن میں کیا ہے جو انسان کو اس طرح کے حقوق عطاء کرتے ہیں۔ سورۃ النور میں اللہ آیت نمبر ۲۷ ،۲۸ اور ۲۹ میں کہتا ہے ۔

اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو او رگھر والوں پر سلام نہ کر لو یہ تہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔۲۷

پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو اپس چلے جاؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو الله جانتا ہے۔۲۸

تم پراس میں کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جہاں کوئی نہیں بستا ان میں تمہارا سامان ہے اور الله جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔۲۹

اللہ گھروں کو انسان کی راحت گاہ ، اور اطمنان نخش بناتا ہے ، لہذا اس بات کا احترام کیا جانا چاہیے کہ اپنے گھر میں اُسے کسی قسم کی پریشانی اور کسی کی مداخلت نا ہو لہذا قرآن کی یہ آیت انسان کو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کوِئی بھی کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل نا ہو۔ تاکہ گھر وں میں ، انہیں محتاط رہنے یا انتباہی کی ضرورت محسوس نہیں ہو ۔ اس طرح ، وہ آرام کر تے ہوئے کسی قسم کی کوئی بھی غیر اطمینانی اور کسی کی مداخلت کا تصور بھی نا کریں۔ گھروں میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ جب تک ان کی خلوت کا سختی سے احترام نہ کیا جائے۔ اسلئے قرآن یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ،کوئی بھی مکان میں رہنے والے کے علم اور اجازت کے بغیر ،اور جو مناسب وقت وہ منتخب کرتا ہے ، اور جس انداز میں وہ ترجیح دیتا ہے اس میں داخل نہیں ہوسکتا ہے۔

اگر ہم اجازت کے پہلے ہی دوسرے لوگوں کے گھروں میں جائیں گے ، تو ہم ان کو ان حالات میں دیکھیں گے جس کو وہ نجی رکھنا چاہتے ہیں ، یا ہم اُنھیں ایسے حالات میں دیکھ سکتے ہیں جو ہو سکتا ہے جنسی خواہش پیدا کرے ، جو گمراہی کا راستہ کھولتی ہے۔ یہ موقع اچانک بے پردہ ملاقات ، یا کسی اچانک نظر کے وجہ سے ہوسکتا ہے۔ ، اور یہ جو غیر ارادی طور پر خواہشات کو متاثر کرتی ہے پہلی غیر موتقع نظر سے پیدا ہوتی ہیں ، اور پھر ان کو جان بوجھ کر دہرایا جاتا ہے تاکہ اور مواقع فراہم ہوسکیں اور اسطرح غلط کاموں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ یہ ایک گنہگار تعلق بن جاتا ہے یا دبی خواہشات کی وجہ سے نفسانی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔

 سورۃ النور آیت نمبر ۵۸ میں اللہ مومن گھروں کے اچھے اداب بیان کرتا ہے، اے ایمان والو تمہارے غلام اور تمہارےوہ بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تم سے ان تین وقتوں میں اجازت لے کر آپ کے کمروں میں آیا کریں صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردوں کے ہیں ان کے بعد تم پر اور نہ ان پر کوئی الزام ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے پاس آجاسکتے ہو اسی طرح الله تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے۔

اس سے پہلے اسی سورۃ میں گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا مناسب طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ اب یہ سورۃ گھر کے اندر ایک دوسروں کے کمروں میں جانے کی اجازت لینے کی ضرورت پر بات کرتی ہے۔ نوکر اور وہ بچے جو کم عمر ہیں اور جو ابھی تک سن بلوغت کو نہیں پہنچے بزرگوں کے کمروں میں داخل ہونے کے لئے اُنھیں اجازت کی ضرورت نہیں ، مگر بڑوں کو کسی کے کمرے میں دن کے تین اوقات کے علاوہ جانے کی اجازت ضروری ہے ، اور بغیر دروازہ پر دستک کے اندر داخل نا ہوں۔

یہ آرام کےاوقات ہیں جب بالغ افراد کپڑے اتار سکتے ہیں۔ یہ تین مواقع ہیں،

صبح کے وقت نماز سے کچھ دیر قبل ، یعنی فجر ، جب لوگ عام طور پر اب بھی رات کے لباس پہنے ہوئے رہتے ہیں ، یا پھر وہ باہر جانے کی تیاری میں اپنے دن کے کپڑے پہن رہے ہوتے ہیں۔

دوپہر کے وقت جب لوگ آرام کے لئے زیادہ آرام دہ اور پرسکون لباس میں قلولہ کے لئے لیٹتے ہیں۔

اور عشاء کے نماز کے بعد جب لوگ سونے کے لئے رات کا آرامدہ لباس پہنتے ہیں۔

مالکان کی اجازت کے بغیر گھروں میں داخل نہ ہونا ، جب آپ سے کہا جائے کہ اُن کو تنہا چھوڑ دیں ، بغیر کسی رنجش اور احساس کے آپ واپس چلے جائیں ، اپنے زیارت کے اوقات کا بھی احترام کریں ، اسی طرح قرآن لوگوں کی رازداری کا تحفظ کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل تیرہ۔

ہر ایک کواپنے ملک کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے ملک میں نقل و حرکت اور رہائش کا آزادانہ حق حاصل ہے۔

ہر ایک کو اپنے ملک سمیت کسی بھی ملک کو چھوڑنے اور اپنے ملک واپس جانے کا حق ہے۔

قرآن اپنے دین کو بچانے کی خاطر ہجرت یعنی اپنے وطن سےنقل مکانی کی اجازت دیتا ہے ، اس بات کا یقین دلاتا ہے ، خواہ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچے یا راستے میں ہی فوت ہوجائے اسے اللہ کی راہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کی خاطر اپنے وطن سے نکلنے کا اجر ملے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہجرت مذہب کو بچانے یا خدا کی راہ میں وطن چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے ، مگر اس کے باوجود اس کی بھی اتنی ہی اجازت ہے جو رزق کی تلاش میں اپنے ملک چھوڑنے کا ارادہ کرتے ہیں، یا اپنے ذہنی سکون کی خاطر، یا انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنے ممالک میں ہراساں کیا جاتا ہے ، اور اپنے عقیدے یا مذہبی فرائض سے روک دیا جاتا ہے۔ خدا گھر سے روانہ ہونے والے ایسے مہاجر کو اجر کی ضمانت دیتا ہے۔ اللہ سورۃ النساء آیت نمبر ۱۰۰ میں فرماتا ہے۔

اور جو کوئی الله کی راہ میں وطن چھوڑے اس کے عوض جگہ بہت اور کشائش پائے گا اور جو کوئی اپنے گھر سے الله اور رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے پھر اس کو موت پالے تو الله کے ہاں اس کا ثواب ہو چکا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔

مزید اسی سورۃ میں آیت نمبر ۹۷ میں ، بات چیت سوالوں کی شکل میں اس حقیقت پر زور دیتے ہوئے تبدیل ہوتی ہے کہ جن لوگوں کے پاس حالات سے یا برے کاموں یا برے معاشرے سے بچنے کا موقع تھا وہ اپنی جگہ چھوڑ سکتے تھے۔

بے شک جو لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں توان سے پوچھا کہ تم کس حال میں تھے انہوں نے جواب دیا ہم اس ملک میں بے بس تھے فرشتوں نے کہا کیا الله کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتےسو ایسوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

ہم اس آیت میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح قرآن ، انسانی مسائل کے بارے میں حقیقت پسندانہ انداز میں ، ہجرت کرنے پر کسی کی معمول کی پریشانیوں کا ازالہ کرتا ہے جو اس وقت کے حالات میں ممکن تھا۔ اسی طرح کے حالات یا اسی طرح کی پریشانیوں میں کوئی بھی گھِر سکتا ہے جو کسی بھی وقت نقل مکانی یا ہجرت کرکے اپنے ان حالات کو بدل سکتا ہے۔یہ انداز ہمیں بہت واضح وضاحت اور نرمی کے ساتھ خطاب کرتا ہے۔ ایسی کوئی بھی چیز جس سے مہاجر خوفزدہ ہوں۔ کوئی بھی خطرہ ، بشمول موت بھی ، اس سے خارج از بحث نہیں کیا گیا ہے۔ یقین دہانی دوسرے حقائق کے ذریعہ اور خود خدا کی ضمانت کے ذریعہ فراہم کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کاآرٹیکل چودہ:

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل چودہ ہر انسان کو اس بات کی آسانی مہیا کرتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے کسی بھی خوف و ستم کے بغیر دوسرے ممالک میں گھومنے پھرنے کا اور ان سے لطف اٹھانے کا حق دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا یہ آرٹیکل بالواسطہ طور پر کسی فرد کو اپنی فنی اور جمالیاتی حساسیت سے لطف اندوزی کا پورا حق دیتا ہے۔ لہذا ، یہ حق ہر طرح سے دنیا میں اللہ کی بنائی ہوئی قدرتی خوبصورتی اور اس کی تمام شکلوں میں پائے جانے والی خوبصورتی کی قدر کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل چودہ اور قرآن:

قرآن مجید اقوام متحدہ کے اس انسانی حقوق کے آرٹیکل کے وجود کا جواز اور تائید پیش کرتا ہے۔قرآن کی سورة الأعراف آیت نمبر ۳۲ میں فرماتا ہے، کہہ دو الله کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندو ں کے واسطے پیدا کی ہے اورکس نے کھانے کی ستھری چیزیں (حرام کیں) کہہ دو دنیا کی زندگی میں یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں قیامت کے دن خالص انہیں کے لیے ہوجائیں گی اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں۔آگے آیت نمبر ۳۳ میں بیان ہوتا ہے، کہہ دو میرے رب نے صرف بے حیائی کی باتو ں کو حرام کیا ہے خواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ اور ہر گناہ کواور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو بھی اور یہ کہ الله پر وہ باتیں کہو جو تم نہیں جانتے۔

یہ آیتیں اقوام متحددہ کے آرٹیکل چودہ کی پوری طرح تائید کرتی ہیں اور ہر انسان کو اس طرح قدرتی وسائل سے لطف اندوز ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل پندرہ:

  ہر ایک کو قومیت کا حق حاصل ہے۔

کسی کو بھی اس کی اپنی قومیت سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اپنی قومیت میں تبدیلی کے حق سے انکار کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل پندرہ اور قرآن؛

پر انے دور میں ایک قبیلے کے وجود کی مخصوص شناخت یا پہچان ، آج کا دور کی "قومیت” ہے کیونکہ پہلے کی نسل کے دور میں نقل مکانی پر کوئی پابندی نہیں تھی ، اور ہر ایک کو اپنی پسند کی جگہ پر جانے کا حق تھا ، پھر بھی قرآن مجید قبیلے کے ذریعہ پہچان کے بارے میں بتاتا ہے ۔ اور قبائل کو ایک انفرادی مخصوص شناخت دیتا ہے۔ قرآن پاک نے سورۃ الحجرات آیت نمبر ۱۳ میں کہا ہے۔

ا ے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے الله کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔

ہر انسان کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا ہوا ہے ، لیکن آپ کو مختلف قبائل اور قوم میں تشکیل دے کر آپ کو انفرادی شناخت دی جاتی ہے ، یہ آپ کی پہچان کے لئے ہے۔ ان عظیم ا لفاظ میں انسانوں کی وحدت کا ایک مکمل تصور پیش کیا گیا ہے، اس کی مختلف نسلوں اور برادریوں کے باوجود انسانی وحدانیت کا تصور غالب ہے۔ قدر پیمائی کا ایک واحد معیار ، تعصب اور غلطی سے پاک ، تمام لوگوں پر لاگو ہوتا ہے۔ ان بنیادی تصورات کو پیش کرنے کا مقصد اس بات کو یقینی بنا نا ہے کہ اس عظیم دنیا میں پاکیزگی کا ایک اعلی معیار برقرار ہے، یہ آیت ایمان کا خاکہ پیش کرتی ہے جس کے ذریعہ مومنین سے اس دنیا میں امن ، انصاف انسان کا وقار قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ در حقیقت ، یہ مومنین کے ایمان کا معیار ہے جو انہیں اعتماد سے انصاف کی طرف بڑھنے اور اس کی تکمیل دیکھنے کی ضرورت پر مائل کرتا ہے۔

اللہ قرآن میں سورة المائدة آیت نمبر ۴۸ میں خدا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کو ایک ہی جماعت کے طور پر بنا سکتا تھا ، لیکن یہ ہمارا امتحان ہے تاکہ ہم تنوع ، نسل ، رنگ اور زبانوں کے فرق کے باجود ہمارے اخلاق اور انصاف کی راہ کا فائدہ اٹھاسکیں۔

اگر الله چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا لیکن وہ تمہیں اپنے دیے ہوئے حکموں میں آزمانا چاہتا ہے لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو ،سب کو الله کے پاس پہنچنا ہے پھر تمہیں جتائے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔

پروفیسر مختار فرید

بھیونڈی ۔ ۸ نومبر ۲۰۲۰