از۔محمدقمرانجم فیضی

ہاں میں ارنب گوسوامی ہوں، ری پبلک بھارت نیوز چینل کا چیف ایڈیٹر ہوں ۔گودی میڈیا کے خیمے کا سب سے بڑا دلال ہوں، میں جھوٹ بہت بولتاہوں، اگر کوئی خبر نہیں بھی ہوتی ہے تو خبر بنا دیتا ہوں، مجھے اس دوغلے کام کے لئے

پیسے ملے اور خوب ملے نام ملا، شہرت ملی. دولت ملی، عزت ملی، صحافت کے اصول، ضوابط اور اخلاق کا جنازہ میں نے نکالا۔ اور اس وقت اکثر ٹی وی نیوز چینلز مذکورہ کلیہ پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے کو جائز سمجھنے لگے ہیں ۔ ایسے چینلوں میں گودی میڈیا چینلز کا باس میرا چینل ریپبلک بھارت سب سے آگے رہا،میرا یہ چینل ٹی آر پی کے لئے لاشوں پر بھی کھیل جاتاہے اور ہاں مَیں ٹی آرپی کے لئے کچھ بھی کر سکتاہوں۔اور تو اور میں اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتاہوں، جب ممبئی پولیس کمشنر نےمیرےچینل کی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے کی جارہی غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا پردہ فاش کیا، تب سے میں بوکھلائے بوکھلائے پھر رہاتھا،کبھی میں ممبئی کے پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کو عدالت میں گھسیٹ لینے کی دھمکی دیتا تھا، اور کبھی یہ دعویٰ کرتاتھا، صرف اتنا ہی نہیں کیا میں نے.

 بلکہ سشانت سنگھ راجپوت معاملہ میں ممبئی کے پولیس کمشنرکو بھی نہیں بخشا، ان سےبھی میں نے سوالات پوچھ ڈالے اس لئے یہ ٹی آر پی کے نام پر فراڈ کا معاملہ میرے نیوز چینل ریپبلک بھارت کے سر منڈھا جا رہاہے ۔ یہ فراڈ میں نے کس طرح کیا، اور پورا معاملہ کیا ہے،

میں نے ممبئی کے پولیس کمشنر کے ذریعے لگائے گئے الزامات کے بعد جس بیان میں سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا حوالہ دیا۔میں نے عوام کو کنفیوز کرنے کے لئے اپنے آقاؤں کے حکم اور اشارے پر کھلم کھلا دعویٰ کیا کہ ممبئی کے پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے میرےمعاملے کی جو تفتیش کی ہے وہ شک و شبہ کے گھیرے میں ہے، اورمیرے سوالات کی وجہ سے پولیس کمشنر نے یہ قدم اٹھایا ،میں نے پالگھر مآب لنچنگ کا بھی خوب ذکر کیا،خوب اچھالا تاکہ ادھو ٹھاکرے حکومت کی خوب بےعزتی ہو، اور تو اور میں نے یہ بھی کہا کہ جو میرے ریپبلک نیوز چینل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس وجہ سے جھوٹی خبروں کو سچائی کے ساتھ اور زوردار انداز میں پیش کرنے کا حوصلہ ملے گا ۔مگر میں نے جو سوچا تھا اس کا الٹا ہی مجھکوجواب ملا ،

لوگ جو بھی کہیں مگر سچ یہ ہے کہ سشانت معاملے میں خوب زور شور سے جھوٹ کا پرچار مَیں نےکیا،اور خودکشی کو قتل بنا کر میں نے پیش کیا مشہور اداکارہ ریہا چکرورتی کو ملزمہ بنا کر کٹگھرے میں کھڑا مَیں نے کیا ساری فلم انڈسٹری کو سشانت کا دشمن مَیں نے قرار دیا، فلم انڈسٹری کو منشیات کا اڈا ثابت کرنے کے لیے نہ جانے کہاں کہاں سے آدھے ادھورے اور فیک نیوز بنا کر پیش مَیں نے کیا،

ہاں میں ارنب گوسوامی ہوں! میں ایک ایسا سَنگھی نیوز اینکر ہوں، جس کا دامن لاتعداد بھولے بھالے عوام کے خون اور مظلوموں کی آہوں سے لَت پت ہے، میں وزیراعظم نریندرمودی اور امیت شاہ کا منظور نظر ہوں، یہ دونوں میرے آقا ہیں، ” ری پبلک بھارت "آر۔ایس۔ایس کے ایجنڈے کو گرمانے والا آرگن میں نے بنایا ، بی جے پی کے تمام جرائم اور خونریز مظالم کو صحیح اور سچ ثابت کروانے کا ایک اڈا میں نے بنایا . مَیں نے اس چینل کے ذریعے سے مسلمانوں اور انصاف پسند سماجی کارکنوں کے خلاف ہندؤوں کو مشتعل میں نے کیا

مَیں ایک بدتمیز بدنام اور خونریزی والی نفرت پھیلانے کا کام کرنے والا شخص ہوں، مَیں انسان نہیں ہوں،مَیں شیطان ہوں مَیں صحافت کی کرسی پر بیٹھ کر لاچار مظلوموں معصوموں کی لاشوں پر اپنی ٹی آرپی کو مضبوط اور مستحکم کر رہاہوں ،ہاں مَیں ارنب گوسوامی ہوں، جس نے ہندوستانی معاشرے کو مذہبی شدت پسندی کی طرف ڈھکیلا، میں ایک گھٹیا کرمنل ریکارڈ رکھنے والا شخص ہوں، میں نے ہندو۔مسلم دنگے بھڑکانے، ماب لنچنگ کا ماحول بنوانے، ظالموں کےخلاف اٹھنے والی آوازوں پر حملہ کروانے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا، مَیں اتنا بدنام اور بدتہذیب ہوں کہ شرفاء سے کلام نہیں کرتا، اور ہاں! میں ہی وہ ارنب گوسوامی ہوں جو کہ چیخ کر چلا کر ادھو ٹھاکرے کو کہتا تھا کہ ادھوٹھاکرے! تمہارے میں اگر ہمت ہے تو مجھے کسی کورٹ میں لے جاکر دکھاؤ، میں ادھو حکومت کو چیلنج کرتا تھا، اور یہ سب میں اپنے آقاؤں کے اشاروں پر کرتا تھا،میں ایک مداری والا بندر بن گیا تھا جو کل صرف اور صرف اپنے مالک کے حکم کے مطابق ناچتاتھا،

جب یہ خبر ملی کہ دہلی کے نظام الدین کے تبلیغی جماعت کے مرکز میں اجتماع کے بعد بھی بہت سے جماعتی، جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں، اپنے اپنے ٹھکانوں پر واپس نہیں جا سکے ہیں تب ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ مرکزی حکومت اور دہلی کی اروند کیجریوال سرکار نے تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کا الزام عائد کیا، بی جے پی کے لیڈروں کو مسلم فرقے کو نشانہ بنانے کا موقعہ حاصل ہوگیا، بس کیا تھا ارنب گوسوامی فیک بیانیہ کے ساتھ ریپبلک چینل پر کائیں کائیں کرنے لگا کہ یہ ان کے بھارت دیش میں کورونا پھیلانے کی سازش ہے ۔ انتہائی ڈرامائی انداز میں ارنب نے کورونا کی وباء کو جہاد سے جوڑ دیا اور سارے ملک میں کورونا جہادی کے نام پر مسلمان نشانے پر لے لیے گئے ۔ آج تک، نیوز 18، ٹائمز ناؤ، زی نیوز، اے پی پی نیوز غرضیکہ سارا الیکٹرانک میڈیا ارنب کی راہ پر چل پڑا ۔ یہ نیشنلسٹ کہلانے والے میڈیا کا انتہائی غلیظ چہرہ تھا ۔ نفرت کے پروپیگنڈے نے مسلمانوں کی جان عذاب میں ڈال دی، مسلمان سبزی فروش اگر دوسروں کے محلے میں گئے تو ان پر کورونا جہاد کا الزام لگا کر انہیں پیٹا گیا، معاشی ناکہ بندی کی گئی اور مآب لنچنگ میں جان سے مارا گیا ۔ یہ جو جانیں گئ ہیں ان کے خون سے ٹی آر پی) چور نیوز چینلوں کا دامن لال ہے، زعفرانیوں کا تو ہے ہی ۔

قارئین کرام ! میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ممبئی ہائی کورٹ نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے عدالت نے جمعہ کو کیس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیاتھا، خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ارنب نے عبوری ضمانت کی اپیل کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔واضح ہو کہ بدھ کو ممبئی پولیس نے انہیں ایک انٹیریئر ڈیزائنر انوے نائک کو خود کشی پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں علی باغ کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔پولیس نے ریمانڈ کے لیے اپیل کی تھی لیکن عدالت نے پولیس ریمانڈ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے ارنب گوسوامی کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔پولیس 2018ء میں ارنب کے خلاف ممبئی میں مبینہ طور پر ‘خود کشی پر اکسانے’ کے الزامات کے تحت درج کیے گئے ایک مقدمے کی تحقیقات کر رہی ہے۔خیال رہے کہ بدھ کو ممبئی پولیس نے ارنب گوسوامی کو ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔علی باغ کی ضلعی عدالت میں کیا ہوا؟بدھ کی دوپہر ایک بجے ارنب گوسوامی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت کے اندر داخل ہونے کے بعد ارنب گوسوامی نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان پر تشدد کیا ہے۔ عدالت نے ارنب گوسوامی کے طبّی معائنے کا حکم دیا ہے۔حکم کے مطابق معائنہ ہوا اور انھیں دوبارہ عدالت کے روبرو لایا گیا۔ ڈاکٹرز کی جانب سے کیے جانے والے معائنے کی رپورٹ کو بھی دیکھا گیا۔سماعت کے دوران ڈیڑھ گھنٹہ طبّی رپورٹ اور دوبارہ کی جانے والی جانچ پڑتال میں لگا۔اس کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ تشدد کے الزامات کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ بادی النظر میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔جب ارنب گوسوامی عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے ان سے کہا کہ ‘سیدھے کھڑے نہ ہوں اور عجیب و غریب اشارے/ حرکات و سکنات نہ کریں،عدالت کی تنبیہ کے بعد ارنب سکون سے بیٹھ گئے۔ اس سے پہلے عدالت میں داخل ہوتے ساتھ ہی وہ چیخیں مار رہے تھے اور دعویٰ کر رہے تھے کہ پولیس نے انھیں مارا ہے۔ان کے رشتہ دار اس دوران ریکارڈنگ کر رہے تھے۔حکومتی وکیل نے ان کو پولیس کی تحویل میں دینے کا مطالبہ کیا۔عدالت نے کہا کہ پولیس کے حوالے کرنے کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے لیکن پولیس وہ پیش نہیں کر سکی ہے۔ اس لیے عدالت نے انھیں پولیس کے حوالے کرنے کی اپیل کو مسترد کر دیا اور تینوں ملزمان ارنب گوسوامی، فیروز شیخ اور نتیش سرادا کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ان کے وکیل گوریو پارکر نے صحافیوں کو عدالت کے باہر بتایا کہ جوڈیشل ریمانڈ کا حکم ان کے موکل کی بڑی کامیابی ہے۔ارنب گوسوامی کے خلاف کیس کیا ہے؟یہ کیس 53 سالہ انٹیریر ڈیزائنر کی خودکشی کے بعد درج کیا گیا تھا۔ خود کشی سے قبل تحریر کیے گئے اپنے ایک خط میں انٹیریر ڈیزائنر نے الزام عائد کیا تھا کہ ارنب گوسوامی نے انھیں ریپبلک نیٹ ورک سٹوڈیو کی انٹیریر ڈیزائنگ کے عوض معاوضہ ادا نہیں کیا تھا، جس پر وہ دلبرداشتہ تھے۔لائیو لا کے مطابق ممبئی پولیس نے ارنب گوسوامی کو آئی پی سی کی دفعہ 306 کے تحت گرفتار کیا ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق ارنب گوسوامی نے الزام لگایا ہے کہ ممبئی پولیس نے اُن کی گرفتاری کے موقع پر اُن کے علاوہ اُن کے اہل خانہ کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی کی۔نائیک کی بیوی اور بیٹی نے اناؤ نائیک کے لئے انصاف کے متعلق چلائی جانے والی اپنی تین سالہ تحریک میں اداکار ششانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد متحدہ طور پر شروع کی گئی تحریک کے طرز پر مہم شروع کرنے کی عوام سے اپیل کی ہے۔ریپبلک ٹیلی ویثرن چیانل کے مالک اور چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی کی گرفتاری کا خیر مقدم کرتے ہوئے متوفی ارکٹیکٹ اناؤ نائیک کی فیملی نے اس بات کی جانکاری حاصل کرنے کی مانگ کی کیوں اس کو (گوسوامی) اس سے قبل پولیس نے "مرعات یافتہ سلوک” کیاتھا۔ارنب گوسوامی کی ممبئی اور رائے گڑ کی پولیس کے ہاتھوں ورلی کے مکان سے گرفتاری کے بعد نائیک کی بیوہ اکشاتا اور بیٹی ادنیا نے میڈیاسے بات کی تھی۔مذکورہ بیوی اور بیٹی نے صاف طور پر انکار کیا کہ سابق میں ٹی وی چیانل اسٹوڈیو کی تعمیر کے لئے گوسوامی نے کوئی رقم ادا کی ہے اور دعوی کیاکہ سابق میں پولیس ٹیم کی جانب سے کی گئی تحقیقات من گھڑت تھی۔مہارشٹرا پولیس کی جانب سے 53سالہ ارکٹیکٹ اناؤ نائیک اور ان کی ماں 70سالہ کمود کی دوہری خودکشی کے معاملے کی دوبارہ جانچ کی شروعات کے بعد گوسوامی کو ڈرامائی انداز میں ان کے گھر سے مہارشٹرا پولیس نے گرفتار کیاتھا،