انڈیا میں کرونا وائرس کی صورتحال
India
31,411,262
مریض
Updated on July 26, 2021 10:20 am
All countries
175,058,564
صحت یاب
Updated on July 26, 2021 10:20 am
India
420,996
اموات
Updated on July 26, 2021 10:20 am

انڈیا میں کرونا وائرس کی صورتحال

India
31,411,262
مریض
Updated on July 26, 2021 10:20 am
India
30,579,106
صحت یاب
Updated on July 26, 2021 10:20 am
India
420,996
اموات
Updated on July 26, 2021 10:20 am

رومیِ کشمیر میاں محمد بخشؒ کے تخلیقی تجربات

 رومیِ کشمیر میاں محمد بخشؒ کے تخلیقی تجربات

 ( سیف الملوک کے حوالے سے ایک مختصر جائزہ )

 کالم نویس:۔ ڈاکٹرمجدّدی مصطفی ضیفؔس رینگر کشمیر

  آریاؤں کی آمد کے بعد برِصغیر میں غیر ملکی اثرات کا ایک اور سیلاب 328 قبل مسیح میں یونانیوں کی یلغار سے آیامگر اس کے اثرات یہاں کی ثقافتی زندگی کو متاثر نہ کر سکے۔ اس کے مقابلے میں اس ملک میں مسلمانوں کی آمد، قیام اور تمام ملک پر تسلط نے اس ملک کے مذہب و معاشرت کو اتنا متاثر کیا ہے کہ اس کے واضح اثرات آج بھی ہم زندگی کے تمام شعبوں پر دیکھ سکتے ہیں۔مسلمان اپنے ساتھ مذہب اور معاشرت کا ایک ترقی یا فتہ تصور لے کر آئے، جس کی بدولت ہندوستان میں مساوی فکر کی ایک توانا لہر آئی اور اس نے زمین کے ساتھ ساتھ یہاں کے باشندوں کے ذہنوں اور ان کی روحوں کو بھی فتح کیا، اور ان ذہنی فتو حات کے سلسلے کو روکنے یا (Counter یا Retilate) کرنے کی غرض سے جنوبی ہند میں رامانج نامی بھگت نے بھگتی تحریک کی بنیا د فلسفہ ” ہمہ از اوست“پر قائم کی۔

  آٹھویں صدی عیسویں میں جب عربوں کے سندھ اور ملتان پر قبضے کے ساتھ ہی برصغیر میں اسلامی فکر کے داخلے کی راہ بھی ہموار ہو گئی اور ہندی سماج بدھ مت، برہمن مت وغیرہ کے مد و جزر طے کر کے بھگتی کی تحریک تک پہنچ جا پہنچا، جس کا مقصد انسانی مساوات، محبت اور خدمت کا تصور غالب کر کے ہندومت کی تبلیغ کر نا تھا۔ اسی طرح اس دور میں صوفیائے کرام کی تحریک جو معنوی لحاظ سے بھگتی کی تحریک کے مقاصدسے ہم آہنگ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں ان (صوفیا ئے کرام) کا سب سے بڑا مقصد اسلامی مساوات اور برابری کا عملی نمونہ اپنی زندگیوں سے پیش کر کے تبلیغ دین کے مقاصد حاصل کر نے تھے۔

  تبلیغِ دین کے مقاصد کے حصول کی خاطر اسلام کے ان غنّی مزاج بزرگوں نے عوامی دربار لگائے، عوامی زبان میں شاعری کی اور بلا امتیاز رنگ و نسل لوگوں کے دلوں کو فتح کرتے رہے۔ ان ہی صوفیا کے بارے میں مولانا سیّد سلمان ندویؒ رقم طراز ہیں کہ:

   ”یہ کہنا درست ہے کہ ہندوستان کی روح کو خانوادہ چست کے روحانی سلاطین نے فتح کیا ہے“

  ان درویش صفت ہستیوں یا صوفیائے کرام کے ناموں کی فہرست کافی طویل ہے جن میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے لے کر انیسویں صدی عیسوی تک کے بزرگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ جن میں خواجہ غلام فرؒید، میراں جی شمش العشاقؒ، حضرت امیر خسروؒ، بابافریدؒ، خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ، سر مست توکلیؒ، عبدل لطیفؒ بھٹائی، لعل شاہ باز قلندؒر، وارث شاہؒ، خوشحال خان خٹکؒ، بلے شاہؒ، لل دید، شیخ نور الدین نورانیؒ، مولوی غلام رسولؒ عالمپوری، میاں محمد بخشؒ اور پھر میری نظر میں اس سلسلہ کے آخری شاعر میاں عبداللہ عبدؒ المعروف بابا جی صاحبؒ لاروی (موضع مرکزی علاقہ جموں کشمیر، وانگت، گاندربل) شامل ہیں، سی حرفی کی ہیت میں جن کے پنجابی کلام کی قرات یا سماعت کے بعد دل کا کفر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔

  ان صوفیائے کرام میں رومی کشمیر میاں محمد بخشؒ کامقام بھی شعری، علمی اور روحانی و عرفانی لحاظ سے کافی ارفع ہے، اور صوفیانہ شاعری میں ان کا شمار برّصغیرہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطٰی کے عظیم صوفی شعرا میں ہوتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ اس حقیقت کا علم رکھتے ہیں جس کی بنیادی وجہ میاں صاحبؒ کی صوفیانہ خیالات پر تخلیق کردہ شہرۂ آفاق شعری تصنیف ”سیف الملوک “کے تخلیقی اظہار کی زبان پنجابی ہے جو برِصغیر کے محدود سے جغرا فیائی علاقے اور مخصوص طبقے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اگر پنجابی کے بجائے انہوں نے عربی، فارسی، ہندی یا اردو جیسی دنیا کی بڑی زبانوں کو اپنے تخلیقی تجربات کے اظہار کا وسیلہ بنایا ہوتا تو صوفیانہ ادب کے ایوان میں ان کا مقام کافی بلند ہوتا۔ میاں محمد بخشؒ نے اور بھی بہت سی کتابیں تحریر کیں جن کی تعداد 17 کے آس پاس ہے، اور ان میں اکثر فارسی میں ہیں ،تاہم شاعری کے حوالے سے میاں صاحب ؒ کی شناخت پنجابی زبان میں ان کے منظوم تمثیلی (Allegory) قصّہ ”سیف الملوک“ کی بدولت ہی ہے۔

   میاں محمد بخشؒ کی پیدائش1813ء میں مقبوضہ کشمیر کے علاقہ کھڑی کے مقام پر ہوئی اور ان کی وفات بھی1907ء میں اسی جگہ ہوئی۔ برِصغیر میں اسلام کی آمد کے بعد صوفی شعرا کا جو سلسلہ چلا، میاں صاحب ؒ کا شمار اس کے آخری چند شاعروں میں ہوتا ہے۔1907ء یعنی میاں صاحب ؒکی وفات کے بعد اس سلسلہ کے چند گنے چنے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جن میں ہندکو کے احمد علی سائیاں اردو اور فارسی کے علامہ اقبالؒ اور پنجا بی کے میاں عبداللہ ؒ لاروی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

   ان میں اقبال ؒ، رومی کشمیر میاں محمد بخشؒ اور حضرت عبداللہ عبد ؒ کے کلام میں واضح حد فاضل ( DIVIDING LINE) قائم کی جا سکتی ہے۔ مثلاً جہاں میاں محمد بخشؒ کے کلام (سیف الموک) میں عشق حقیقی ،پنجابی ثقافت اور قنوطی اشعار (PESSIMIST VERSES ) مصری دیو مالائی کہانیوں کے حوالے سے مافوق الفطری (SUPERNATURAL ) عناصر پائے جاتے ہیں وہیں علامہ اقبال کے کل کلام میں ہندی ثقافت INDIAN CULTURE)کی چند ایک مثالوں کو چھوڑ کر قرآن وحدیث کی ترجمانی وتشریح کے علاوہ اسلامی تاریخ وثقافت کی تعریف و توصیف اور حمایت میں بہترین اشعار ملتے ہیں۔ اسی طرح حضرت میاں عبداللہ عبدؒ کے سی حرفی کی ہیت میں کلام کے مجموعے کے مطالعے سے قاری پر منکشف ہو جا تا ہے کہ یہ کلام دیو ما لائی (MYTHOLOGICAL) اور ما فوق الفطری یا خیالی و رنگین فکرو خیال سے بہت پرے معرفت و عرفان کا ایک ایسا منبع ہے جس کی اتھاہ گہرائیوں میں عشق الٰہی، محبت حضور رسالت مآبﷺ اور دنیائے اسلام سے وابستہ بڑئے اسکالروں اور بزر گوار ہستیوں (جن میں ان کے مرشد کے علاوہ الشیخ عبدل قادر جیلانیؒ، مجدّد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی ؒ وغیرہ) سے ذہنی و قلبی وابستگی کے ان گنت سوتے بہتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے سی حرفی ہفتم میں پنجابی لوک داستان ”ہیر رانجا “ کا ذکر متعدد اشعار میں سالک کو تفہیم سلوک کی غرض سے سمجھا ئے ہیں نیز ا سی سی حرفی ہشتم کے پہلے ہی شعر میں ” سسی پنوں “ کاذکر بھی ملتا ہے اس سب کا سبب پنجا بی ادب کے اثرات کا نتیجہ ہے ،کوئی اسے ان کی ذہنی مرغوبیت (PREPOSSESSINGNESS OF MIND)کی کو ئی اور وجہ نہ سمجھے۔

   رومی کشمیر ؒ کا مقام برصغیر کے صوفی شعرا میں کافی بلند ہے۔ انھوں نے اپنے تخلیقی تجربات عوام الناس کے روبرو پیش کرنے کی غرض سے فارسی، اردو اور پنجابی میں بہت ساری تصانیف یاد گار چھوڑیں۔ ان کی دیگر تصانیف اور سیف الملوک کے حوالے سے ایک بات واضح ہے کہ انھوں نے لوک ادب (folk lore) اور لوک داستانوں (folk tales ) کی بنیاد پر لکھا ،اور ان کے لکھنے کا انداز یا اسلوب (Style) تمثیلی ہے۔ انھوں نے اظہار کا یہ انداز یا حربہ اس لئے اپنایا تاکہ ان کی بات یا کلام کا عام لوگوں کے دل ودماغ پر جلدی یا دیرپا اثر ہو، کیوں کہ صوفیا کا گہرا تعلق عوامی تہذیب وتمدن۔ثقافت۔ وراثت اور عمرانیات (sociology) سے ہوتا ہے۔

چونکہ رومی کشمیر میاں محمد بخشؒ ایک درویش صفت شاعر تھے اس لئے اکثر درویش صفت شعراء کی طرز پر انہوں نے اپنے کلام میں زمین کی باتیں خاص طور پر عوامی کلچرجو اشرافیہ (elites) کے بناوٹی، ظلم واستبداد اور دہرا معیار رکھنے والے کلچر سے مختلف ہوتا ہے ،اس میں پیش کیں۔اور اس عوامی کلچر میں رائج لوک داستان، ماہیا، ٹپہ، ڈھول یا دوہا وغیرہ جو کچھ بھی ہوتا ہے نے ان کی شاعری کے لئے خام مواد مہیا کیا۔

مثلاً اگر لوک ادب (منثور ومنظوم )کے حوالے سے میاں محمد بخشؒ کی بات کریں تو انہوں نے صرف ”سیف الملوک “ہی نہیں لکھی بلکہ معروف لوک داستان ”سوہنی مہنوال“ بھی لکھی اور وارث شاہ نے بھی ”ہیر“ کے علاوہ ”سوہنی مہنوال“لکھی مگر ان کی مقبو لیت ’ہیر “کی بدولت ہوئی۔ اسی طرح ”سیف الملوک“رومی کشمیرؒ کے علاوہ اردو فارسی اور پنجابی وغیرہ زبانوں میں بہت سارے لوگوں نے لکھی جن میں غواضی، بوٹاگجراتی اورغنّی شوقی وغیرہ شامل ہیں، مگر اس لوک داستان میں میاں صاحبؒ نے ثقافت و سماجیات کی روشنی میں اپنے تخلیقی تجربات کو جس منفرد انداز میں برتا ہے اس کی بدولت انہیں جو شہرت نصیب ہوئی اس کی نظیر دور دور تک نہیں ملتی۔

رومی کشمیر میاں محمد بخشؒ کے تخلیقی تجربات کا مطالعہ” سیف الملوک “کے حوالے سے اگر نوتاریخیت (Neohistoricism) کے نظریہ کی رو سے کیا جائے تو بہ لحاظ تاریخ ان کے فکرو خیال کے بہت سارے اہم گوشے کھلیں گے۔ مثلاًتاریخ کے اعتبار سے ان کا عہد وہ تھا جب پنجاب پر رنجیت سنگھ فرمان روا تھے جس کا دور حکومت 1799ء سے لے کر 1842ء تک رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ فرنگی بھی اس سعی مسلسل میں لگے ہوئے تھے کہ کس حربے سے پنجاب کو بر طانوی حکومت میں شامل کیا جائے، بالآخر انگریزوں نے 1849ء میں اس علاقے کو بھی اپنے زیر فر مان کر لیا اور ورمی کشمیر ؒ نے یہ المیہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس کا احساس ان کی مثنوی کے متعدّد اشعار سے ہوتا ہے۔ مثلاًیہ شعر ملاخط فر مائیں:۔

         چار دیہاڑے عمرجوانی کر لے عیشاں موجاں

سدانئیں ایہہ دولت دنیاں سدی نہ لشکر فوجاں

     منظوم اردو ترجمہ:۔چاردنوں کی عمر جوانی کر لے عیش وعشرت

        سدا نہ لشکر فوج کسی کی سدا نہ دنیا دولت

  اس تاریخی جمود اور سکوت کی منظر کشی کرتے ہوئے بے شمار اشعار” سیف الملوک“ میں مل جا تے ہیںجن میں انہوں نے اس وقت کے پیدہ شدہ نامساعد حالات کی تصویر نہایت ہی فنکاری سے پیش کی ہے۔

 میاں محمد بخشؒ کی اس تخلیق میں اس عہد کے معاشرتی، طبقاتی، سیاسی اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف شدید قسم کی اپیل ملتی ہے۔ مثلاً وہ فرماتے ہیں:۔

 روگاں وچوں روگ انوکھا جس داناں اے غریبی

مشکل ویلے چھوڑجاندے نے رشتے دار قریبی

 منظوم اردو ترجمہ:۔ روگوں میں روگ انوکھا نام جس کا غریبی

      مشکل وقت چھوڑ تے ہیں رشتہ دار قریبی

          (طبقاتی کشمکش)

اسی طرح سیاسی و سرمایہ دارانہ نظام میں خودغرضی، لالچ اور ذاتی نفع و نقصان کو مد نظر رکھ کر مصلحت سازی کر نے والے لوگوں، طبقوں اور اداروں کو اس طرح نشان زد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں:۔

جس یاری وچ لالچ ہوئے کدی او توڑنہ چڑھدی

     چادر لیرو لیر محمدا کنڈیاں وچ جو اڑ دی

منظوم اردو ترجمہ:۔ لالچ پر جو یاری ہو کب وہ دائم جڑتی

     جیسے ریشمی چادر محمد کا نٹوں پر ہے چڑھتی

اسی طرح رومی کشمیرؒ کی اس منظوم داستان میں نیکی کی بدی یا خیر کی شر کے خلاف ایک مسلسل جدو جہد ہے جو تمام صوفیا کے کلام میں ان کے تخلیقی تجربات کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔ مثلاًان کا یہ شعر دیکھیں جس میں وہ تمام تر شیطانی قوتوں پہ فتح حاصل کرنے کے لئے قوت عشق کا ہونا ضروری سمجھتے ہیں، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:۔

    رات ہنیری خوف چوفیری بولن دیو بلائیں

  عاشق باہج نہ قدرکسے دابچے اجیئں جائیں

منظوم اردوتر جمہ:۔ کالی رات ،خوف کے سائے بو لیں ہر سو دیو بلا

    ہے عاشق بن کس کا قدر جس سے یہ بھار اٹھا

   خیر و شر کی یہ عکاسی میاں محمد بخشؒ نے سیف الملوک (شہزادہ) بدیع الجمال (پری)اور دیو کے کردار اوران کے تمام تر عوامل کی شکل میں کی ہے نیز انہوں نے اس عکاسی میں اعلیٰ قسم کے نصیحت و سبق آموز اور صوفیانہ وقلندرانہ رموز سے مزّین اشعار خلق کرکے دلوں کے زخموں پر مرحم لگانے کے ساتھ ساتھ خدا دوستی اور رحم و انصاف کے اصولوں پر معاشرتی نظام کے قیام کی وکالت بھی کی ہے۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیں:۔ ؒٓ

     عدل کریں تاں تھر تھر کمن اچیاں شاناں والے

     فضل کریں تاں بخشے جاون میں جیاں منہ کالے

 منظوم اردوترجمہ: ۔ عدل کرے تو تھر تھر کانپیں اونچی شانوں والے

     فضل کرے تو بخشے جا ئیں مجھ سے منہ کالے

            (سلوک)

      نیکاں سنگ نیکی کریئے نسلاں نی پلاندئے

      بریاں سنگ نیکی کریئے الٹا ضعف پہچاندے

 منظوم اردوتر جمہ:۔ نسلوں تک نہیں بھولتے نیکوں سے نیکی کیجیے

      کرب و دکھ پہنچاتے، بدوں سے نیکی کیجیے

            (نصیحت)

       مان نہ کریئے روپ گھہنے داوارث کون حسن دا

      سدا نہ رہسن شاخاں ہریاں سدانہ پھل چمن دا

منظوم اردوتر جمہ:۔ فخر نہ کر رنگ و روپ پروارث کون حسن کا

      دائم نہیں شاخیں ہری، دائم نہیں پھول چمن کا

          (وقت کا جبر،زوال،نفی)

       ایناں گلاں تیں کے لبھدا عیب کسی دا کرنا

       اپناں آپ سمھال محمد جو کرناں سو پہرنا

 منظوم اردوتر جمہ:۔ کیا ملے ہے ان باتوں سے عیب کسی کے کر کے

        خود کو تو سنبھہال محمد روز حشر سے ڈر کے

            (دعوت و تر غیب عمل)

       ایک گناہ میرے ماں پے دیکھن دیون دیس نکالا

       لکھ گناہ میرا اللہ دیکھے پر دے پاون والا

 منظوم اردوتر جمہ:۔ اک گناہ ماں باپ نے دیکھا ،دیس سے ہی نکالا

       لاکھ گناہ میرا اللہ دیکھے عیب چھپانے والا

          ( خداکی صفت ستّاری،خالق کی مخلوق سے محبت)

      ا چا ناں رکھا یا جس نے چہلے دے وچ سڑیا

    نیواں ہو کے لنگ محمد لنگ جاوے گا اڑیا

منظوم اردوتر جمہ:۔ فخر و غرور کیا جس نے چولہے میں وہ جلا

       جھک کے توگزر محمد گزر جائے گا بھلا

          ( عاجزی،انکساری،بندگی)

 رومی کشمیرؒ کا عہد تہذیب اور ثقافتی لحاظ سے انحطاط کا عہد تھا۔ علاقہ پنجاب میں جہاں وہ گجرات سے ہجرت کر کے جا بسے تھے وہاں کا سیاسی اقتدار سکھوں نے تحس نحس کر کے رکھ دیا تھا۔ اس سیاسی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی اس علاقے کا حکمران طبقہ یعنی مسلمان اپنے تمام طرح کے حقوق سے کچھ اس طرح محروم ہو گیا کہ وہ (Margin )حاشیہ پہ آنا شروع ہو گیا یا اسی وقت ان کی حیثیت (The others)دوسرے درجے کی ہو گئی۔

درحقیقت سیاسی و ثقافتی زوال کی یہ بدترین صورت حال تقریباً پورے ملک میں ایک جیسی تھی۔ ذرا اور پیچھے چلے جائیں تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ رومی کشمیر میاں محمد بخشؒ نے 1857ء کی ناکام بغاوت، مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی اور اس وقت کی سرکار کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم ستّارہ، اٹھارہ سال کی عمر میں اپنی آنکھوں سے دیکھے یا ان کے متعلق سنا اور اس تباہ کن صورت حال کی عکاسی اپنے شعری تجربات میں ڈھال کر مایوسی، ناکامی، شکست ذات اور اقدار، دنیا کی نا پائیداری، احساس زوال اور محرومی کی شکل میں کی نیز حکیم الاامت علامہ اقبالؒ کی طرز پر ماضی کی شان وشوکت کی بحالی کی دعا بھی کی، مثلاً یہ شعر ملاخطہ کریں جس میں ارمانوں اور خواہشات کے ساتھ ساتھ دعا بھی ہے:۔

      رحمت دامیہنہ پا خدایا باغ سکا کر ہریا

      بوٹاآس امید میری دا کر دے میوے پہریا

منظوم اردوتر جمہ:۔ نظر رحمت کر خدایا سوکھا باغ ہو ہرا

      آس امید میری کا بوٹا ہو جائے ثمر بھرا

اسی طرح ان کے ہاں متعدّد اشعار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جن میں عمودی اتار چڑھاﺅ (Vertical rise /Fall)کی انگنت مثالیں مل جا تی ہیں:۔

      نہ کر بندیا میری میری تو ہے خاک دی ٹہیری

      کوٹھیاں بنگلے سب ٹر جان جد لیکھاں نے اکھ پھیری

منظوم اردوتر جمہ:۔ نہ کر بندیا میری میری تو ہے خاک کا ڈھیر

      کوٹھی بنگلے چھن جائیں تقدیر کرے گر ہیرا پھیر

   تمام صوفی شعرا کی طرح میاں صاحبؒ بھی ایک (IDEOLOGY)رکھتے تھے، ایک مخصوص قسم کا سیاسی،معاشرتی نظریہ رکھتے تھے اور ان کے اس نظریے کی بنیادی اساس ان کی داخلی دنیا پر تھی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کے اندر کی خباثت، منافقت، جھوٹ اور بدفعلی، منفی سوچ کسی کو دکھ اور تکلیف پہنچانے والی قوتیں، نیکی ،انسانیت اور انسان دوستی کے خلاف مائل بہ پیکار کرنے والے رجحانات، رواداری ، مساوات، حوصلہ، برداشت کی کمی انسان کے سماجی اور داخلی یا روحانی زوال کا سبب اور ان تمام قسم کی قوتوں اور طاقتوں پر قابو پانے کی صلاحیت انسانی رفعت اور معراج کا اہم وسیلہ ہے۔

  رومی کشمیرؒ کے کلام میں نیکی اور بدی کے درمیان جو مسلسل جدوجہد پائی جاتی ہے وہ ہر صوفی شاعر کے کلام میں موجود ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خالی شاعر اپنے کلام میں قلم کی روانی اور زبان کی مہارت کے جوہر دکھاتا ہے جبکہ صوفی شاعر اپنے کلام میں وہی سب بیان کرتا ہے جس کا اسے تجربہ و مشاہدہ ہوا ہو یا جس کے حصول کی غرض سے اس نے اپنی ذات کو مالک حقیقی کے حضور پیش کیا ہو۔

  اس لحاظ سے میاں محمد بخشؒ کی شاعری جو تمثیلی انداز میں ”قصہ سیف الملوک “کی شکل میں ہے، جس کے جائیزے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں شامل تمام تر شعری مضامین یا خیال جن کا تعلق تصوف و سلوک، ولایت و قلندری، عشق حضور رسالت مآبﷺ ، صدیوں سے قائم اسلامی دور حکومت کے زوال یا دوسرے قسم کے موضوعات سے ہے جن کے شعری تجر بات یا تخلیق کی اساس ان کے وہ داخلی اور خارجی یا مادّی اور روحانی مشاہدات ہیں جن سے وہ زندگی کے مختلف ادوار میں گزر تے رہے۔ (ختم شد)

 ( نوٹ: کالم نویس ادب میں ڈاکٹریٹ ہیں،اسکالر برڈکاسٹر اور درس وتدریس سے وابستہ ہیں )

spot_img

Hot Topics

Related Articles