انتظامیہ سے گفت و شنید کر پرامن حالات کا مطالبہ کریں؟

21

یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ کورونا وائرس کو ہرانے یا اسے ختم کرنے کےلئے جتنی احتیاط و تدابیر یا سرکاری اعلانات پر جس سختی کے ساتھ مسلمانوں نے عمل کیا ہے، ملک میں آباد دیگر اقوام و ملل نے اتنا احترام و احتیاط سے کام نہیں لیا اور مسلمانوں نے ایسا صرف اس لئے کیا تاکہ ہمارے حکمراں اور انتظامیہ سے وابستہ لوگ اس مہلک و متعدی مرض کے پھیل پھیلاؤ کا سبب اور الزام ہمارے اوپر نہ منڈھ دیں؟ چنانچہ اس سلسلے میں سرکاروں کی طرف سے یا ہمارے علماء کرام و ائمہ مساجد کی جانب سے جس وقت جو بھی اعلان و اطلاع ملتی رہی، ملک بھر کے مسلمان بغیر چوں چرا مکمل طور پر ان پر عملدرآمد ہوتے رہے، چنانچہ یک روزہ لاک ڈاؤن کے روز اول (21/مارچ) سے آج تک ہر حکم و خبر کو ملک بھر کے مسلمان سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
پابندی اور احتیاطی تدابیر کا یہ اعلان خواہ عبادت و ریاضت کے تعلق سے ہوا ہو یا موت و حیات اور شادی بیاہ میں انجام دی جانے والی رسم و رواج اور امور کی ادائیگی کے واسطے ہوا ہو، مسلمانوں نے ہر موقع اور ہر سطح پر جہاں پابندی برتنا ضروری سمجھا وہیں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کو اپنے اور دیگر لوگوں کے حق میں نقصاندہ تصور کیا۔ چنانچہ رمضان المبارک جیسا محترم و مقدس مہینہ، جس کی ایک شان اور اہمیت و خصوصیت ہے اور جس کا پورے سال ہر ایمان والے کو شدت سے انتظار رہتا ہے وہ؛ اور پھر عید سب کے سب یوں ہی پھیکے پھیکے انداز میں آئے اور چلے گئے، مگر مسلمانوں کے کسی طبقہ فرقہ کی طرف سے چوں تک نہیں کی گئی۔ بلکہ عید سے ایک ہفتہ قبل ہی اخباری مضامین اور اکابر علماء کی طرف سے باقاعدہ اپیلیں جاری کی گئیں کہ اس سال عید سادگی سے منائیں، اپنے گھر رہ کر منائیں اور کہیں بھی ہجومی شکل پیدا نہ ہونے دیں، اسی میں پورے سماج کی خیر و عافیت کا راز پوشیدہ ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے مدارس و مکاتب اور دیگر تعلیمی ادارے جن کو تالا لگے ہوئے تقریبا چار ماہ ہونے کو ہیں اور تعلیمی سلسلہ تاحال یکسر موقوف ہے، جن کےلئے سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ سال بھر کے اخراجات اور انتظام و انصراف کا جو دار و مدار ہوتا ہے وہ اکثر رمضان المبارک میں وصول ہونے والی رقوم پر ہوتا ہے، مگر امسال وصول یابی کی یہ رقم بھی مکمل طور پر انہیں موصول نہ ہو سکی، جس کی وجہ سے اکثر مدارس و مکاتب کا خزانہ خالی رہنے کی وجہ سے وہاں بری طرح اثرات مرتب ہوتے نظر آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان میں مقرر مدرسین و ملازمین کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مگر قومی ملکی سلامتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مسلمان تمام ناگفتہ بہ حالات کو بسر و چشم برداشت کرتے کرتے یہاں تک آ پہنچے، مگر پورے لاک ڈاؤن میں کوئی ایک مثال نہیں مل سکتی کہ فلاں جگہ کے مسلمانوں نے چھپ کر یا پولس اور انتظامیہ سے ڈر کر دوران بندش کوئی ایسا قدم اٹھایا ہو جس سے سرکار اور طبی عملے کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی یا حکم عدولی ہوتی نظر آتی ہو اور صحیح بات بھی یہی ہے کہ خلاف اصول کام یا ایسی بات جس سے اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ خراب ہوتی ہو ایک سچے پکے مسلمان کا دل و ضمیر اس کو گوارا نہیں کرتا اور اس بات کو بھی تاریخ کے دامن میں نمایاں مقام حاصل رہےگا اور مؤرخ پورے اہتمام کے ساتھ اسے مسلمانوں کے اعلیٰ صبر و شکر کے پیمانے، وطن سے بےمثال و بےپناہ محبت اور تعلیمات اسلام کے نمایاں وصف ہی سے تعبیر کرےگا اور مزید یہ لکھےگا؛ کہ:
"مسلمانوں نے شرعی احکام کے مقابلہ موجودہ حالات اور زمانہ کی سنگینی کو ترجیح دینا (کرہاً و طوعاً) منظور کیا مگر سرکاری یا اپنے علماء کی اپیلوں سے سرمو انحراف نہ برتا”۔
آج کے موجودہ حالات پر قلم بند کی گئی اسٹوری کو جب بھی منظر عام پر لایا جائےگا تو اس وقت لوگوں کو جہاں اس بات سے حیرت و تعجب ہوگا وہیں لوگ داد و تحسین کے کلمات بھی بےساختہ زبان پر لائیں گے کہ جس قوم کا بیشتر طبقہ سنت و شریعت یا دین کے خلاف کی جانے والی تحریف و تبدیلی پر آپے سے باہر ہو جاتا ہو وہ پوری کی پوری قوم مجسم تصویر بنے نہ صرف سب کچھ برداشت کرتی رہی بلکہ دوسروں کو بھی "گھر میں رہیں محفوظ رہیں” کی تعلیم و تلقین کرتی رہی تھی۔ اور لاک ڈاؤن کے پورے دورانیہ میں مسلمانوں نے ہر طرح کا نفع و نقصان برداشت کرنا منظور کیا مگر اس بےبنیاد الزام اور تہمت کو اپنی قوم کے سر بندھتا ہرگز گوارا نہ کیا جس کی تاک و فراق میں متعصب و تنگ نظر ملک کا زعفرانی میڈیا اور سرکش و شرپسندی کے سمندر میں ڈوبی چند طاقتیں ہمیشہ سرگرم رہتی تھیں تاکہ کہیں کچھ ہو اور انہیں یہ کہنے کا موقع ہاتھ آئے کہ:
"یہ سب کچھ مسلمانوں کی وجہ سے ہوا ہے” وغیرہ۔
اب ہم مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار عید الاضحیٰ اور ایام قربانی نزدیک ہیں، جس میں ایک تو اجتماعی طور پر نماز دوگانہ کی ادائیگی ہوتی ہے اور دوسرے اس کے بعد قربانی کا عمل جاری ہوتا ہے، جو عید کے دن سے مسلسل تین دن ہوتا ہے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہےکہ لاک ڈاؤن کے چلتے جس طرح مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ماہ رمضان المبارک کی مبارک و مسعود گھڑیوں میں اجتماعی عبادات کی ادائیگی خاص طور سے نماز تراویح میں شرکت سے محروم رہی یا جیسا کہ عید الفطر کی نماز دوگانہ کو عیدگاہ یا بستی اور آبادی کی بڑی مساجد میں ایک ساتھ مل کر ادا کرنے کا موقع نصیب نہ ہوا، لگتا ہے اب عید الاضحی کے موقع پر بھی قوم مسلم کو انہیں سب پابندیوں اور سوشل ڈسٹینسگ کے احترام و رعایت کے بہانے عیدگاہوں اور بڑی مساجد میں اجتماعی طور پر ایک ساتھ مل کر نماز دوگانہ ادا نہ کرنے کا پابند بنے رہنا ہوگا، جس کے بعد وائرس کے پھیلنے کا ڈر و خوف دکھا کر قربانی سے بھی روکا جائےگا۔ اور یہ تمام حکمرانوں کی نیت، محکمۂ موسمیات کی وارننگ اور مذہبی پیشواؤں کی عدم معلومات یا ہمارے علماء کرام و ائمہ مساجد کی طرف سے بےتوجہی اور دلچسپی نہ لینے کا نتیجہ ہوگا جو کہ ایسا لگ رہا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن ہٹے ہوئے (گرچہ مکمل نہ سہی، مگر اکثر جگہوں اور بیشتر معاملات میں ڈھیل دئے ہوئے) ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہو گیا جس کے بع شاپنگ مالز عام کر دئے گئے، ٹریفک کی آمد و رفت بحال کر دی گئی، بڑی چھوٹی مارکیٹ اور ہر قسم کی منڈیاں کھول دی گئیں، سرکاری محکموں اور بینکوں سے ہرقسم کی پابندیاں دور کر دی گئیں، سیاست سے وابستہ افراد کی سیاسی مجلسیں اور میٹنگیں برابر نہ صرف منعقد ہو رہی ہیں بلکہ سیاسی لوگ بنفس نفیس ان میں شریک ہو کر سرکاریں گرانے بنانے کی تگ و دو میں لگے ہیں جس کےلئے وہ اپنے اپنے مفاد کی خاطر ایوانوں سے لےکر سڑکوں تک ہجومی اور عوامی طاقت کا مظاہرہ بھی کرتے پائے جا رہے ہیں، شراب خانے، بیوٹی پارلر اور ہوٹل و بار سے بندش اٹھا لی گئی ہے۔ الغرض ہر وہ عمل جس کا تعلق ہمارے مذہبی امور سے متعلق نہ ہو وہ سب اپنے ٹائم ٹیبل اور پوری آن بان کے ساتھ انجام دئے جا رہے ہیں، مگر پابندی برقرار ہے تو صرف مذہبی امور پر وہ بھی خاص طور سے مسلمانوں کے مذہبی امور اور ان کے اجتماعی افعال و اعمال پر، چنانچہ مسلمان مسجد تو جا سکتے ہیں، مگر پانچ افراد سے زیادہ نماز نہیں پڑھ سکتے، اپنے عزیز و اقارب کو دفنا تو سکتے ہیں مگر جنازہ میں وہی محدود تعداد شرکت کرےگی، جو سرکار نے متعین کر رکھی ہے، اسی طرح جمعہ اور عیدین کی ادائیگی کا بند و بست اپنے اپنے گھر پر رہ کر کریں گے؛ وغیرہ وغیرہ۔ تو کیا ہمارے دینی اداروں کے ذمہ داران، مسلم تنظیموں اور ملی جماعتوں کے سربراہان یا قوم و ملت سے ہمدردی اور خیرخواہی کا ہر وقت دم بھرنے والوں میں سے کسی کو یہ سب نظر نہیں آ رہا کہ سرکار کی طرف سے ہر اس مقام اور پلیس سے پابندیاں رفع کر دی گئی ہیں جہاں لوگوں کا اکٹھا ہونا یا عوامی مجمع ہر حال میں پایا جاتا ہے، یا مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے پابندی ختم کر لوگوں کو اپنی زندگی معمول پر لانے اور پیشے سے منسلک افراد کو سرگرم ہونے کی اجازت دے دی ہے، تو پھر قائدین و پیشوا حضرات کیوں سوال نہیں کرتے اور حکومتوں سے تعلیمی اداروں اور مذہبی عبادت گاہوں سے ویسے ہی پابندی اٹھانے کی اپیل کیوں نہیں کرتے جیسے کہ مذکورہ دیگر جگہوں سے پابندیاں رفع کر دی گئی ہیں؟
ہمارے ملی جماعتوں اور اداروں کے صدور و نظماء یہ آواز کیوں نہیں اٹھاتے کہ: کیا ساری پابندیاں ہمارے ہی اداروں اور عبادت گاہوں کےلئے ضروری اور لازم ہیں؟
کیوں حکمرانوں کو یاد نہیں دلاتے کہ: اکثریتی طبقے کے لوگ اپنی مذہبی رسم و رواج کی ادائیگی میں سرکاری احکام کو نظر انداز کرکے یا خلاف ورزی کرکے اپنی تمام رسوم کی ادائیگی پھر کیوںت۵ کر رہے ہیں؟ اور خلاف ورزی کرنے پر کیوں ان کے ساتھ ویسی ہی سختی کا رویہ نہیں اپنایا جا رہا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ اپنایا جا رہا ہے؟
مانا کہ اس وقت "کورونا وائرس” کا حملہ اپنے شباب پر ہے اور اس کے متآثرین کی تعداد میں یومیہ مزید اضافہ ہو رہا ہے، مگر جو رعایت اور نرمی بازار یا کاروباری پیشہ سے منسلک افراد کو حاصل کرائی گئی ہے وہی رعایت و چھوٹ شرائط کے لزوم کے ساتھ تمام مذہبی امور کی ادائیگی کےلئے بھی دی جانی چاہیے یا اگر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے رعایت دے دی گئی ہے جیسا کہ اخبارات میں شائع خبروں سے پتہ چلتا ہے تو پھر پولس کے اعلی افسران اور انتظامیہ سے گفتگو کر صورتحال کو واضح کرنا چاہئے اور آنے والے مخصوص ایام (عید قرباں) کے تعلق سے لوگوں میں جو ڈر و خوف کا ماحول اور عدم اطمینانی کی کیفیت پائی جا رہی ہے، اسے دور کرنا چاہئے اور عوام کے اندر اس بات کا احساس پیدا کرنا چاہئے کہ اس سال بھی سال گذشتہ کی طرح ہی مطمئن و بےخوف ہوکر عید قرباں کی تیاری کریں اور ہمیشہ کی طرح نماز دوگانہ اپنی بستی اور آبادی کی بڑی مسجد یا عیدگاہ ہی میں ہوگی اس لئے سب حضرات وہیں ادا کرنے کی کوشش کریں۔ خاص کر یوپی حکومت کی انتظامیہ سے گفتگو کرنے کی ضرورت ہے، اس لئے کہ حکومت کی طرف سے جو نیا سرکلر اور جیو آیا ہے اس میں لاک ڈاؤن کے تعلق سے اس بات کو واضح کر دیا گیا ہے کہ ہفتے میں صرف دو دن (جمعہ کی رات سے پیر کی صبح تک) ہی لاک ڈاؤن رہےگا باقی ایام میں سب کچھ معمول پر رہےگا، اس نئے سرکلر میں مذہبی امور و مقامات سمیت مکمل لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا ہے تو پھر ہمارے علماء اور ذمہ داران مقامی انتظامیہ سے گفتگو کیوں نہیں کر رہے ہیں اور کیوں عوام کو اطمینان و سکون کے ساتھ مساجد میں آنے، وہاں نماز کی ادائیگی کرنے یا آنے والی عید و قربانی کے متعلق امور کی انجام دہی میں مشغول ہونے کی بات نہیں کر رہے ہیں، کیا اب تک قوم و مذہب کو جو معاشی اور مذہبی نقصان پہنچا ہے وہ کم ہے جو ہم گھروں سے نکلنے کو تیار ہی نہیں ہیں؟ اس لئے علماء کرام، ائمہ مساجد اور مقامی ذمہ داران کو چاہئے کہ اگر ضلع سطح پر بات بنتی ہو تو بنائیں ورنہ صوبائی سطح پر آواز بلند کر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے گفت و شنید کر اس مسئلے میں پرامن حل کا مطالبہ کریں۔