مولانا سید محمد سلمان مظاہری ناظم اعلیٰ مظاھر علوم سہارنپور کی سانحۂ وفات پر جمعیۃ علماء ضلع بستی اترپردیش کا اظہار تعزیت

70

بستی (روزنامہ نوائے ملت) اکابرین علماء امت ملت اسلامیہ کی عظیم سرمایہ ہیں کسی بھی قوم اور ثقافت کی بقاء وتحفظ کا انحصار انہیں مذہبی پیشواؤں پر ہے اور علمی ہستیوں کےوجود سے اسلام کا تشریعی نظام قائم ودائم اور مستحکم رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ شریعت میں علماء اسلام کو وارثین انبیاء کادرجہ حاصل ہے اور انکی موت کو پورے عالَم کا موت قراردیا گیا مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا عبدالقیوم قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع بستی یوپی نے حضرت مولانا سید محمد سلمان مظاہری رحمہ اللہ ناظم مظاھر علوم سہارنپور کی سانحۂ وفات پر اپنے تعزیتی پریس نوٹ میں کیا مولانا قاسمی نے کہا کہ بروقت اتنے جلدی جلدی علماءدین کادنیا سے اُٹھ جانا ناپید ھونا ملت کے لئے لمحہ فکریہ ہے مولانا نے کہاکہ مولانا سید محمد سلمان رحمہ اللہ ایک ایسے علمی روحانی خانقاہی خانوادہ کے چشم وچراغ تھے جن سے خلق خدا ہردور میں علمی روحانی فیض حاصل کرتی رہی ہے انہوں نے مولانا مرحوم کی وفات کو علمی اصلاحی اور انتظامی خسارہ قرار دیتے ہوئے انکے حق میں دعاء مغفرت کی. جمعیۃ علماء ضلع بستی کے سرپرست مولانا ظہیر انوار قاسمی نے اپنے تعزیتی نوٹ میں مرحوم کے پس ماندگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا کی جدائ کاصدمہ پوری علمی روحانی دنیا میں محسوس کیاجارہا ہے مولانا مرحوم اپنے تبحر علمی اورمومنانہ صفات تواضع انکساری اور خوش مزاجی کیوجہ سے اساتذہ طلبہ اور احباب میں بیحد محبوب ومقبول تھے مولانا قاسمی نے کہا کہ حضرت مولانا ہمارے اسلاف کی روایات کے پاسدار وپاسباں تھے. مرحوم کی وفات سے پوری علمی فضا کو مغموم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف مظاھر علوم سہارنپور کاخسارہ نہیں بلکہ ہم سب علماء اور مدارس اسلامیہ کا خسارہ ہے انہوں نے اپنے دعائیہ کلمات میں کہاکہ اللہ تعالیٰ مظاہرعلوم کو اُنکا نعم البدل عطافرماے اورمولانا کی علمی روحانی خدمات کو قبول فرماکر اُن کے حق میں صدقۂ جاریہ بناے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے. مولانا قیام الدین القاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع بستی یوپی نے جامع مسجد رودھولی میں بعد نماز مغرب تعزیتی نشست میں مولانا سید محمد سلمان مظاہری رحمہ اللہ کی انتقال پُر ملال کو علمی اصلاحی اور انتظامی خسارہ قرار دیتے ہوئے انکے حق میں ایصال ثواب کیلئے حاضرین کو ترغیب دی مولانا قیام الدین القاسمی نے علماء مظاہر علوم کی علمی دعوتی اصلاحی مشن اور علوم احادیث نبویہ کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم اُسی کچےمکان (خانقاہ شیخ) کے مکینوں کے پروردہ اور تربیت یافتہ تھے جنہوں نے اپنی علمی فکری دعوتی سرگرمیوں سے عالم اسلام کو فیضیاب کیا اور علماء عرب کو بھی اِسکا اعتراف کرنا پڑا مولانا قاسمی نے اپنے مشاہدات کے تناظر میں مولانا مرحوم کی اولوالعزمی اور انکی مدبرانہ قوت فیصلہ کو سراہتے ہوے کہا کہ تدریسی انتظامی امور اور ملی قانونی مہمات کو بحسن وخوبی سَر کرنا اُنکی حکمت عملی اور دور اندیشی کانتیجہ ھے انھوں نے اُنھیں جدید مظاہر علوم سہارنپور کا باکمال منتظم اور مدبر قرار دیا اورموجودہ تعمیراتی توسیع وتجدید اورزکریامنزل جیسے پرکشش اورپر شکوہ عمارت کو اُنکے شاہکار کارناموں سے تعبیر کیا مولانا قاسمی نے کہا کہ حضرت سید مرحوم کی فراست ایمانی اور اُنکی حکمت آمیز حسن انتظام کو دیکھکر حضرت پیرجی مولانا محمد طلحہ صاحب نوراللہ مرقدہ نے اپنے پیرانہ سالی کے آخری پڑاؤپر انہیں اپنا خلیفہ مجاز قراردیا اور اسطرح کچے مکان کی روحانی عبقری شخصیت کے خلف الرشید بنکر تادم حیات مولانا سید سلمان مظاہری نے خانقاہی معمولات کے ساتھ ساتھ اصلاحی بیانات کا سلسلہ جاری رکھا جسکی آڈیو کلپ بھی شوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی اور اس سے بہت سے فرزندان توحید استفادہ کرتے رہے مولانا مرحوم کی اخلاقی اصلاحی انتظامی ضیافتی اور درسی خوبیاں ہر طرح سے قابل رشک تھیں بلکہ سادگی اورمنکسرالمزاجی آپکی خمیر میں رچی بسی تھی مولانا قاسمی نے اپنے دعایۂ کلمات میں کہا کہ اللہ رب العالمین مولانا کی مغفرت فرماکر ان کے درجات کو بلند فرمائے اور جامعہ مظاہرعلوم کو اُنکابہترین بدل عطافرماے اور جامعہ کو مزید ترقیات سے نوازے اسیطرح اراکین جمعیۃ مولانا حفیظ الرحمن قاسمی مولانا عبد الحلیم مظاہری مولاناوصی اللہ قاسمی. مفتی محمد سعید مظاہری مولانا نبی سرورقاسمی مولانا ابوالکلام مظاہری. مولانا عبد اللہ مظاہری چھتونی. مولانا محمد صدیق صدیقی مولانا مہر علی مظاہری مولانا شبیر احمد مظاہری مولانا شفیق الرحمن قاسمی مولانا اشرف جہانگیر نے آن لائن تعزیتی کلمات اور مولانا مرحوم کے لئے ایصال ثواب کا اھتمام کیا. تعزیتی نشست میں حافظ شمیم اختر امام و خطیب رحمت مسجد حافظ جمال احمد محمد صادق بھائ پرویز بھائ اور دیگرمصلیان مسجد موجودرہے