سرسید تحریک کے علمبردار شاہد علی علیگ کی وفات پر تعزیتی نشست کا انعقاد،علاقے کی سرکردہ شخصیات نے مرحوم کو نم آنکھوں سے خراج عقیدت پیش کیا

30

سرسید تحریک کے علمبردار شاہد علی علیگ کی وفات پر تعزیتی نشست کا انعقاد،علاقے کی سرکردہ شخصیات نے مرحوم کو نم آنکھوں سے خراج عقیدت پیش کیا
سہرسہ(جعفرامام قاسمی)ماہر تعلیم، اخلاق کے پیکر ،نمونہ سرسید، انجمن ترقی اردو سہرسہ کے صدر محمد شاہد علی علیگ کے انتقال پر الخدمت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ سمری بختیار پور کے زیر اہتمام جامع مسجد رانی باغ میں امارت شرعیہ پھلواری شریف کے نائب صدر مفتی محمد سعید الرحمن کی زیر صدارت اور معروف صحافی وجیہ احمد تصور کی نظامت میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقہ بھر کے اہل علم اور دانشوران نے شرکت کر مرحوم شاہد علی کےیگوناگوں خوبیوں اور ان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے مشن کو آگے بڑھانے پر زور دیا.
پروگرام کا آغاز مفتی ظل الرحمن کی تلاوت قرآن پاک اور اشرف علی ندوی کی نعت پاک سے ہوا. جب کہ صحافی جعفرامام قاسمی اور فاخر امام نے مرحوم شاہد علی کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا،واضح رہے کہ مرحوم نے اے ایم یو میں جیولوجی سے ایم اے کرنے کے بعد وہیں جیولوجی کے ایک شعبہ ریموٹ سینسنگ ایپلی کیشن میں چار سال تک جونیئر سائنسداں کے طور پر اپنی خدمت انجام دی،اور اے ایم یو ہی کے فاصلاتی کورس کی دو کتابیں تالیف کی،آج کی اس تعزیتی نشست میں مرحوم کے تئیں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درسی ساتھی اور اسلامیہ ہائی اسکول کے پرنسپل محمد تنویر عالم نے کہا کہ وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی غریب بچوں کی فیس معاف کروانے میں آگے رہتے،اے ایم یو کے اساتذہ کے درمیان سھرسہ کی کوئی پہچان نہیں تھی،یہ جب وہاں پہنچے تو ان کی علمی قابلیت کی بنا پر سہرسہ کو لوگ جاننے لگے،بی اے میں جب وہ تھے تو کئی اسکالر ان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھواتے، وہ ہمیشہ علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لئے سرگرم عمل رہے. ان کا اچانک چلے جانا ناقابل تلافی نقصان ہے. مولانا محمد ضیاءالدین ندوی نے کہا کتنے بچوں کی وہ خود کفالت کرتے،یہ بات ان کے اسکول کے اساتذہ کو بھی پتہ نہیں تھا.
اپنے صدارتی خطاب میں مفتی سعید الرحمن قاسمی نے ان کی خوبیوں کا جامع تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم شاہد صاحب باکمال،باصلاحیت اورمشفق استاد تھے،جب میں ان کے اسکول جاتا تو انہیں بچوں سے ہی گھرا ہوا پاتا، انہوں نے کہا کہ میں امارت شریعت کا خادم ہونے کی بنا پر بڑی بڑی شخصیات کے جنازے میں شریک ہوا لیکن لیکن بہت کم جگہوں پر اس طرح ہردل کو غمگین اورہرآنکھ کو چھلکتے دیکھا،انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایک فن میں ماہر نہیں تھے، جس فن‌میں ان سے گفتگو کی جاتی ان کی گفتگوعلم کاایک دریا بہاتی نظر آتی ،انہوں نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے علاقے میں مرحوم شاہد صاحب کے نام سے لائبریری قائم کرنے پر زور دیا،


اس موقع پر مولانا سہراب ندوی ناظم مدرسہ دار خدیجہ سہرسہ نے کہا کہ وہ بلند اخلاق کے حامل تھے ،میرے بچے بھی ان کے پاس پڑھتے تھے،تعلیمی فیس کم کرنے یاتاخیرسے جمع کرنے کے بارے میں جومیں کہتا بخوشی اسے وہ مان لیتے،
اے ایم یو کے طلباء لیڈر ابوالفرح شاذلی نے کہا کہ مرحوم ہمارے مشفق استاد تھے اور ان کے لیے سچی خراج عقیدت یہی ہوگی کہ ہر صاحب استطاعت ایک غریب طالب علم کو گود لے لے اور بارھویں تک ان کا تعلیمی باپ بن جائے، تاکہ علاقے سے تعلیمی پسماندگی کو دور کیا جا سکے جس کے لئے مرحوم شاہد علی ہمیشہ سرگرم رہے.
گرین کریسینٹ اسکول کے بانی محمد طاہر الحسن نے کہاکہ اعلی تعلیم کے لیے جو بچے اے ایم یو یا جامعہ وغیرہ جانا چاہتے تھے اس کی تیاری کرنے والاعلاقے میں کوئی نظر نہیں آتا تھا،جب وہ علی گڑھ سے آئے تو اس کمی کو پورا کیا اور اس کے بعد سے ان کی زیر تربیت رہ کر ہر سال بہت سارےطلبہ و طالبات ملک کی بڑی یونیورسٹیوں میں باآسانی ٹیسٹ نکال لیا کرتے تھے،
اس موقع پر راجد امیدوار یوسف صلاح الدین نے کہاکہ شاھدصاحب نے ہزاروں بچوں کو علی گڑھ اور جامعہ تک پہنچایا اور ہمیشہ اسی فکر میں لگے رہتے تھے،علاقہ میں لائبریری کے قیام کے لئے وہ فکر مند تھے،ان کی اس فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم لوگ ہر ممکن کوشش کریں گے،
بی این منڈل یونیورسٹی مدھے پورہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹرابوالفضل نے کہاکہ اچھی قوم کی پہچان ہے کہ وہ اپنے نفع ونقصان کا احتساب کرے،آج ان کے جانے سے اس علاقے کاجوعلمی نقصان ہوا ہے اس کے احتساب کے لیے آج ہم لو گ بیٹھے ہیں اور ہمیں غور و فکر کرنا ہے کہ اس علاقے کو تعلیم کے معاملے میں کیسے پروان چڑھایا جائے. اس موقع پر انہوں نے ان سے اپنے دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی رحلت کو ذاتی نقصان بتایا.
ڈاکٹرقمرالہدی نے کہا کہ ہم لوگ ان کے مشن کو آگے بڑھا کر سچی خراج عقیدت پیش کر سکتے ہیں،
الخدمت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر حافظ محمد ممتاز رحمانی نے شکریہ کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے اور اس کے لئے سب کو آگے آکر اس خلا کو پر کرنا ہوگا،
دعائیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مولانا مظاہرالحق قاسمی نے کہاکہ اللہ مسبب الاسباب ہے،مصیبت کی گھڑی میں اس کی رحمت سے مایوس ہونا کفرہے اس لئے بھروسہ رکھئے،اللہ بہتر نعم البدل عطا کرے گا. ناظم نشست وجیہ احمد تصور نے کہا کہ وہ کبھی نہ اپنے گھر اورنہ کبھی اپنے بچوں کی فکر کیے بلکہ پورے علاقے کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کی فکر کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا جس کا نتیجہ ہے کہ نماز جنازہ میں ان کے محبین و معتقدین ایک جم غفیر شریک تھی اور سب کی آنکھیں اشکبار تھیں، آخر میں مولانا مظاہرالحق قاسمی کی دعا پر پروگرام اختتام کو پہنچا. پروگرام میں شرکت کرنے والوں میں مرحوم کے بڑے بھائی مولانا مشیر عالم قاسمی،مرحوم کے چھوٹے بھائی زاھد عالم،ان کے دونوں صاحبزادے عبدالباسط اور فائز سالک،ان کی زیرنگرانی چلنے والا علاقہ کا مشہور تعلیمی ادارہ انٹگرل پبلک اسکول کے اساتذہ طارق انور،مظفر اقبال،شہباز عالم،نور عالم،سیف علی،مظفر عالم،ابو حنظلہ کے علاوہ ماسٹر انور عالم، ماسٹر مشکور اقبال،مفتی نصراللہ، حافظ محمد کوثر امام، ماسٹر فیروز عالم، ماسٹرنگار عالم، منور عالم، مفتی فیاض عالم ،مولانا افسر امام، صبیح عالم، ناظم انور،محشر امام، یاسر عرفات، اسامہ،محمد ابوحذیفہ، افسر عالم، شمیم انور،اشفاق عالم، آفاق عالم، شمشاد عالم، عبدالسلام امین وغیرہ سمیت سینکڑوں افراد شامل تھے۔