دیوبند، 20؍ جولائی مشہور و معروف دینی ادارہ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے ناظم اعلیٰ مولاناسید محمد سلمان کے انتقال کی خبر سے یہاں علمی حلقوں کی فضاء مغموم ہوگئی۔ مولانا سید سلمان کچھ دنوں سے علیل تھے ،آج میرٹھ میں دوران علاج ان کی وفات ہوگئی ۔مولاناکے انتقال کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعہ وائرل ہونے کے بعد عالم اسلام سمیت ہندوستان بھر کے مدارس اسلامیہ ، ملی تنظیموں و ملت اسلامیہ کے لئے گہرے صدمہ کاباعث بنی۔مولانا سلمان کے انتقال پر ملک کی نامور شخصیات بشمول مہتمم دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، ندوۃ العلماء لکھنؤ،جمعیۃ علماء ہند وغیرہ دینی و ملی ادارہ کے ذمہ داران نے گہرے رنج و الم کااظہا رکیا اور حضرت مرحو م کے انتقال کو عظیم علمی وملی خسارہ قرار دیا۔مولانا سیدمحمدسلمان کا شمار ان ممتاز شیوخ اور علماء میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی علمی، دینی، اصلاحی اور تدریسی خدمات سے ایک سنہری تاریخ رقم کی ہے۔دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا سیدمحمد سلمان مظاہری کے جملہ پسماندگان ومتعلقین کو تعزیت مسنونہ پیش کی اور کہا کہ مرحوم کا سانحۂ وفات نہایت کربناک اور تکلیف دہ ہے۔ آپ کی وفات علمی دنیا کا ایک بڑا خسارہ اور ایک عہد کا خاتمہ ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے مولانا سلمان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے مولانا کے انتقال کو عظیم علمی و ملی خسارہ سے تعبیر کیا ۔دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے مولانا محمد سلمان مظاہری کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک وملت کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا مرحوم کا انتقال یقینی طورپر علمی حلقوںکے لئے عظیم سانحہ ہے، ان کی علمی و ملی خدمات ناقابل فراموش ہیں اللہ تبارک و تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر قاری سید عثمان منصور پوری نے مولانا سید سلمان کے انتقال کو عظیم علمی و ملی خسارہ سے تعبیر کیا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اسکی بھرپائی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم شیخ زکریاؒ کے عزیزوں میں سے تھے۔مولانا کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کا مشرکہ خسارہ ھے۔جسکا پر ہونا بظاہر بہت مشکل نظرآرہا ہے۔تاہم خدا وند قدوس سے دعا ہے کہ ملت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث اور جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے کہا کہ یہ سال امت کے لیے عام الحزن بن کر رہ گیا ہے۔ کسی نہ کسی بڑی شخصیت کی خبرِ وفات متواتر مل رہی ہے۔ یہ بلاشبہ امت کے لیے سوہانِ روح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا مرحوم نے مدرسہ مظاہرِ علوم کے پلیٹ فارم سے ملک و ملت کی بڑی خدمت کی۔ تدریس کی مسند کو بھی انہوں نے زینت بخشی۔ مولانا بڑی نسبتوں کے حامل تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے خویش بھی تھے۔ ان کی وفات بلاشبہ حسرت آیات ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل سے نوازے۔عالمی روحانی تحریک کے سربراہ مولانا حسن الہاشمی نے مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و مغم کااظہار کرتے ہوئے ان کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی اور کہاکہ مولانا مرحوم جماعت دیوبند کے ممتاز فرد تھے ان کارخصت ہونا علمی حلقوںکا عظیم خسارہ ہے ،اللہ پاک حضرت مرحوم کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے اور ملت کو ان کانعم البدل عطا فرمائے۔ معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا سلمان سہارنپور مظاہر العلوم کے ناظم کا انتقال بڑا افسوس ناک واقعہ ، وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور حال ہی میں انہوں نے حضرت مولانا طلحہ سہارنپوری کے انتقال کے بعد ان کی ذمہ داریوں کو سنبھالا تھا ، جس سے شائقین تصوف کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ ان کے اس اچانک حادثہ وفات سے وہ ساری امیدیں ختم ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مزاج ، عادت او راخلاق کے اعتبار سے قرن اول کے انسان معلوم ہوتے تھے ، ان جیسی سادگی اور منکسرالمزاجی کم ہی لوگوں میں پائی جاتی تھی۔ ان کے حادثہ وفات سے ملک وملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے۔ دارالعلوم وقف کے استاد مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا سلمان مظاہری ایک دیدہ ور عالم ، ممتاز صاحب علم اور کامیاب ترین مدرس تھے ۔ مظاہرہ علوم سہارنپور کو ان کی وفات سے یقینی طو رپر خسارہ کا سامنا ہوا ہے ، گزشتہ چند مہینے علماء وفضلاء کی رخصتی کے مہینے ثابت ہوئے جو یقینا نقصان اور رنج کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا سلمان کی مغفرت کاملہ فرماکر بلند درجات سے نوازے۔

مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ مولانا سلمان مظاہری کا انتقال نہ صرف مدرسہ مظاہر العلوم کا حادثہ ہے بلکہ دنیائے مدارس کا بڑا حادثہ ہے، وہ اچھے مدرس ، ہوشمند منتظم اور مشفق استاد تھے، انہو ںنے تعلیمی معیار بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ اختلاف کے باوجود تعلقات نبھانے کے فن سے واقف تھے ، ان کے انتقال سے پرانوں کے سلسلے کی ایک کڑی ٹوٹ گئی، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے۔ جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کے استاذِ حدیث و نائب ناظمِ تعلیمات مولانا فضیل احمد ناصری نے کہا کہ مولانا مرحوم کی وفات سے سخت صدمہ پہونچا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم سانحہ ہے، جس کا اثر دیر تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ علما کو اٹھا کر علم اٹھا لیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ وہی وقت آ گیا ہے۔ اللہ جل مجدہ ملت کے حال پر رحم فرمائے۔ مولانا ناصری نے مزید کہا کہ مولانا مرحوم بجسدہ اگرچہ ہمارے درمیان سے اٹھ گئے، مگر اپنے کارناموں کی وجہ سے دلوں میں زندہ رہیں گے اور ان کی یادوں کا چراغ فروزاں رہے گا۔

آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع صدر ڈاکٹر مولانا عبدالمالک مغیثی نے کہا کہ گزشتہ مہینوں میںدیکھا جارہا ہے کہ دنیائے انسانیت سے انسانیت کے علم برداروں میں سب سے زیادہ موقر علماء کرام اس لاک ڈاؤن میں رخصت ہورہے ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔جسے روکنا صرف اور صرف روکنے والی ذات رب العالمین ہی کے ہاتھوں میں ہے۔آپ کے انتقال پر ملال کی نا گہانی خبر سے پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گء۔ اور تمام دینی وملی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی۔اس قحط الرجال کے دور میں آپ کا ھم سے اتنی عجلت میں جدا ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جا ملنا۔جامعہ دارالعلوم اسعدیہ سرساوہ کے استاد مولانا عثمان خورشید نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ یکے بعد دیگرے ایسی صفات کے حامل نامور علماء ومشائخ کرام کی رحلت قوم وملت کے لئے عظیم سانحات ہیں۔ خصوصا ایسے وقت میں کہ جب امت مسلمہ بڑے نازک مراحل سے گذر رہی ہے۔ یوں تو موت ایک اٹل قانون الٰہی ہے کسی بھی چیز کو اس سے مفر نہیں ہے، جب موت اپنا پنجہ گاڑ دیتی ہے تو ہر تدبیر ناکام ہو جاتی ہے۔ ان کے علاوہ جامعۃ الشیخ حسین احمدمدنی کے مہتمم مولانا مزعلی قاسمی، نامور قلمکار مفتی ساجد کھجناوری، جامع مسجد سہارنپور کے منیجر مولانا فریدمظاہری وغیرہ نے بھی حضرت مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و الم کااظہار کیا۔

فوٹو۔ مفتی ابوالقاسم، مولانا سفیان، مولانا ارشد مدنی، قاری عثمان، مولانا احمد خضر شاہ ، مولانا نسیم اختر شاہ، مولانا ندیم الواجدی، مولانا حسن الہاشمی، مولانا عبدالمالک مغیثی، مفتی ارشد فاروقی، مولانا عثمان خورشید-