آہ ٠٠٠ایک اور ہستی ہمیں چھوڑگٸی

19

قارٸین کرام :
ابھی تو جامعہ مظاہر العلوم کے روح رواں ، خانقاہ خلیلیہ کے سجادہ نشیں ،حضرت اقدس مولانا سلمان صاحب رحمة اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کاغم علما وطلبا عوام وخواص میں تازہ تھا ہی کہ اچانک آج بعد نماز عشا ایک المناک غمناک دلدوز خبر شوشل میڈیا پر واٸرل ہوتے ہوٸے میرے نظرسے گذری کہ صوبہ بہار کے مشہور ضلع مدہوبنی کی جانی مانی عظیم شخصیت، اچھے خطیب، ملی وعلمی قاٸدوراہنما، قابل تعریف منتظم ،چشم فیض ململ کے روح رواں اور جامعہ فاطمة الزہرا للبنات کے بانی حضرت اقدس مولانا وصی احمد صاحب صدیقی رحمة اللہ علیہ اس دارفانی کو چھوڑکر داعی اجل کو لبیک کہ گٸے إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
دوستو: یقیناً اس دور پرفتن میں ایسے مربی،لاٸق وفاٸق منتظم ،شخصیت ساز ہستی کاچلاجانا بہت بڑا ملی و علمی خسارہ ہے ،مولانا نے جس جدوجہد اور جانفشانی سے مدرسہ کوسینچا اور پروان چڑھایا ہے ،وہ مثالی بھی ہے اور تاریخی بھی،مولانا کےانتقال کی خبر سے زبان پہ سکتہ طاری ہوگیا ،ہوش اڑنے لگے کہ آخر ہم لوگ کس دور سے گزر رہے ہیں ،کہ ہرتھوڑے وقفہ پر ایک ایک چراغ بجھتاہوا نظر آتاہے ،مجھے ایسالگتا ہے کہ ادھر علم کے مراکز جہاں شب وروز قال اللہ اور قال الرسول کی صداٸیں گونجتی تھی وہ بند ہوگٸی اور ادھر علما ٕ جنت کارخ اختیارکرنےلگے ،موت چونکہ برحق ہے اور ایک مومن کا اس پہ یقین کامل ہے ، کہ ہمیں اپنے مالک حقیقی کے پاس جاناہے ،لہٰذا ہم پوری امت مسلمہ سےعاجزانہ درخواست کرتے ہیں ،کہ مولانا ؒ کے لٸے ایصال ثواب کااہتمام کریں اور بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہوں کہ خداوند قدوس مرحوم ؒ کی جملہ صغاٸر وکباٸر گناہوں کی مغفرت فرماٸے اور خدمات کوقبول فرماٸے ،اور چشم فیض ململ کو نعم البدل منتظم عطافرماٸے ،اور پسماندگا ن کوصبر جمیل عطافرماٸے آمین