پتھردل کو موم بنانے والی شخصیت چلی گئی،

31

ارریہ (توصیف عالم مصوریہ)نمائندہ نوائےملت
مفتی ہمایوں اقبال ندوی
ابھی خبر ملی ہے کہ حضرت مولانا سید سلمان صاحب مظاہری اس دارفانی سے کوچ کرگئےہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون، اللہ غریق رحمت کرے اور اعلی علیین میں جگہ نصیب کرے، آمین یا رب العالمین ۔
مولانا مرحوم کےاچانک ہمارے درمیان سےجانے پرپوراملک سوگوار ہے۔جامعہ مظاہر علوم اور اس کے مستفیدین ومتعلقین  کایہ ذاتی نقصان ہے اور بڑاخسارہ ہے۔ ایک بڑا مدبر ومنتظم وقابل ناظم سے جامعہ آج کی تاریخ میں خالی ہوگیاہےاورمتعلمین جامعہ بہترین سرپرست واستاد اور شفیق باپ سے محروم ہوگئے ہیں ۔محبین جامعہ وعوام الناس کے لئے اس سے زیادہ صدمے کی بات اورکیا ہوسکتی ہے کہ آج بہترین ناصح ومصلح ان کے درمیان اب نہیں رہے،یہی وجہ ہےکہ سب خودکویتیم محسوس کررہےہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حضرت والا کے وصال کی خبر جہاں جہاں پہونچ رہی ہے نقصان کا دائرہ وہاں تک دراز ہوتا چلا جارہا ہے ۔یہ آپ کے خلوص وللہیت کی دلیل ہی کہی جاسکتی ہے۔ اور ہاں ایک بات اور سمجھ میں آتی ہے کہ آپ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمة الله علیہ کی پگڑی جوآپ کی ملی اس کی بڑی قدر وقیمت کی ہے ۔آپ نے اپنے استاد حضرت مولانا زکریا کاندھلوی کے علم وعمل کی بڑی حفاظت واشاعت کی ہے۔حق شاگردی وحق دامادی دونوں خوب سے خوب ترنبھایا اوراس کاحق ادا کردیا ہے ،اللہ اس کا بھر صلہ آپ کو نصیب کرے، (آمین )
میری نظر میں حضرت مولانا سید سلمان مظاہری رحمہ اللہ کی وفات ایک ایسا خلا ہے جس کا پر ہونا مشکل ہےلیکن موجودہ حالات میں اس کوپاٹنا ضروری ہے ۔آپ نےعوام الناس ہی نہیں بلکہ علماہءوخواص کی بھی تزکیہ وتطہیرکافریضہ انجام دیاہے۔وارث نبی ہونےکامکمل احساس کیاہےاوراس تعلق سے مفوضہ ذمہ داریوں کواداکرنےکی کماحقہ کوشش کی ہے۔حضرت علی میاں رحمہ اللہ علیہ نےمنصب نبوت کےفرائض چہارگانہ کےعنوان پرتزکیہ نفس کوقران کریم کی روشنی میں دوسرافریضہ قراردیاہے۔مولاناسلمان مظاہری رح اس منصب نبوت کےمصداق اورتزکیہ نفس کےفریضہ میں ممتازرہے ہیں،آپ کے انتقال سے یہ سب سے بڑا خلا پیدا ہوا ہے جو ایک عالم کو وارث نبی بناتا ہے اور چاروں فرائض کی ادائیگی کی تحریک کرتا ہے ۔اے کاش کوئی عاشق رسول اور دیوانہ خداآجائے اور مولانا مرحوم کی مسند کو عزت نہ بخشے ، اس وراثت کوسنبھال لے ورنہ نقصان عظیم کے ساتھ خطر شدیدکا اندشہ اور شقاوت قلبی کے مرض میں ابتلائے عام ہی نہیں بلکہ ابتلائے علماء کا قوی امکان  بھی ہے ۔مولانا مرحوم کی شناخت پورےملک میں پتھر دلوں کو موم بنانے والی شخصیت کی رہی ہے ، اور آج انتقال کے بعد ایسا محسوس ہوا ہے کہ دور دور تک اس عنوان پر میدان خالی ہے :
         ہر اک مکاں کوہے مکیں کو شرف اے اسد
     مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے۔
۱۲/۱۳/محرم الحرام ۱۴۲۷ھ کا واقعہ یے۔ مجلس علمیہ آندھرا پردیش کے تحت "مسلک علمائے دیوبند اور معاصر جماعتیں” کے عنوان پر دوروزہ پروگرام بمقام آئیڈیل ہائی اسکول شاد نگر حیدرآباد میں منعقد ہوا تھا،
ناچیز بھی مذکورہ پروگرام میں حاضر تھا ،کم وبیش ایک ہزار علمائے کرام پوری ریاست کے موجوداس مجلس کی زینت بنے تھے ۔حضرت مولانا سید سلمان مظاہری رحمہ اللہ کو "تزکیہ قلب "کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی گئی ۔آپ تشریف لائے اور اس موضوع کا حق اسطور پر ادا کیا کہ ہر ایک عالم دوسرےعالم میں چلاگیاتھا اور ڈھاریں مار مار کر رورہا تھا،تقریبا ڈیرگھنٹہ کے خطاب میں حب دنیاوحب جاہ سب کے دل پاک اورصاف ہوئےاورگریہ کاسمابندھ گیا ہے ۔ قرآن کریم کی اس آیت کی عملی تفسیر :انما يخشى الله من عباده العلماء( قرآن )دیکھنے کو عیانا مل رہی تھی، ریاست آندھرا پردیش وحیدرآباد کی پتھریلی وپہاڑی سرزمین میں بڑی رقت اور نمی محسوس ہوئی ۔اللہ آپ کی ان خدمات کو آپ کےحق میں صدقہ جاریہ بنادے اورشایان شان اجر جزیل عطا کرے،ساتھ ہی ساتھ ہمیں مولانا مرحوم کی شکل میں بدل نصیب کرے۔
ایں دعا ازمن وجملہ جہاں آمین آباد
راقم الحروف
بندہ ناچیز
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ, 9973722710