صالح معاشرہ کی تشکیل کےلیے نکاح ایک امرلابدی ہے

20

انسانی فطرت،طبعیی تقاضےکےموافق اورقلبی وذہنی راحت وسکون کی خاطر،خالق الارض والسماوات نےحضرت آدم علیہ الصلاۃوالسلام کےجسدمبارک کی ایک جانب وپہلوسےخلاف جنس نوع کی تخلیقی ابتداحضرت حواعلیہاالسلام سےفرمائی،پھران دونوں کےمابین رشتہ زوجیت کو قائم کیا؛تاکہ نسل انسانی کایہ سلسلہ باقی رہے،جوڑےبنتےرہیں،نسلیں پھیلتی رہیں،اوررشتہ ازدواج میں منسلک کرکے،ان کےدرمیان الفت ومحبت پیدا کردی،اورانہیں ایک دوسرے کے سکون کاذریعہ بنایا،رب العالمین نےاس عظیم رشتہ نکاح کوتمام ولدآدم کےلئےبرقراررکھا،اوراس رشتےمیں منسلک ہونے والے،سنت نبوی کواپنانےوالے قرار پائے،اور اس سےبےجابےاعتنائی وروگردانی کرنےوالے،اسوہ نبی سے کنارہ کشی اختیارکرنےوالےگردانےگئے،اور من جانب اللہ اس رشتےمیں مربوط ہونےوالےفقراکےلیے وسعت و فراخی اور غناء و مالداری کا وعدہ بھی کیاگیاہے،اورتاریخ بھی شاہدعدل ہے،کہ بہت سےفقراءحضرات باوجوداپنی تنگ دستی و فقر وفاقہ کے،جب رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ہیں،تو خالق مطلق نےمحض اپنےفضل وکرم سے،انہیں مالداربنادیاہے،اوران سےفقروفاقہ اورتنگ دستی کواس طرح دورکردیےہیں،کہ پھروہ دوبارہ کبھی ان کےپاس بھٹکی بھی نہیں ہے-
سرورکائنات حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نےنکاح کی ترغیب دیتے ہوئےکہا:النكاح من سنتي فمن رغب عن سنتي فليس مني.{ نکاح میری سنت ہے،جومیری سنت سےاعراض کرےگا،وہ میرانہیں} نکاح ایک مضبوط شرعی معاہدہ ہے،ایک اجنبی مردوعورت کا،یہ مضبوط معاہدہ صرف نفسانی خواہشات ہی کی تکمیل کےلئےنہیں ہے؛ بل کہ اس کاایک اہم اورعظیم مقصد نسل انسانی کا فروغ،زندگی کا سکون اوردل کی راحت حاصل کرنا ہے، اوردواجنبی مرد عورت کےمابین الفت و محبت کی فضاہموارکرناہے۔
نکاح عفت وپاکدامنی کا ذریعہ ہے،نکاح نگاہوں کےجھکانےاور شرم گاہوں کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے، نکاح کے ذریعےنصف دین کی تکمیل ہو جاتی ہے،نکاح سےصحیح معاشرہ وجود میں آتا ہے ،نکاح معاشرہ اور سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں کےخاتمےاورسدباب کاذریعہ ہے، نکاح کے ذریعے انسان۔کی عظمت ووقارمیں اضافہ ہوتا ہے، نکاح ہر طرح کےشکوک وشبہات۔کےدائرے میں وقوع سے بچاتا ہے،اس کےبرخلاف نکاح نہ کرنے والاشخص ارشادنبوی”فلیس منی”کامصداق ہوتاہے،ان کی نگاہیں اورشرم گاہیں محفوظ نہیں ہوتی ہیں،ان کا نصف دین بھی مکمل نہیں ہوتا ہے،ان کی عزت وناموس بھی ہمہ وقت اور ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے ،لوگ ان سے بدظن رہتے ہیں، شکوک و شبہات کے دائرے میں رہتے ہیں، بےچینی کی زندگی جیتے ہیں، کیافائدہ ایسی زندگی سے، جس میں کوئی شریک حیات،شریک راز اور شریکِ غم نہ ہو، ان پر مستزاد یہ کہ ہر وقت لوگوں کی ملامتیں بارش کی طرح برستی بھی ہوں،تاجداربطحاسیدالکونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نےمسلم نوجوانوں کو پاکیزگی اور عفت و پاکدامنینکی تعلیم دیتے ہوئے نکاح۔کرنےاورپاکیزہ زندگی گزارنے کی تلقین کی ارشادنبوی ہے:من الستطاع الباءۃ فلیتزوج فانه أغض للبصروأحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیه بالصوم فانه له وجاء.(جو شخص استطاعت رکھتا ہو، شادی کرے؛اس لئےکہ یہ نگاہ کی پاکیزگی اور شرم گاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے،اور جس شخص کے پاس شادی کرنےکی قدرت و استطاعت نہ ہو، تو اسےچاہیےکہ وہ روزہ رکھے،کہ یہ اس کی شہوت کا توڑہوگا)۔
جب اولادبلوغیت کی عمرکو پہنچ جائے،اوراولاد جملہ۔حقوق کی ادائیگی پر قادر بھی ہو،تووالدین کی ذمہ داری ہوتی ہے،کہ وہ اپنی۔اولادکےلیےمناسب اوربہترجوڑےکاانتخاب۔کرکے،نکاح کرادے،لڑکی کا انتخاب۔اس کےمال ودولت کو دیکھ کر،اس کےبڑے خاندان کو دیکھ کر، اس کی۔خوبصورتی اور حسن و جمال کو دیکھ کرہرگز نہ کیاجاۓ؛ بل کہ اس کی دینداری وشرافت کو دیکھ کرکیاجائے،اسی میں صد فیصدکامیابی ہے، اوراس کے عکس میں سو فیصد ناکامی ہے؛کیوں کہ صالح معاشرہ کی بنیادصالح خاندان ہے،اورصالح خاندان کی بنیاد صالح جوڑا ہے؛ اس لئےشادی کےوقت جوڑےکےانتخاب میں لڑکااور لڑکی کی صالحیت اوردینداری کا خیال رکھاجائے، تاکہ صالح معاشرہ کی بنیادپڑے۔
لڑکااورلڑکی کےانتخاب میں صالحیت ودینداری ،اورعمدہ اخلاق صحیح معاشرہ کےلئے،جس طرح امرناگزیرہے،بعینہ اسی طرح معاشرے کو بہہ سے بہتر بنانےکےلئے،دونوں کےمابین مالی کفاءت بھی ضروری ہے، تاکہ میاں بیوی خوش گوارطریقے سے زندگی بسر کرسکیں،اوران کےمابین آئندہ ان بن نہ ہو سکے،ورنہ غیرکفوءمیں شادی کرنےوالےمیاں بیوی کےدرمیان لفظی جنگ وجدل تو ہوتی ہی رہتی ہے، اوربسااوقات،توہاتھاپائی کی نوبت تک بھی آجاتی ہے،ناکح ومنکوحہ کےمابین دائمی الفت ومحبت برقراررکھنےکےلیے،شریعت اسلامیہ میں مسئلہ کفاءت کا اعتبارکیاگیاہے،یہی وجہ ہے،کہ اگرلڑکی غیرکفوءمیں،بدون اذن ولی شادی کر لیتی ہے، تو پھرولی اقرب، مثلا باپ کو فسخ نکاح کاحق حاصل ہوتاہے۔
خواہ لڑکا ہو یالڑکی بلوغیت کی دہلیز پر قدم رکھتےہی،وہ انسانی فطرت کےمطابق،اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل وراحت کےلیے،لڑکالڑکی کی شکل وصورت میں،اورلڑکی لڑکےکی صورت میں اپنا رفیقہ حیات اوررفیق راز تلاش کرنے میں مصروف ہوجاتاہے؛مگرافسوس کے موجودہ دور کےکچھ جدت پسندحضرات،بحیثیت والد ہونےکے،اپنی اولاد کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے،اس وقت تک روکےرکھتے ہیں،تاآں کہ ان کی اولاد سرکاری یا پرائیویٹ نوکری کےلیےمامورنہ ہوجاتےہیں،اورجب نوکری مل جاتی ہے،توپھربڑےہی دھوم دھام سے اپنی اولاد کی شادی کرتےہیں؛مگرایک طویل عمر شباب کےضائع ہونےکی وجہ سےپوری زندگی عمر رفتہ پر کثرت سےروتےہیں،مگرگیاوقت پھرہاتھ آتا ہی کب ہے،ان افکا وخیالات اورباطل نظریات کےحامل انسان قولاخودکورازق ہونےکااقرارتونہیں کرتےہیں؛مگرعملارازق ہونےکاثبوت ضروردیتےہیں۔
اسی طرح ایک اوربہت بڑاالمیہ،جوفسادمعاشرہ کےلئےمفید ومعاون ہے،وہ یہ ہےکہ جب جانبین سے نکاح کےتئیں بات حتمی اور یقینی ہوجاتی ہے،تو نکاح کےروزلڑکےکےوالد،لڑکی والوں کےیہاں کثیر تعداد میں برات لاتےہیں،اور مہمانوں کےلیےفرمائشی معقول طعام کےانتظام کاحکم بھی دیتے ہیں،جس کی بناءلڑکی کے والدکوکافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،مگربدرجہ مجبوری وہ ساری پریشانیوں کو جھیلتے ہیں،جب کہ سب سے بہتراور بابرکت نکاح اسےکہاگیاہے،جس میں کم سے کم صرفہ ہو”ان أعظم النکاح برکةایسره مؤنة "۔
نکاح جیسی عظیم نعمت کےحصول اور سنت نبویہ کواختیارکرنےکی خوشی میں، لڑکے والوں کو دعوت ولیمہ کرنی چاہیے،جس کا مقصد نعمت نکاح کےحصول پر مسرت و شادمانی کا اظہاراوراعزہ واقارب،دوست واحباب،اور پڑوس میں رہنےوالوں کو شریک کرنا ہو،دعوت ولیمہ میں شرفاء واغیاء کے ساتھ ساتھ،فقراءومساکین کو بھی شریک کریں،تاکہ دعوت ولیمہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم "شرالطعام طعام الولیمة یدعي لهاالأغنیاء ویترک الفقراء”کامصداق نہ بن سکے،اس میں بھی فضول خرچیوں سےاجتناب کیاجائے،دعوت ولیمہ کےکھانوں کےانتظام وانصرام میں،قطعی تکلفات سے کام لینےکی ضرورت نہیں ہے،اگرممکن ہو،توارشاد نبوی”أولم بشاة”کے مطابق،ایک بکری ہی کےذریعے دعوت ولیمہ کرلیں۔
جس مسلمان کے دل و دماغ میں بھی اللہ کےرسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سےادنیٰ محبت ہوگی، بشرطیکہ وہ جملہ حقوق زوجیت کی ادائیگی پرقادربھی ہو،تووہ سنت نبوي”النکاح من سنتی”سےقطعی گریزنہیں کرےگا، تجرد وتفرداورکنارہ کشی کی زندگی گزارنےکےساتھ ساتھ،اللہ اوراس کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وبندگی کرناکمال نہیں ہے؛بل کہ کمال یہ ہےکہ انسان شادی بھی کرے،اوراپنی اولاد کی پرورش وپرداخت کرنےکےساتھ ساتھ،اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کےہرہرحکم پر عمل اورہرہرمنہی عنہ سےاجتناب کرے۔
خداوند عالم تمام مسلمانوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے، اوراس موقع سےہونےوالےبےجااخراجات،اور موجودہ دورکےتمام ہی شروروفتن سےحفاظت فرمائے،آمین۔