عشرہ ذی الحجہ کی عظمت وحرمت کی قدرکیجئے !

19

عشرہ ذی الحجہ سال کے بارہ مہینوں میں بڑی ممتازحیثیت رکھتاہے۔ ان میں نیک اعمال کرنے پر بہت بڑے ثواب کاوعدہ ہے۔ سورہ فجرکی ابتدائی آیات ’’والفجرولیال عشر‘‘ میں اللہ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے کہاہے کہ اس سے مراداس سے مراد ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔اس سے ان دس راتوں کی عظمت وحرمت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اورخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طورپر ان ایام کی فضیلت بیان فرمائی ۔آپؐ نے فرمایاکہ’’ اللہ تعالی کوعشرہ ذی الحجہ کی عبادت سب سے زیادہ پسندہے۔‘‘خواہ عبادت نفلی نمازہو،ذکریاتسبیح ہویاصدقہ وخیرات ہو۔(بخاری کتاب العیدین،باب فضل العمل فی ایام التشریق)اورایک حدیث میں یہ بھی فرمایاکہ ’’ان ایام میں ہردن کاروزہ ایک سال کے روزوں کے برابرہے اورہررات کی عبادت شب قدرکی عبادت کے برابرہے۔‘‘ (سنن ترمذی حدیث نمبر:۷۵۸،ابن ماجہ حدیث نمبر:۱۷۲۸،الترغیب ص:۲۷۱)یعنی اگرکوئی شخص ان ایام میں سے ایک دن روزہ رکھے تو ایک روزہ ثواب کے اعتبارسے ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اگر ان راتوں میں سے کسی بھی ایک رات میں عبادت کی توفیق ہوگئی توگویااس کو شب قدر میں عبادت کی توفیق ہوگئی۔اس عشرہ کواللہ نے اتبابڑادرجہ عطا فرمایاہے۔اوران ایام کی اس سے بڑی اور کیافضیلت ہوگی کہ وہ عبادتیں جو سال بھرکے دوسرے ایام میں انجام نہیں دی جاسکتیں ان کی انجام دہی کے لیے اللہ نے ان ایام کو منتخب فرمایاجیسے حج اور قربانی ۔یہ ایسی عبادتیں ہیں جو دیگر ایام میں انجام نہیں دی جاسکتیں۔اسی لیے علماء نے ان احادیث کی روشنی میں یہ لکھا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے ایام عشرہ ذی الحجہ ہیں۔ان میں عبادات کاثواب بڑھ جاتا ہے اور اللہ کی خاص رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔

قربانی کرنے والابال اور ناخن نہ کاٹے:

ذی الحجہ کاچانددیکھتے ہی جوحکم سب سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتاہے وہ ایک عجیب حکم ہے ۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشادفرمایا:’’جب ذی الحجہ کامہینہ شروع ہوجائے اور تم میں سے جو قربانی کرنے کاارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔(ابن ماجہ حدیث نمبر:۳۱۸۷،مسلم شریف)اس حدیث اور دیگراحادیث کی روشنی میں قربانی کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کاچاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک جسم کے کسی حصے کے بال اور ناخن نہ کاٹے ۔اگربال یاناخن وغیرہ کاٹنے کی ضرورت ہوتو ذی قعدہ کے آخرمیں فارغ ہوجائے۔
بظاہریہ حکم بڑاعجیب معلوم ہوتا ہے کہ چانددیکھ کربال اور ناخن کاٹنے سے منع کردیاگیا؛لیکن دراصل بات یہ ہے کہ ان ایام میں عشق ودیوانگی کامظہر حج کی عظیم عبادت کے لیے بیت اللہ کے اندر ہرلمحے ہزاروں فرزندان توحید اطراف عالم سے جمع ہورہے ہیں ،اللہ نے انہیں حج کی سعادت بخشی ۔ ان حضرات کے لیے حکم ہے کہ جب وہ بیت اللہ کی طرف جائیں تووہ بیت اللہ کی وردی یعنی احرام پہن کرجائیں اورپھراحرام کے اندر بہت سی پابندیاں ہیںمثلا یہ کہ سلاہواکپڑانہیں پہن سکتے، خوشبونہیں لگاسکتے، منھ نہیں ڈھانپ سکتے وغیرہ ،ان میں سے ایک پابندی یہ ہے کہ بال اورناخن نہیں کاٹ سکتے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر اوران لوگوں پر جوحج کی عبادت میں شریک نہیں ہیں،اللہ کے فضل وکرم کومتوجہ فرمانے اور ان کی رحمت کا مورد بنانے کے لیے یہ فرمایاکہ ان حجاج کے ساتھ تھوڑی سی مشابہت اختیارکرلو،ان کی شباہت اپنے اندرپیداکرلو،ان کی طرح بال اورناخن مت کاٹو۔
ڈاکٹر محمد عبدالحی رحمہ اللہ فرماتے تھے:اللہ کی رحمتیں بہانے ڈھونڈتی ہیں،جب ہمیں یہ حکم دیاکہ ان کی مشابہت اختیارکرلوتواس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر جورحمتیں نازل فرمانامنظورہے اس کاکچھ حصہ تمہیں بھی عطافرماناچاہتے ہیںتاکہ جس وقت عرفات کے میدان میں ان اللہ کے بندوں پررحمت کی بارشیں برسیں ،اس کی بدلی کاکوئی ٹکڑا ہم پربھی رحمت برسادے۔تویہ شباہت پیداکرنابھی بڑی نعمت ہے۔

یوم عرفہ کاروزہ:

عشرہ ذی الحجہ کی اتنی فضیلت ہے کہ ان ایام میں ہر دن کاروزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ہررات کی عبادت شب قدرکی عبادت کے برابر ہے۔لہذان ایام میں خصوصیت کے ساتھ نیک اعمال اور عبادتوں کااہتمام کرناچاہئے ۔ نویں ذی الحجہ کادن عرفہ کادن ہے،اس دن خاص طورپر روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ اس روزہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’عرفہ کے دن جوشخص روزہ رکھے تومجھے اللہ تعالی سے یہ امید ہے کہ اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعدکے گناہوں کاکفارہ ہوجائے گا۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر:۱۷۳۴،الترغیب ص:۲۲۸)

تکبیرتشریق:

ان ایام میں تیسراعمل تکبیرتشریق ہے۔یہ تکبیرعرفہ کے دن یعنی نویں تاریخ کی نمازفجرسے تیرہویںتاریخ کی نمازعصرتک ہرفرض نمازکے بعد ایک مرتبہ پڑھناواجب ہے ،سب ۲۳نمازیں ہوئیں جن کے بعد تکبیر واجب ہے۔وہ تکبیریہ ہے:اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمَدُ۔صاحبین رحمہ اللہ کے نزدیک منفرد،مقتدی،امام،مسافر،مقیم ،مرد اور عورت سب پرواجب ہے۔مردوں کے لیے متوسط بلندآواز سے اس تکبیرکاکہناواجب ہے، اور آہستہ آوازسے کہنا خلاف سنت ہے۔ہاں عورتیں آہستہ آوازسے کہیںگی۔نمازکے بعدفوراتکبیرکہناچاہئے۔عیدالاضحی کی نمازکے بعد بھی تکبیرکہہ لینابعض کے نزدیک واجب ہے۔

تکبیرتشریق خواتین پربھی واجب ہے:

تکبیرتشریق کاکہناخواتین کے لیے بھی مشروع ہے؛لیکن اس میں عام طورپربڑی کوتاہی ہوتی ہے۔خواتین کوتکبیرتشریق پڑھنایادنہیں رہتابلکہ اس کارواج بہت کم ہے۔اگرچہ تکبیرتشریق خواتین پرواجب ہونے کے بارے میں علماء کے دوقول ہیں ۔بعض واجب اور بعض مستحب کہتے ہیں؛لیکن ظاہر ہے کہ احتیاط اسی میں ہے کہ خواتین بھی ان ایام میں تکبیرکہیں۔لہذاخواتین کوبھی اس کی فکرکرنی چاہئے۔اورانہیں یہ مسئلہ بتاناچاہئے۔خواتین اپنے گھروں میں جس جگہ نمازپڑھتی ہیں وہاں پریہ دعالکھ کر لگالیں،تاکہ نمازسے سلام پھیرنے کے بعد فورایادآجائے۔