فن صحافت اورہماری ذمہ داری؟

41

صحافت ایک معیاری، ترقی پزیر اور معززفن ہے، جواخبارنویسی، یا جرنلزم کے نام سے بھی مشہور ہے، صحافت کا میدان عمل اپنی تمام تر وسعت کے ساتھ نہایت ذمہ داریوں اور قربانیوں کا طالب ہوتاہے، اس فن میں کمال، محنت ومشقت اوربھرپورتوجہ کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک صحافی کو اپنے فن میں کمال حاصل کرنے کے لئے تجربات کی بہت سی پرخاروادیوں سے گزرنا پڑتا ہے، کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر اپنے (صحافت)کے اصول سے سمجھوتا نہ کرنااور حقائق کو آشکارا کرنا صحافی کاجرأت مندانہ فريضہ (اور اہم ذمہ داری) ہے۔

بعض لوگ اس فن کو ذریعۂ معاش کے طور پر اختیار کرتے ہیں اور اپنی ہمہ وقتی محنت وریاضت اور جاں فشانی کے ذریعہ اس پیشہ میں اپنا روشن مستقبل تلاش کرتے ہیں، ایسے صحافی”ورکنگ جرنلسٹ” کہلاتے ہیں، بعض صحافی جز وقتی طورپر اس پیشہ کواختیار کرتے ہیں، ان کی اصل مصروفیت تو کچھ اور ہوتی ہے لیکن وہ آزادانہ طریقہ سے خارج اوقات میں مختلف اخبارات کے لئے مضامین لکھ کر عزت وشہرت حاصل کرتے ہیں، ایسے صحافی "فری لانس جرنلسٹ” کہے جاتے ہیں۔آزاد صحافی جب اس فن کے ذریعہ شہرت کی بلندی پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کے تجزیہ اور تبصرے بہت عزت کی نگاہ سے پڑھے جاتے ہیں، سرکاری سطح پربھی ان کا کافی اعزاز واکرام ہوتا ہے اور ان کے لئے بہت سی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
(مستفاد:من شاہ جہاں نم ص 37)

لیکن موجودہ دور میں صحافت بھی مختلف طبقات میں منقسم ہوگئی ہے۔

مثلاً ایک طبقہ مذکورہ تحریر کا پابندہے جبکہ ایک طبقہ ھولاء ولا الا ھولا کہ نہ ادھر نہ ادھر جدھر دیکھا مفاد ادھر کی ہی کہ ڈالی اور ایک طبقہ وہ بھی کہ غالب گمان یہ ہے کہ وہ یاتو اصول صحافت سے ناواقف ہے یا تجاہل عارفانہ کا مظہر بنے ہوئے ہیں، بہرحال جملہ طبقات اگر اپنی ذمہ داری کا احساس کرکے اس اہم فر يضہ کو بروئے کار لائیں تو ہر سو بڑھتی بے چینی، آپسی رنجشیں، مذہبی منافرت،اور تخریبی معاملات پر لگام لگ سکتی ہے اور خوشگوار ماحول کو فروغ پاسکتا ہے اور اس کے مکھڑے پر پوتی گئی کالس دھل سکتی ہے۔