حکمرانی اور پارٹی سیاست!

28

تحریر :خورشید انور ندوی
ہندوستان اور اس جیسے دوسرے بہت سارے ملکوں میں سیاسی اور سماجی قدروں کا استحکام تکلیف دہ حد تک سست رفتار ہوتا ہے.. اس کی وجہ یہ ہے قدر کا فروغ کسی منصوبے کے تابع ایک طے شدہ ہدف ہوتا ہی نہیں..بلکہ اس کے برعکس یہ خود رو ہوتا ہے.. اگر اپنی پسند اور اپنے انتخاب سے ہم نے اپنے ملک کے لئے ایک جمہوری نظام سیاست طے کیا ہے تو جمہوری اصولوں پر ہماری سیاست کی صورت گری ہونی چاہیے اور اس کے استحکام کے لئے ہمیں خود تجربات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہئے اور ہمارے جیسے دوسرے ملکوں کے تجربات سے استفادہ کرنے سے بھی جھجھکنا نہیں چاہئے.. اس سلسلے میں بہت دنوں سے یہ محسوس کیا جاتا رہا ہے کہ مرکز کی حکومت کے وزراء جن کی ذمہ داری پورے ملک کی ہوتی ہے، اور ایک وسیع وعریض رقبہ، گھنی آبادی والے ، علاقائی حساسیت سے بھرپور ملک میں کیا اس بات کی گنجائش نکلتی ہے مرکزی وزراء ریاستی امور میں اعتدال سے زیادہ دخل اندازی کریں؟ ریاستی حکومتیں اگر اپوزیشن پارٹیوں کے زیر اقتدار ہوں تو یہ صورت حال اور زیادہ حساس اور نازک ہوجاتی ہے.. مرکزی عہدیداروں کی مداخلت اور بیجا دل چسپی سے ریاستی حکومت ردعمل میں کچھ ایسے قدم بھی اٹھالیتی ہیں جو بسااوقات وفاق یا یونین کے تصور کو زک پہنچاتے ہیں، نتیجتاً ملک کی سیاسی اور انتظامی وحدت کا تصور کمزور ہونے لگتا ہے جو استحکام اور یکجہتی کی ضد ہے.. پچھلے دودن سے، کچھ بدنما صوت حال سامنے آرہی ہے.. مرکزی وزیر داخلہ کے پاس اتنا فاضل وقت ہے کہ وہ بنگال کا دودوزہ دورہ کریں اور داخلہ امور کے ایجنڈہ پر نہیں بلکہ اپنی جماعت بی جے پی کی سیاسی خدمت کے لئے… وہ بنگال میں مرکزی وزیر کے کردار میں نہیں بلکہ بی جے پی کے سیاسی قائد کی حیثیت سے براجمان ہیں، اور بیانات ایسے گرم ہیں کہ وہ ایک طرح سے مرکز اور ریاست کو آمنے سامنے کھڑا کردیتے ہیں.. جو وفاق کی روح کے منافی ہیں… جھارکھنڈ نے کل سی بی آئی کے لئے اپنے دروازے بند کردئے جو مرکزی ادارہ ہے، اور بڑے کیسز جس کی ذمہ داری کے تحت آتے ہیں.. جن کیسز میں شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت زیادہ مطلوب ہوتی تھی وہ سی بی آئی کو ریفر کئے جاتے تھے.. جو اس مرکزی ادارہ کے کردار کی علامت تھی،، لیکن جب سیاسی اور الکشنی مفاد کے پیش نظر ششانت سنگھ کی خود کشی جیسے انتہائی معمولی کیس کو ریاست بمقابلہ ریاست کا کیس بناکر سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا اور ادارہ اس کیس میں محض انتخابی فائدے کے تحت ریپڈ ایکشن میں دکھے گا تو شکوک وشبہات جنم لیں گے ہی..ادھر مرکزی وزراء کی پوری ٹیم بالکل ایک جیسے کیس میں ایک فراڈ صحافی کے خلاف ریاستی پولیس کی معمول کی کارروائی پر بیانات کی بارش کردیتی ہے چھ چھ سات سات کابینی وزراء اپنی حیثیت سے انتہائی کم تر امور میں دلچسپی دکھانے لگتے ہیں جو ایک افسوس ناک بات ہے.. وزارتی منصب اور جماعت کی سیاسی خدمت کا یہ تصادم ایک بدنمائی ہے.. اس پر قابو پانا وقت کی ضرورت ہے…
کیا ملک کی بہتر خدمت، وفاقی ڈھانچے کی صیانت، مرکزیت اور یکجہتی کے ترقی یافتہ تصور کی پائیداری کے لئے یہ تجویز مناسب نہیں ہوگی کہ؟ :
مرکزی وزراء کو پارٹی سیاست سے میعاد وزارت میں الگ رکھا جائے اور ریاستی امور میں ان کی مداخلت کو ممنوع قرار دیا جائے، تاکہ ایک ملک اور ایک قوم ایک حکومت کا تصور اجاگر ہو.. اور بیرونی خطرات سے گھرے ملک میں اندرونی استحکام مثالی رہے..