والدین سےمتعلق چنداہم اسباب،جن کی بناآج نیپالی مسلم قوم دیگر اقوام کی بہ نسبت غیر معمولی پیچھےہیں!

16

والدین سےمتعلق چنداہم اسباب،جن کی بناآج نیپالی مسلم قوم دیگر اقوام کی بہ نسبت غیر معمولی پیچھےہیں!
انوار الحق قاسمی نیپالی
ڈائریکٹر :نیپال اسلامک اکیڈمی
یہ ایک امرمسلم ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی نیپالی مسلم قوم دیگرنیپالی اقوام کے مقابلےمیں ہرمیدان میں معمولی نہیں؛ بل کہ غیر معمولی پیچھے ہیں، خواہ وہ تعلیمی میدان ہویاسیاسی میدان یاسائنس وٹکنالوجی کامیدان ہو۔
اور یہ بھی ایک بڑاالمیہ یےکہ صرف ہم کہتے ہیں،کہ ہم ہرمیدان میں پیچھے ہیں؛ مگر ہم پیچھے ہیں، توپھرکیوں؟اس کی طرف کسی کاذہن نہیں جاتاہے،اس لیے کہ اگر ذہن جائےگا،تب ہی تووہ اپنےجہدمسلسل اورسعی پیہم کےذریعہ رفتہ رفتہ پستی وزوال کےاسباب ختم کریں گے ،پھرترقی کےمنازل پرگامزن ہوں گے۔
والدین سےمتعلق چند اہم اسباب ہیں ،جن کی وجہ سےآج نیپالی مسلم قوم تعلیمی اورسیاسی یادیگرمیدانوں میں دیگر اقوام کی بہت نسبت پیچھے ہیں، جنہیں یکے بعد دیگرے رقم کئےدیتاہوں ۔
پہلی اہم وجہ :والدین کااپنی اولاد سےغفلت وبےتوجہی برتناہے ،(یہ ایک تلخ؛مگر حقیقت بھی یہی ہے کہ اکثر لوگ صرف اولاد پیداکرناجانتےہیں ،اس کےآگےاورکچھ۔ نہیں جانتےہیں)جب اولاد کھیلنے کودنے کے قابل ہوجاتی ہیں، تووالدین رفتہ رفتہ اپنی توجہ اورنظرعنایات ان سےہٹانےلگتےہیں ،اولاد کیاکررہی ہیں،کوئی خبر نہیں رکھتےہیں ، آیاوہ صرف کھیل ہی کود رہی ہیں یااوردیگر امور میں مصروف ہیں، اس حوالے سےیہ کوئی خبر ہی نہیں رکھتےہیں ۔
جس غفلت اورعدم توجہی کانتیجہ چندہی سالوں میں(یعنی تین سال کی عمر سے لےکر سات سال کی عمر تک)یہ سامنے آتاہے کہ وہ گٹکا،سگریٹ، تمباکو قدرے نہیں؛ بل کہ بہت ہی زیادہ کھانے لگتی ہیں،ان پرمستزاد یہ کہ "جوا”بھی کھیلنے لگتی ہیں ،نیز یہ کہ ملٹی میڈیا موبائل کااستعمال بھی کثرت سے کرنے لگتی ہیں، اور حیف صد حیف یہ کہ جب بچہ کسی وجہ سےرونےلگتاہے،تووالدین اسےخاموش کرنےاوراپنی راحت کےلیے اسےایک بڑاموبائل تھمادیتےہیں اورعجب بھی یہ ہے کہ بچہ موبائل ملنے کے بعد خاموش بھی ہوجاتاہے ،اوروالدین کوبھی اس کی خاموشی میں ایک عجیب طرح کی فرحت وشادمانی محسوس ہونےلگتی ہے ،جس کاایک برانتیجہ یہ سامنے آتاہے کہ بچہ دور طفولیت ہی میں موبائل اچھی طرح چلانا سیکھ جاتا ہے اور ہرآن اور ہرلمحہ موبائل ہی میں مشغول رہتا ہے ۔
چھوٹا بچہ موبائل میں کرہی کیاسکتاہے،وہ ابتداء بس ٹپ ٹاپ کرتاہے ،پھر دھیرے دھیرے کارٹون دیکھنے لگتاہے ،اور جب اس میں قدرے شعور پیدا ہوجاتاہے ،تواب وہ اور بھی بہت کچھ دیکھنے لگتاہے،نتیجتا کم عمری ہی میں اس کےچہرے،بشرےاورچال ڈھال سے بلوغیت کےآثار نمایاں ہونے لگتے ہیں ۔
والدین کی عدم توجہی اور بےالتفاتی کی وجہ سے جب بچہ حصول ترقیات کے موانع چیزوں میں اوقات صرفی کرنےلگتاہے اور ان سے ایک حد تک انسیت بھی پیداکرلیتاہے ،تو بظاہر وہ اپنےزمانہ طفولیت میں ان ہی امورمیں اوقات صرفی کواپنےلیے ایک نمایاں ترقی خیال کرنے لگتا ہے، جس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ پھر اسے کبھی حصول تعلیم کی توفیق بھی نہیں ملتی ہے۔
اور اس بات سےبھی کسی فرد بشر کوانکار نہیں ہے کہ تعلیم کے بغیر ترقی محال ہے محال، اس میں کوئی دورائے نہیں ہے ،دینی اوردنیاوی ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے ضروری !!۔
آپ کوئی ایک بھی ایسی قوم دیکھلاسکتے ہیں ،جوکسی بھی چیز میں تعلیم کے بغیر ترقی حاصل کی ہو ۔
دوسری اہم وجہ:یہ ہے کہ والدین اپنےلڑکے پر توجہ بھی دیتےہیں اوراسےمدارس اسلامیہ میں حصول تعلیم کے لیے شوق سےبھیجتے بھی ہیں اور لڑکابھی بڑے ہی شوق ولگن کےساتھ تعلیم بھی حاصل کرتاہے ؛مگر افسوس کی بات یہ ہےکہ والدین اپنے لڑکے کوزیورتعلیم سے آراستہ کرنےکاجذبہ ،بس اس کےزمانہ طفولیت ہی تک رہتاہے اور جیسے ہی اس کےلڑکے میں کچھ شعور پیداہونے لگتاہے اور وہ اس لائق ہوبھی جاتاہے کہ اپنے والدین کاشکم سیری کرسکے ۔
حدتویہ ہے کہ والدین یہ دیکھتے تک بھی نہیں ہیں کہ میرالڑکاکس درجہ تک تعلیم حاصل کرچکاہے ،اگر مزید اسےچند سالوں تک حصول تعلیم کاموقع دیاجائے ،تو وہ ایک اچھاحافظ قرآن بن سکتاہے ،مفسر قرآن بن سکتاہے،محدث بن سکتاہے ،فقیہ بن سکتاہے ،اور فقید المثال ادیب بن سکتا ہے، فورا اس کےتعلیمی سلسلے کو ختم کرادیتے ہیں ،اورپھر اسےاپنی پرورش کےلیے دلی ،ممبئی، اورگجرات کےکسی کارخانے میں کام کرنے کےلیے بھیج دیتے ہیں ۔
یہ لڑکاوہاں جاتاہے اور پھرخوب محنت کرکے وہی دس،گیارہ ہزار پیسے مہینہ میں کماتاہے ،پھراسےوالدین کےشکم سیری کےلیے گھر بھیج دیتاہے اوروالدین اسی پیسےسےپلنےلگتےہیں ،اور لوگوں کوبڑے ہی شان وشوکت کےساتھ کہتے ہیں :کہ آپ کوکچھ خبر بھی ہے ؟تومخاطب کہتاہے کہ مجھے توکچھ معلوم نہیں ہے،تووہ کہتے ہیں کہ اچھاآپ کومعلوم نہیں ہے ،خبر یہ ہےکہ ماشاءاللہ میرالڑکااپنی کم عمری ہی میں مجھےدس،گیارہ ہزار مہینے میں دینےلگاہے ،جس کےذریعہ میرے لیے ہرچیز کاانتظام بحسن خوبی ہوجاتاہےاورمجھےبہت ہی شادمانی میسر ہونےلگی ہے ۔
والدین تواپنےلڑکےکی کمائی پر خوب مزے اڑاتے ہیں اوراپنی راحت وسکون کا ڈھنڈورا پیٹتےہیں ؛مگر انہیں کیاخبر؟کہ میرالڑکابھی سکون وراحت کی زندگی بسر کررہاہے ؟یاکلفت ومشقت کی ؟حقیقت یہ ہے لڑکا اپنی سکون وراحت قربان کرکے،سیٹھ صاحب کی گالیوں کوبرداشت کرتاہے اور کافی لگن اورایک جنون کےساتھ دس ،گیارہ ہزار روپیے مہینے میں کماکر گھر بھیجتاہے ،اس کی فکر اور سوچ تویہی ہوتی ہے کہ میرےوالدین کومیری کمائی سے راحت وسکون حاصل ہو ؛مگر افسوس کہ والدین اپنےلڑکے کےحوالے سے کچھ بھی نہیں غور وفکرکرتےہیں ،کہ میرالڑکاکس حال میں ہے؟یہ ہےمسلمانوں کی صورت حال کہ وہ اپنےلڑکے کی کمائی سے پلتےہیں اوراپنی راحت کےلیے اپنے لڑکے کو تعلیم سے محروم کردیتے ہیں ،جس کی وجہ سے آج مسلمان دیگر نیپالی اقوام کےمقالے میں بہت پیچھےہیں۔
تیسری اہم وجہ: یہ تیسری اہم وجہ مطلق نیپال کے والدین سے متعلق نہیں ہے؛ بل کہ ملک نیپال کے ایک خاص ضلع،ضلع "روتہٹ” سے متعلق ہے( یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک نیپال کے کسی ضلع میں اگر سب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی ہے ،تو وہ صرف ضلع روتہٹ میں ہےاور علمائے کرام کی تعداد بھی زیادہ اسی ضلع میں ہے، اور عمومااسی ضلع کے علماء کرام دیگر اضلاع کے مدارس و مکاتب و مساجد میں تدریسی خدمات اور امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں ،الغرض دیگر اضلاع کے مقابلے میں مسلمانوں اور علماء کرام کی تعداد ضلع "روتہٹ "ہی میں زیادہ ہےاور اس ضلع کے مسلمانوں میں دینی شعور بھی زیادہ پایا جاتا ہے) عام روش یہی ہے کہ اس ضلع میں لڑکا جب پانچ سال سے چھ سال کا ہو جاتا ہے،تو والدین اس کی اسی عمر میں نکاح کرا دیتے ہیں ،پھر ایک مدت مدید کے بعد اس کی رخصتی ہوتی ہے، اس کا نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ لڑکا بارہ تیرہ سال کی عمر تک بطیب خاطر حصول علم میں منہمک رہتاہے،اور بہت حد تک زیور تعلیم سے آراستہ بھی ہو جاتا ہے،یعنی کوئی حافظ قرآن بن جاتا ہے، تو کوئی ابتدائی درجات :یعنی عربی سوم، عربی چہارم تک کی کتابیں پڑھ لیتاہے ؛مگر جوں ہی اس کی رخصتی ہو جاتی ہے، تو اچانک اس کا ذہن بھی بدل جاتا ہے اور پھر مشکل سے ایک دو سال تک اور تعلیم حاصل کرتا ہے ،پھر تعلیمی سلسلے کو ختم ہی کر دیتا ہے اور گھریلو مصروفیات میں منہمک ہو جاتا ہے۔
ایسے کئی ساتھیوں سے میری خصوصی گفتگو ہوئی ہے، تو ان میں سے اکثر نے یہی کہا کہ رخصتی سے قبل قبل تک والدین کی مجھ پر گہری نظر رہتی تھی ،جس کا نتیجہ یہ تھا کہ میں بصد شوق تعلیم حاصل کرتا رہا اور ابھی بھی حصول علم کا جذبہ ہے ؛مگر اب رخصتی ہونے کی وجہ سے مجبور ہو چکا ہوں،کہ اب تعلیم حاصل کروں یاآل و اولاد کی پرورش کروں ،مجبورا شق ثانی کو اختیار کرلیا اور تعلیمی سلسلے کو ختم کر دیا۔
چوتھی اہم وجہ: یہ ہے کہ والدین اپنے لڑکےکو ابتدا ہی سےعصری علوم کی تعلیم دیتے ہیں اور اس کی تعلیم پر خطیر رقم بھی بطیب خاطر صرف کرتے ہیں ،مگر وہی جب لڑکا تیرہ ،چودہ سال کا ہو جاتا ہے تودلی ،ممبئی اورگجرات کےکسی کارخانے میں بھیج دیتے ہیں، اور پھر والدین اس کی کمائی سے پلنےلگتےہیں، اور اب وہ تعلیم کو ہمیشہ ہمیش کے لئے خیرآباد کہ دیتا ہے، یا یہ کہ اس کی رخصتی ہو جاتی ہے تو پھر اپنی آل واولاد کی پرورش کے لئے کوشاں ہو جاتاہے۔
یہ والدین سے متعلق چند اہم اسباب ہیں، جن کی وجہ سے مسلم قوم دیگر نیپالی اقوام کے مقابلے میں خصوصاً تعلیمی میدان میں اورعموماہر میدان میں بہت ہی پیچھے ہیں۔
مسلمانوں کے بالمقابل دیگر اقوام کے والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر بدل و جان از ابتدا تا انتہاجتن کثیر کرتے رہتے ہیں، مثلا :ایک والد اپنے لڑکے کو صبح سویرے نہلاتا ہے ،پھر اسے کسی اسکول یا کالج میں حصول علم کے لیے بھیجتا ہے اور اس پر ہمیشہ ہمیش اپنی گہری نظر رکھتا ہے اورمستقل اس پراپنی محنت جاری رکھتا ہے،جس کا نتیجہ ایک وقت یہ سامنے آتا ہے، کہ وہ لڑکا یا تو ایک اچھا سائنس داں بن جاتا ہے، یا انجینئربن جاتاہے،یا ڈاکٹر بن جاتاہے یا کسی بھی چیز میں مہارت تامہ حاصل کر لیتا ہے۔
معلوم یہ چلاکہ آج دیگر اقوام مسلمانوں سے آگے ہیں، تو وہ صرف تعلیم ہی کی بنا پر، اور ان کے لڑکے اس لیے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، کہ ان پر ان کے والد کی ازابتدا تاانتہا گہری نظر ہوتی ہے ، اور مسلمانوں کی تویہ صورت حال ہے کہ یہ شروع ہی سے اپنی اولاد کی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں، یا دیتے بھی ہیں ،تو کوئی خاطر خواہ نہیں دیتے ہیں،الغرض ان میں استقلال ودوام نہیں ہوتاہے؛ اس لیے آج مسلم قوم دیگر اقوام کے مقابلے میں قدرے نہیں؛ بل کہ غیر معمولی پیچھے ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر والد یہ سوچ لیں !کہ مسلم معاشرہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، اس کے لیےہروالد اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر از ابتدا تا انتہاخوب زوردیں اور موانع تعلیم کے ارتکاب سے اجتناب کی دائمی کوشش کرتےرہیں، ان شاء اللہ العزیز آنے والے وقت قریب میں ہی مسلم معاشرہ ہر محاذ میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔