ایک اور عظیم ہستی ہمیں داغ مفارقت دے گئی

41

آج بعد نماز فجر، بندہ ناچیز نے جیسے ہی نیٹ کھولا معا ہی ایک بہت ہی المناک، غمناک، افسوس ناک، دل خراش اوردل دوز خبر سوشل پر دیکھ کر: کہ جمیعت علماء اترپردیش کے صدروناظم مدرسہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمئو قاضی شہر کانپور،بےلوث خادم قوم وملت ،فعال اور فکر مند عالم دین حضرت مولانا متین الحق اسامہ قاسمی کان پوری- رحمۃ اللہ علیہ- دیر رات مختصر علالت کے بعد،تقریبا2:30بجے ہیلیٹ ہاسپٹل میں واصل بحق اور راہی ملک بقاہوگئے -اناللہ وانا الیہ راجعون۔آنکھیں پتھراگئیں،دل پاش پاش ہوگیا،کچھ وقفے کے لیے قوت گویائی ختم سی ہوگئی،قلم لکھنے سے عاجز وقاصر ہوگیا،دل چاہ کربھی نہ ہی کچھ بول پارہاتھا،اور نہ ہی رقم کرپارہاتھا،تومجبورااس بڑے حادثہ کےغم میں تمام رفقاء کو یک قلم شریک غم کرنے کےلیے، بلاتاخیر اس ہیچ مداں نےسوشل میڈیا پر موجود ایک خبر ہی کو کوپی کرکے فورا فیس بک اور واٹس ایپ پر شیر اور وائرل کیا،یقینااس عظیم ہستی کے ایسے ناگفتہ بہ حالات میں، جب کہ ان کی قیادت وسیادت کی قوم وملت کوپہلے سے بھی مستزاد ضرورت تھی، اس دار فانی سے داربقاء کی طرف رحلت فرما جانے کی وجہ سےعموما پورے ہندو نیپال اورخصوصا شہر کانپور اور جمعیت علمائے ہند،ایک بے باک خطیب،عظیم قائد اور بے لوث خادم قوم ملت سے اب دائمی محروم ہوگئی، حضرت کا انتقال پر ملال پوری قوم و ملت کے لیے ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے اور حضرت کے ہمیں داغ مفارقت دینے کی وجہ سے پورے شہر کانپور،جمعیت علماء ہند ،مدارس اسلامیہ کے علمبرداروں اور خوشہ چینیوں میں غم وماتم کا ماحول ہے۔
نا چیز تمام امت مسلمہ سے عموما اور مدارس اسلامیہ کے خادموں سے خصوصا عاجزانہ درخواست کرتا ہے، کہ حضرت مرحوم مغفور کے لئے ایصال ثواب کا اہتمام کریں، اور دعا کریں کہ اللہ رب العالمین مرحوم کی مغفرت کاملہ عطا فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی اور نمایاں مقام عطا فرمائے، جمعیت علماء ہند اور شہر کانپور کو ان کا نعم البدل خادم عطا فرمائے، پس ماندگان و لواحقین اورہم خردوں کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔