آشیاں جلتا رہا اور ہم ناتواں دیکھا کئے!

36

ارریہ نوائے ملت (تعزیت:محمداطہرالقاسمی جنرل سکریٹری
جمعیت علماء ارریہ )

جمعیت علماء اترپردیش کے صدر اور ملک وملت کے ایک مرد جفاکش،اولوالعزم عالم ربانی اورعلم وفضل کے بے تاج بادشاہ حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ صاحب قاسمی بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔
اناللہ وانا الیہ رجعون۔
حضرت والا کے بیٹے کی طرف سے دودن سے والد محترم کی صحت کے لئے دعائوں کی درخواست پر پورے ملک میں مسلسل دعائیں ہورہی تھیں۔
مگر مولانا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
حضرت مولانامحمد متین الحق اسامہ صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش جمعیت کے باوقار صدر نشین تھے۔
ان کانام ہی ان کے کام کی پہچان کے لئے کافی تھا۔
قائد جمعیت حضرت مولانا سید محمود اسعد صاحب مدنی دامت برکاتہم کے وہ بےحد قریب بلکہ دست راست تھے۔ریاستی ہی نہیں مرکزی جمعیت کی بھی کوئی میٹنگ ایسی میں نے نہیں دیکھی جس میں وہ صف اول میں موجود نہیں ہوتے تھے اور ایسا بھی کوئی کام نہیں تھا جسے حضرت قائد جمعیت نے ان کے سپرد کیا اور وہ مسکراکر اس کی انجام دہی میں کھڑے نہیں ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔
جمعیت علماء ہند کے بیشتر پروگراموں میں پورا ملک انہیں ملکی قیادت کے ساتھ کھڑا دیکھتا تھا۔
حکومتی سطح پر بھی ان کا رعب اپنی الگ شان رکھتا تھا۔
خطابت کا جادو تو ایسا تھا کہ قرآن وحدیث اور دلائل و ثبوت کے ذریعے سامعین پر اپنا اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا۔
خداوندعالم حضرت والا کو غریق رحمت فرمائے اور ملک وملت کے لئے ان کے کئے گئے کارہائے نمایاں کو ان کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیائے انسانیت سے انسانیت کے علم برداروں میں سب سے زیادہ موقر علماء کرام اس لاک ڈاؤن میں رخصت ہورہے ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔جسے روکنا صرف اور صرف روکنے والی ذات رب العالمین ہی کے ہاتھوں میں ہے۔
اور ملک کے علماء کرام میں بھی ملک کی سب سے بڑی جماعت،جمعیت علماء ہند کی تحریک سے وابستہ چھوٹے بڑے ذمے داران یکے بعد دیگرے مسلسل رخصت ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کی جگہیں خالی ہوتی چلی جارہی ہیں۔قلق کی بات تو یہ ہے کہ ان کی جگہوں کا پر ہوپانا مستقبل قریب میں بےحد مشکل نظر آرہاہے۔

حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ صاحب کی پوری زندگی ملت اسلامیہ ہند کی تعمیر وترقی کے لئے جہد مسلسل سے عبارت تھی۔
وہ جمعیت علماء ہند کی فعال قیادت کے مضبوط ستون تھے۔موجودہ ملکی حالات کے پس منظر میں بطورِ خاص اترپردیش کو ان کی سخت ضرورت تھی۔
دور قحط الرجال میں علماء کبار کی لگاتار رخصتی نے ملت اسلامیہ ہند کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔
اب نہ آنکھوں میں آنسو ہے نہ قلم میں طاقت کہ کیا لکھا جائے،کیابولا اور کیا کہا جائے؟اور کس سے کہا جائے کہ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر ساحل سمندر ڈوبتی کشتی کا غمگین نظارہ کرنے پر مجبور کردئیے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
صحیح فرمایا تعزیت کرتے ہوئےحضرت مولانا عبد العلی صاحب فاروقی نے:
زور ہی کیا تھا جفائے باغباں دیکھا کئے
آشیاں جلتا رہا اور ہم ناتواں دیکھا کئے۔
جمعیت علماء ارریہ کے جملہ اراکین و خدام حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اہل خانہ و متعلقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے لئے، ملک بھر میں جمعیتِ کے بے شمار ذمے دار مرحومین کے لئے اور ملک و عالم کے تمام علماء،خطباء،ائمہ اور جملہ مومنیں و مسلمین کے بلندئ درجات کے لئے دعائیں کرتی ہے۔