کوروناکے نام پر انتظامیہ دہشت پھیلانے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دیں

36

سہرسہ، 17 جولائی
کروناوائرس کے نام پر دہشت پھیلاناایک سماجی دہشت گردی ہے جسے اب کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائے گا،اس وباء کے نام پر اب مزید عوامی استحصال بندہوناچاہئے،حکومت لوک ڈاؤن نافذ کرکے غریبوں اور پریشان حال لوگوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کررہی ہے جو انتہائی شرمناک بات ہے۔ان خیالات کااظہار سماجی کارکن و صحافی شاہنوازبدرقاسمی نے کیا۔
انہوں نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بہار سرکارکورونا کو روکنے میں مکمل طریقہ سے ناکام ہوچکی ہے،وباء کے روک تھام کیلئے عملی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں،بہارسرکارکوعجلت پسندی میں فیصلہ لینے کی عادت ہوچکی ہے جس کے سبب بہار میں کورونا کاقہر مزید بڑھتاجارہاہے،انہوں نے کہاکہ جب بہار میں کورونانہیں تھااس وقت ریاست میں اس قدرسختی تھی جس کااندازہ لگانامشکل تھاآج جب کورونامریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں کوئی سختی اور گائڈلائن نہیں،بیرونی ریاست سے آنے والے بغیر جانچ کے کھلے عام گھوم رہے ہیں کوئی روکنے والانہیں ہے،بہارمیں کوروناکے علاج کے نام پر جو ہاسپٹل بنائے گئے وہاں کی سہولیات اور مریضوں کے ساتھ بھید بھاؤ کودیکھ کر افسوس ہوتاہے کہ کوروناپوزیٹو مریض ہیں یا مجرم؟ہاسپٹل میں مریضوں کے ساتھ قیدی سے بھی بدتر سوتیلاء برتاؤ کیاجاتاہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
شاہنواز بدر نے کہاکہ کورونا وائرس اس معمہ بن چکاہے جسے سمجھنا اور سمجھاناآسان نہیں ہے،اس عالمی بیمار ی کو روکنے کیلئے جس شدت کے ساتھ لوک ڈاؤن لگاکربہارپولیس کے ذریعہ لوگوں کو پریشان کیاگیااور ایک مرتب پھر کیاجارہاہے ہم سب بخوبی واقف ہیں،گاؤں سطح سے لیکر بلاک سطح کے کورینٹن سینٹر بنائے گئے،تمام تعلیمی اداروں،مذہبی عبادت گاہیں سمیت ہر طر ح کی عوامی سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی لیکن گزشتہ چارمہینے میں اس کافائد ہ کیاہوا؟ عوام سرکار سے اس سوال کاجواب چاہتی ہے ابتدائی مرحلے میں اس بیماری کے بہانے ایک خاص مذہب کے لوگو ں کو جس طر ح بدنام کیاگیاوہ بھی سب کو اچھی طرح یادہے،اس وقت موجودہ حکمراں کے کئی لیڈران کے ردعمل کو دیکھ کر تو ایسا محسوس ہورہاتھاکہ یہ لیڈر نہیں بلکہ فسادی ہیں،کوروناوائرس کے بہانے لوک ڈاؤن لگانے کاجومنشاتھاجب پورا نہیں ہوا تو اب اپنے ہی لوگوں کو پوزیٹو دیکھادیکھاکر حکومت اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل چاہتی ہے جس سے قطعاانکار نہیں کیاجاسکتاہے۔
انہوں نے کہاکہ کوروناوائرس وقتی بیماری نہیں ہے اسے ختم ہونے میں وقت لگے گااس لئے بیماری کے نام پرانتظامیہ کی طرف سے اس قدر ہنگامہ آرائی اور لوک ڈاؤن میں سختی مناسب نہیں ہے،یومیہ مزدور،پر ائیوٹ ملازمین اور غریب طبقہ کی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے،تعلیمی نظام مکمل طریقہ پر تباہ ہوچکاہے حکومت کی خاموشی اور رویہ انتہائی مجرمانہ اور تکلیف دہ ہے،ایسے مشکل حالات میں جب ہر طبقہ کے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے،ایک طرف کوروناکاقہر دوسری طرف سیلاب نے بہارمیں لاکھوں لوگوں کوبے گھر ہونے پر مجبور کردیاہے لیکن سب خاموش ہیں،ایسا محسوس ہوتاہے کہ عوامی طاقت اور ہمارے رہنماء زندہ لاش بن کر انتخابی سرگرمیوں میں لگ گئے ہیں ہر لیڈر کو اپنی پارٹی کی جیت فکر ہے عوام کی دکھ،تکلیف کاکسی کوئی احساس نہیں،یہ انتہاء درجے کی بے حسی ہے جس کے خلاف آواز اٹھانابیحد ضروری ہے۔
شاہنواز بدر نے کورونا کے نام پر بھیدبھاؤ روکنے کے ساتھ اس کی میڈیا رپورٹنگ پربھی پابندی کامطالبہ کیااور کہاکہ اگر سرکارلوگوں کو خوف زدگی سے بچاناچاہتی ہے تو اس کی میڈیارپورٹنگ پر پابندی لگانابیحدضروری ہے۔انہوں نے عوام سے احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ اور حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کوروناوائرس پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن عملی اقدامات کریں۔