اسلام میں قربانی کا حکم

18

قارٸین کرام: اللہ تعالٰی نے انسان کو مخدوم اور دوسری تمام مخلوقوں کو انسان کا خادم بنایا ہے،ان خادموں میں کچھ از قبیل ذی روح ہیں اور کچھ غیر ذی روح یعنی بے جان بھی ہیں۔ مخلوقوں میں جو ازقبیل غیر ذی روح ہیں انسان اس سے تو نفع حاصل کرتا اور فاٸدہ اٹھاتا ہی ہے لیکن جوذی روح مخلوق ہے اس سے فاٸدہ اٹھانا اور نفع حاصل کرنےکی شریعت اسلامیہ کی جانب سے اجازت ہے البتہ فاٸدہ حاصل کرنے اور نفع اٹھانے کی نوعیت اور طریقے علیحدہ ہے بسا اوقات کسی سے سواری کاکام لیاجاتا ہے کہ اس پر سوار ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہیں ۔اور کسی پربوجھ لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں ۔اور کسی کےبالوں سے نفع حاصل کیاجاتا ہے،بہر حال مذکورہ تمام فواٸد میں سے ایک بڑا اور عظیم فاٸدہ گوشت کھانا بھی ہے وجہ اس کی یہ کہ انسان طبعاً اور فطرةً گوشت خور واقع ہوا ہے لیکن شریعت اسلامیہ نے ہر جانور کے گوشت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ۔بلکہ ایسے جانور کے گوشت کو حلال کیا ہے جو ظاہری اور باطنی خبث سے پاک ہو ۔اور وہ جانور جس میں ظاہری اور باطنی خباثت پاٸی جاتی ہےاس کے گوشت کو حرام کیا ہے جیساکہ خنزیر اور چیر پھاڑ کھانے والا جانور ظاہری گندگی کی بنیاد پر حرام گیا ہے ۔رہی بات جانوروں کا خون بہاناتو اس عمل کو تقرب کاذریعہ سمجھنا قدیم قوموں کا دستور رہا ہے ۔لیکن ہم سب کے باپ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کے واقعہ میں اللہ کی رضا جوٸی کی خاطر جنتی مینڈھےکی قربانی نے اس قدیم دستور کو صحیح رخ دے دیا۔لھٰذا اسلام میں یہ طریقہ نہ صرف مشروع ومباح ہے بلکہ مطلوب ومحمود ہے جیساکہ صحابہؓ کے سوال پر آقاٸے نامدار سید الکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ھی سنة ابیکم ابراھیم قیل مالنا فیہا ، قال لکل شعرة حسنة “اور وسعت کرنے والوں اور مال کی فراوانی والوں پر ایام مخصوصہ میں متعین جانوروں کی قربانی پیش کرکے قرب خداوندی کے حصول کو واجب قرار دے دیا گیا ۔اور اس پر اتنی تاکید کی گٸی کہ وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں پر سخت تنبیہ کرتے ہوٸے بنی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا ”من وجد سعةً لأیضحی فلم یضحّ فلایقربنّ مصلاّناً “{رواہ الحاکم ج٢ص٣٨٩} الترغیب والترھیب ٢٥٦} جوشخص قربانی کی گنجاٸش کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آٸے ۔اور ایام أضحیہ میں دوسری تمام عبادتوں کے سے زیادہ خون بہانے کو اللہ پاک نے پسند فرمایا ہے ۔چنانچہ أم المٶمنین سیدہ عاٸشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”ماعمِل آدمیّ من عمل یوم النحر احبّ الی اللہ من اھراق الدَّمِ فإنہ لتاتی یوم القیٰمة فی فرشہ بقرونہا واشعارھاواظلافہا وان الدم لیقع من اللہ قبل ان یقع من الأض فطیبوبہا نفساً“{سنن ابن ماجہ ٣١٢٦}ترمذی شریف ١٤٩٣}ترجمہ ) قربانی کے دن میں کوٸی عمل اللہ تعالی کو خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے اور یہ قربانی کا جانور قیامت کے میدان میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آٸے گا ، اور قربانی میں بہایا جانے والا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے دربار میں قبولیت کامقام حاصل کرلیتا ہے ،لہٰذا خوش دلی سے قربانی کیاکرو۔اخیر میں پوری امت مسلمہ سےدرخواست ہیکہ قربانی جیسے عظیم عمل کوانجام دیکر خداٸے وحدہ لاشریک لہ کا قرب حاصل کریں اللہ پاک عمل کی توفیق عطافرماٸے آمین
ازقلم :مفتی افسر علی قاسمی جوگیا سیتا مڑھی امام وخطیب جامع مسجد سرسید کالونی چندوارہ مظفر پور