مسلم سائنسداں کی تحقیق

15

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک وہاٹس ایپ پر کئ روز سے یہ مضمون گردش کر رہا ہے
عنوان یہ ہے
مسلم سائنسداں کی تحقیق 2027ء میں سورج مغرب میں طلوع ہو گا 2028ء کو امام مہدی کا ظہور اور 2034ء میں حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوگی
توجہ دیں سائنسی تحقیقات مادیات کی تہہ تک رسائی حاصل کر سکتی ہے اور دو متضاد شئ کی آمیزش سے ایکشن ری ایکشن سےکوئی حتمی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے
لیکن تکوینیات جسکا علم صرف اللہ کے پاس ہے اسکو کسی تحقیقات سے حاصل نہیں کیا جاسکتا علامات قریبہ کے ذریعہ امکانی تخمینی بات کہی جاسکتی ہے حتمی نہیں علامات قیامت بعیدہ جو گذر گئی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپکی وفات_حضرت عمر رضی اللہ کی شہادت وغیرہ
علامات متوسطہ جو چل رہی ہے جیسے مسلمان تعداد میں بہت ہونگے مگر سب کے سب جھاگ کی طرح _گانا موبائل کے ذریعہ ہر گھر میں ۔ اونچے اونچے مکانات وغیرہ
علامات قریبہ ۔جیسے ظہور مہدی انکی خلافت دنیا میں امن و امان مال ودولت کی فراوانی وغیرہ
2027ء میں اگر آفتاب مغرب سے طلوع ہوتا ہے اور انکے بعد 2028ء میں امام مہدی کا ظہور اور انکے بعد نزول عیسی بے معنی ہو کر رہ جائے گا کیونکہ یہ دونوں حضرات شریعت محمدی کو پھیلائنگے لوگ ایمان لائنگے چونکہ سورج کا مغرب سے طلوع ہو نے کے بعد توبہ وایمان کا دروازہ بند ہو جائے گا نہ کسی کا توبہ اور نہ کسی کا ایمان قبول ہو گا
حدیث میں ہے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ پچھم طرف سے سورج طلوع نہ ہو گا اور جب طلوع ہو گا تو تمام لوگ دیکھینگئے
اس وقت کسی کا ایمان لانا قبول نہیں ہوگا بخاری ص963ج2
چونکہ نشانی دیکھ لینے کے بعد ایمان بالغیب نہیں رہا
لہذا ظہور مہدی کے بعد اہل ایمان بیعت خلافت کرینگے مہدی کے ساتھ ملکر اسلام کو مظبوط کرینگے اسلام کا بول بالا ہو گا پھر حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہو گا وہ جہاد کرینگے یہاں تک کہ اہل کتاب(یہود ونصاری) ان پر ایمان لائینگے ان سب کا ایمان عنداللہ مقبول ہو گا
پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے وفات کے بعد لوگوں کی حالت متغیر ہوتی چلی جائیگی پھر مغرب سے سورج طلوع ہو گا اسکے بعد کسی کا ایمان لا نا فائدہ مند نہ ہوگا(مہدی ۹سال اور حضرت عیسی علیہ السلام ۴۰سال زندہ رہینگے )
مغرب سے سورج کا نکلنا قیامت کی بالکل نزدیکی علامت ہے
جیسے بدلی دیکھ کر لگتا ہے کہ اب بارش ہو نے ہی والی ہے
لہذا سائنسی تحقیق بے بنیاد اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے
یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے
عقیدہ کی حفاظت ضروری ہے ۔سال کا تعین کا علم اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوتا تو ضرور بیان فرما تے جب کہ تمام علامات بیان فرما ئے ہیں
فقط والسلام
نبی حسن المظاہری دارالعلوم رشیدیہ ذکیر چوک بیلوا ارریہ بہار