ناموس رسالت کی توہین مسلمانان عالم کے لئے ناقابل برداشت

17

نوائے ملت نیوز دہلی( محمد مبارک میواتی آلی میو ) مولانا اعجاز عرفی قاسمی
فرانس کے ذریعہ پیغمبر اسلام محمدﷺ کاگستاخانہ کارٹون شائع اور مشتہر کرنے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانامحمد اعجاز عرفی قاسمی نے اخبارات کو جاری پریس نوٹ میں کہا کہ ناموس رسالت کی توہین سے مسلمانان عالم کو سخت قلبی اذیت پہنچی ہے، اس گستاخانہ حرکت کے لیے فرانسیسی حکومت کو بلا تاخیراور علانیہ معافی مانگنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کو اس قسم کے دل آزار، نفرت آمیز اور دل خراش واقعات کا سخت نوٹس لینے، اس کے خلاف قانون سازی کرنے اور اس قسم کی مذہب مخالف کارروائیوں پر بند باندھنے کی اشد ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ اس گستاخانہ حرکت کو کسی کا انفرادی جرم نہ قرار دیا جائے، بلکہ یہ سب امریکہ، اس کے حواری اور اسلام مخالف عالمی عناصر کے اشاروں پر ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مغربی طاقتیں یورپ میں اسلام کی روز افزوں مقبولیت اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مذاہب کے ماننے والوں کے آغوش اسلام میں آنے کی وجہ سے اس درجہ حواس باختہ اورخائف ہیں کہ وہ اپنی سبکی مٹانے کے لیے اسلام اور پیغمبر اسلام کی ہتک آمیز مخالفت اور مسلمانوں کی دل آزاری کے معاملے میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ڈنمارک اور فرانس جیسے ممالک میں آپﷺ کے کارٹونوں کی اشاعت، قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش کرنے کے دل دوز واقعات، مختلف ممالک میں مسلمانوں کی دار و گیر اور اورافغانستان و عراق کے ساتھ گوانتانامو میں مسلم قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات میں مغربی دنیا ہی ملوث نظر آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں کسی مذہب کے رہ نما کے ساتھ ہتک آمیز رویہ کبھی احتجاج کے دائرے میں نہیں آسکتا۔ کسی مخصوص مذہب کے خلاف بدگوئی زبان درازی یا پیغمبر وقت کی شان میں گستاخی کرنے کے عمل کو اظہار رائے کی آزادی کا عنوان نہیں دیا جاسکتا، بلکہ یہ سراسرشر انگیزی اور فتنہ پروری ہے،اظہار رائے کی آزادی وہیں تک محدود ہے جہاں کسی مذہب کی تعلیمات اور اس کے پیغمبروں اور اس کے پیرو کاروں کی دل آزادری کا مفہوم برآمد ہوتا ہو۔
مولاناقاسمی نے عرب لیگ اور IOCٰٓکے ذمے داروں کے ساتھ عرب حکمرانوں سے بھی اس قسم کے دل دوز واقعات کی پر زور مذمت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسلمانوں کو متحد ہوکر فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور پر امن سفارتی طریقے سے اپنا احتجاج درج کرانا چاہیے۔وہ کب تک خواب خرگوش میں مبتلا رہیں گے اور مغربی طاقتوں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالے رہیں گے۔ فلسطینی مذہبی مقدسات کی بے حرمتی، آپﷺ کے کارٹون کی برملا اشاعت کے معاملوں پر ان کی مجرمانہ خاموشی نیک شگون نہیں ہے۔ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ عالمی برادری سے بھی یہ اپیل کی ہے کہ اگر اس قسم کے گستاخی پر آمادہ ممالک اور انتہا پسند افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی، اور انھیں عدالت میں قرار واقعی سزا نہیں دلائی گئی تو اس سے مستقبل میں عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔
انھوں نے فرانس کی اس ماوارئے عدل و اخلاق حرکت پر ہندستانی وزارت خارجہ کی حمایت کو شرم ناک اور افسوس ناک عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار بستے ہیں اور یہاں دستور و آئین کی روشنی میں تمام مذاہب کے احترام و تقدس کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے ہندستانی حکومت کو بھی فرانسیسی حکومت کے خلاف مذمتی قرار داد پارلیمنٹ میں پاس کرنی چاہیے۔جس طرح گیتا کی بے حرمتی پر ہندستانی حکومت احتجاج درج کراتی ہے اور پارلیمنٹ میں مذمتی قرار داد پاس کرتی ہے، اسی طرح قرآن کریم، پیغمبر اسلام اور اسلام کے ساتھ کوئی تو ہین آمیز سلوک پر بھی عالمی برادری میں احتجاج درج کرانا چاہیے۔ اگر اس شرم ناک عمل پر نہ کوئی احتجاج درج کرایا جاتا ہے اور نہ کوئی مذمتی قرارداد پاس کی جاتی ہے، تویہ رویہ جمہوری ملک کی پیشانی پر بد نما داغ ہے۔
______________
پریس سکریٹری، ارشد ممتاز
______________
پیش کردہ
محمد مبارک میواتی آلی میو
پریس سیکریٹری جمعیت علماء متحدہ پنجاب و صدر آل انڈیا تنظیم علماء حق صوبہ ہریانہ