قربانی ایک مستقل عبادت کا نام ہے

34

کیا قربانی کے بدلہ میں صدقہ وخیرات کرسکتے ہیں؟آج کی تاریخ میں یہ سوال پوچھا جانےلگاہے ۔ماقبل میں قربانی کے ایام بیت جانے کے بعد اس نوعیت کے سوالات قائم ہوئے ہیں، مگرعیدقرباں کی آمدسے قبل ایسا بکھیڑاکبھی کھڑا نہیں ہوا ہے۔اس کی واحد وجہ لاک ڈاؤن کی پابندی ہی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ابھی کچھ دنوں کے لئے تھوڑی مہلت ملی تھی پھر دوبارہ پوری ریاست بہار میں اکتیس جولائی تک مکمل لاک ڈاؤن کادوبارہ اعلان ہوگیا ہے اور ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی کم وبیش یہی سماں ہے ۔ادھر عید قرباں کی آمد آمدہے، چند ایام ہی رہ گئے ہیں اور تیاری کچھ بھی نہیں ہے ۔ایسےمیں اس کےمتبادل کی جانب توجہ مبذول ہورہی ہےاورقیل وقال کی فضابن رہی ہے۔

مسلمانوں کی اکثریت پر قربانی واجب ہے ۔اسی لئےاس کادائرہ بہت وسیع ہےاوراس کی ادائیگی کی فکربھی اکثروں کودامنگیر ہے۔جن پر زکوۃ فرض ہے ان پر قربانی بھی واجب ہے،مزید ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن پر زکوة فرض نہیں ہے باوجود اس کے ان پر قربانی واجب ہوجاتی ہے ،وہ اس لئے کہ بھی کہ بہتوں کے پاس سونا چاندی نقدی یا مال تجارت بقدر نصاب نہیں ہے اس پر زکوةنہیں ہے ،مگر استعمال سے زائد سامان اس کے پاس پڑا ہے جسکی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہونچ رہی ہے اس پر قربانی واجب ہوگئی ہے ۔قربانی کےوجوب کی شرطیں بڑی آسان ہیں،یہاں  نصاب پر چاند کے اعتبار سے سال کاگزرجانا بھی شرط نہیں ہے بلکہ اگر کسی کے پاس ذی الحج کی نویں تاریخ کے عصر تک کوئی مال آگیا جس کے ہونے سے قربانی واجب ہوتی ہے اور صبح تک اس کی ملکیت میں رہ گیا اس پر بھی قربانی واجب ہوجاتی ہے ۔ایک گھر میں کئی لوگ رہتے ہیں سبھوں پرالگ الگ قربانی لازم ہوتی ہے۔ماں ،باپ، بیٹے ان میں سے ہر ایک کی ملکیت دیکھی جاتی ہے اور ہرایک پر قربانی واجب ہوجاتی ہے ۔عورتوں کے پاس عموما اتنا زیور ہوتا ہی ہے جس پر قربانی واجب ہے، اس طرح اس کا دائرہ تقریبا پورا مسلم سماج ہے ۔اس وقت بازار بندہیں اور جانوروں کی دستیابی وخرید وفروخت ایک ٹیڑھی کھیر بن چکی ہے، لوگ حیراں وپریشاں ہیں کہ اس عبادت کی ادائیگی کیسے کریں؟ ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں ہی نہیں بلکہ کڑوروں میں ہے۔
جمعیت علمائے ہند نے اسی عنوان پر بیٹھک بھی کی ہے اور حکومت سے جانوروں کے حمل ونقل اور اس کے بازار کھلوانے کی مانگ رکھی ہے، اس پر بھی اب تک حکومتی تصویر سامنے نہیں آسکی ہے ۔
انہی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت بالخصوص جو کم خواندہ ہیں وہ اپنے علمائے کرام ومفتیان عظام سے سوال کرتے اور متبادل کی شکل میں صدقہ وخیرات کی بات کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، اس نوعیت کا سوال پہلی بار سامنے آیا ہے ،یہ تحریر دراصل اسی  سوال کوسامنےرکھ کر لکھی گئی ہے اور یہ واضح کرنے کے لئے ہے کہ اس کا بدل صدقہ وخیرات ہرگزنہیں ہے ۔قربانی ایک مستقل عبادت کا نام ہے ۔اس کی سب سےبڑی دلیل یہ بالغوں پرہی واجب ہے کسی نابالغ کو اس کا مکلف نہیں کیا ہے ۔عبادات کےباب میں یہ خاص بات ہے ۔استادگرامی قدرحضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی لکھتےہیں:قربانی ایک عبادت ہے،اورشریعت عبادتیں بالغوں پرواجب قراردیتی ہے،نہ کہ نابالغوں پر،اسی لئےنماز،روزہ،حج،زکوةوغیرہ بچہ پرواجب نہیں ،یہی حکم قربانی کابھی ہے،کہ قول صحیح کےمطابق نابالغ پرقربانی واجب نہیں ہوگی ،(کتاب الفتاوی :۱۳۲/۴)                                           عبادت کا اپنا مقام ہے،بدون اس کی ادائیگی کے وہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوتی ہے ۔نماز سے روزہ ادا نہیں ہوتا اور زکوة سے حج ادا نہیں ہوتا ہے ۔بالکل اسی طرح صدقہ وخیرات کے ذریعے قربانی ادا نہیں ہوسکتی ہے ۔
ایسا شخص جس پر قربانی واجب ہے وہ قربانی کے ایام میں بدون قربانی کے نہ تو اپنے ذمہ سے اس واجب کو ساقط کرسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے ذرائع سے اس کے اجر کا مستحق ہوسکتا ہے ۔یہاں قربانی کے ایام میں اہراق دم بھی مطلوب ہے ۔اسی لئے جانور کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے ۔اگر ذبح نہ کرسکتا ہو تو کم از کم اس جگہ موجود رہے یہ عمل بھی افضل ہے ۔ دراصل یہ موجودگی ایک شہادت بھی ہے جس سے اس عبادت کی ادائیگی جڑی ہوئی ہے جسکا گواہ اس مکلف بندے کو بنایا جارہا ہے ۔
شامی ودیگر فقہ کی کتابوں میں اس تعلق سے ایک مسئلہ مذکور ہے وہ قربانی کے ایام سے بالکل بھی تعلق نہیں رکھتا ہے ۔اسے خود ملاحظہ کرلیجئے :اگر قربانی کے دن گزرگئے ناواقفیت یاکسی عذر سے قربانی نہ کرسکا تو قربانی کی قیمت فقراء ومساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے؛ (ردالمحتار:۴۶۵/۸)
یہ قربانی کا بدل نہیں ہے ،اور نہ یہ قربانی کے ایام سے اس کا تعلق ہے ۔یہ مذکورہ ایام گزرجانے کے بعد کا معاملہ ہے جو قربانی کی فضیلت کے مقام کا کبھی سزاوار نہیں ہے ۔اگر یہ بدل کے طور پر ہوتا تو ان ایام میں بھی جائز قرار دیا گیا ہوتا جو قربانی کے تین دن ہیں ،ان ایام میں اس کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ایسا کرنے والا اجر کا مستحق ہونے کے بجائے گناہ کا مرتکب ہوجائے گا جو قربانی کے بدلہ صدقہ وخیرات کرے گا ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ