چلوکہ دشمنانِ مصطفے سے دشمنی کرلیں

16

اسعداللہ قاسمی مظاہری صدرمدرّس جامعہ امّ الہدی مدہوبنی،بہار ڈائریکٹر دارالسّلام فاؤنڈیشن ،دربھنگہ ، بہار

جس نبی مکرّم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے توحید کا جام پلایا، امن کا پیغام سنایا،اخوّت کا دِیا جلایا،مساوات کادرس دیا،تعصّب کی دیوار گرائی ،غم کے ماروں کو ڈھارس دی،زخم کھاکر پھول برسائے،گالیاں سن کر دعائیں دیں،اس رحمتِ عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کو ہردور میں اسلام دشمنوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا،ان کے ناموس پر ضرب لگائی گئی،ان کی شان میں گستاخی کی جسارت کی گئی،
کبھی ڈنمارک میں ،کبھی نا روے میں ،اورکبھی کسی اور مغربی ملک میں۔
جہاں تک دریدہ دہن فرانس کی گستاخی کی بات ہے، تواس کی اسلام دشمنی نئی نہیں ہے ، پہلے بھی وہ ہمیشہ اسلام کے خلاف زہر اُگلتارہاہے اوراپنی خباثت کاثبوت پیش کرتارہاہے۔خلافتِ عثمانیہ کے دور میں فرانس کی ایک ڈرامہ ساز کمپنی کی طرف سے حکومت کی سرپرستی میں توہینِ رسالت پر مبنی ڈرامہ تشکیل دیاگیا اور اسے تھیٹروں میں دکھانےکی تشہیرکی گئی،اس روح فرساواقعہ کی اطلاع سلطنتِ عثمانیہ کے آخری فرماں رواسلطان عبد الحمید ثانی کو ہوئی،ان کی رگوں میں خون جوش مارنے لگا ،انہوں نے فرانسیسی سفیر کو بلایا اورقہر آلود لہجے میں وارننگ دی کہ : "اگر حکومتِ فرانس اس ناپاک حرکت سے باز نہیں آتی،تو ہم اسے عبرت کا نشان بنادیں گے ”
اس پُرجوش اورایمان افروز للکارسے حکومتِ فرانس کانپ اُٹھی ،اس کادل دَہَل گیا،اس کے پاؤں سے زمین کھسک گئی ،اس نے اپنا فیصلہ فورًا تبدیل کیا،اور اس ڈرامے پرپابندی عائد کردی،مگر جبل گردد جبلّت نہ گردد،اس واقعہ کے بعد بھی وقفے وقفے سے فرانس کی شیطنت سراُٹھاتی رہی،مختلف طریقوں سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کونشانہ بنایا جاتا رہا، 2005ء میں فرانس کے پایۂ تخت پیرس میں عوامی مقامات پرمسلم خواتین کے حجاب پہننے پرنکتہ چینی کی گئی،جس سے تصادم کی آگ بھڑک اٹھی،یہ معاملہ اتناآگے بڑھا کہ 2010ء میں فرانس میں حجاب پرپابندی عائد کردی گئی، اس کے بعد 2011ء میں فرانسیسی میگزین”چارلی ہبدو” نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بنانے کی ناپاک کوشش کی،جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں بے چینی کی لہردوڑگئی اورعالم گیر سطح پر اس گھناؤنی حرکت کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔
آج پھروہی تعفّن آمیز حرکت دُہرائی گئی، فرانس کے تخت گاہ پیرس کے مضافاتی علاقے میں ایک بدطینت معلّم کی طرف سے آزادئ اظہارِ رائے کے نام پرطلبہ کے سامنے اہانت آمیز خاکہ پیش کیا گیا، چنددنوں بعد18/اکتوبر2020ءکو ایک18/سالہ عاشقِ رسول نوجوان نےاسے واصلِ جہنم کردیا۔
پڑا فلک کو دل جلوں سے کام نہیں
جلا کر راکھ نہ کروں تو داغ نام نہیں
خَس کَم جہاں پاک۔۔۔وہ بدباطن معلّم اپنے انجام کو پہنچا،مگرہائے رے اسلام دشمنی کابُھوت!
اس مَطرودُ السّمٰوٰت والارض کے قتل پر پورا ابلیسی ٹولہ تِلملا اُٹھا،پوری مغربی دنیا فرانس کی پُشت پر آگئی ،فرانسی پارلیمنٹ میں اس قتل کی مذمت میں متفقہ قراداد پاس کی گئی، ایوان کی کاروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی گئی ،اتنا ہی نہیں اِس ملعون کُشتہ کے اعزازمیں ایک تقریب منعقد کی گئی ، جس میں ملعون فرانسیسی صدر ماکرون نےخطاب کیا، اس شور بخت نے نہ یہ کہ صرف اس گستاخ معلّم کی پُر جوش حوصلہ افزائی کی ،بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کی،اس نے کہاکہ: "ہم اس طرح کے خاکے بنانانہیں چھوڑسکتے،شدت پسند مسلمان ہمارے مستقبل پر قبضہ جماناچاہتے ہیں،ہم اس دہشت گردی کو برداشت نہیں کرسکتے ، "اس سیاہ باطن نے اس گستاخی کو آزادئ اظہارِ رائے قراردیا،اس کی ہدایات پرفرانس کی سرکاری عمارتوں پر تضحیک آمیز خاکےآویزاں کیے گئے۔
اس دل خراش واقعے نے صرف یورپ ہی نہیں،بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچایا،ان میں غم وغصہ کی آگ پھوٹ پڑی ،عاشقینِ نبوت سڑکوں پربے تحاشہ نکل آئے،مشرقِ وسطی سمیت اکثر مسلم ممالک میں پُرزورمظاہرے جاری ہیں،ترکی کےصدررجب طیب اردگان نے بددماغ مکرون کو دماغ کے علاج کا مشورہ دیاہے،ہم سایہ ملک پاکستان کے دونوں ایوانوں میں مذمتی قرارداد منظور کی گئی ہے،کئی ملکوں میں فرانسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چھیڑدی گئی ہے،مسلمانوں میں یہ اشتعال بالکل بجاہے ،کیوں کہ ایک مسلمان ہر چیز برداشت کرسکتاہے،مگر اپنے اس نبیِّ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین برداشت نہیں کرسکتا،جن کے وجودِمسعود سے یہ کائنات روشن ہے۔
کتابِ فطرت کے سرورق پر جو نامِ احمد رقم نہ ہوتا
تو نقش ِ ہستی ابھر نہ سکتا، وجودِ لوح و قلم نہ ہوتا
یہ محفل ِ کن فکاں نہ ہوتی جو وہ امامِ امم نہ ہوتا
زمیں نہ ہوتی، فلک نہ ہوتا، عرب نہ ہوتا، عجم نہ ہوتا

مگرافسوس دنیا بھر سے شدید ردعمل کے باوجود ان سیاہ دل ملعونوں کے کان پر اب تک جوں نہیں رینگی۔
ﷲ تعالیٰ نے ان ضدّی کافروں کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔(البقرہ:7)
آخریہ اہلِ مغرب کب تک طوفان بدتمیزی کرتے رہیں گے ؟کب تک شُترِ بے مہارکی طرح زبان درازی کرتے رہیں گے؟۔۔۔جب ان نام نہاد سیکولر ملکوں میں ایک عام انسان کی عزت کو تحفّظ حاصل ہے ،کوئی کسی کی عزت پرحملہ کی جسارت نہیں کرتا،توپھر اربوں انسانوں کے دلوں میں بسنے والے شہِ بطحاء کے ناموس کو تحفّظ کیوں نہیں!؟کیوں کوئی سَرپھِر اٹھتا ہے ،اورحُرمتِ رسول پامال کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے!؟۔۔۔جب کسی ملک میں وہاں کے وزیرِ اعظم یا صدرِ مملکت کی ہتک آمیزی جرم ہے ،تو پھرصدرِ بزمِ انبیاء اورشہِ ارض وسماء کی توہین کیوں جرم نہیں،اس کے لیے عالمی قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی!؟۔۔۔کب تک آزادئ اظہارِ رائے کی آڑ میں وہ شرمناک گستاخی کی جائے گی ،جس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے؟۔۔۔۔کسی کو گالی دی جائے،اوراسے آزادئ اظہار رائے کانام دیا جائے ،دنیاکاکوئی باشعورانسان اسے برداشت کرسکتاہے؟۔۔۔کسی کے والدین
پر لعن طعن کیاجائے اوراسے آزادئ اظہارِ رائے کانام دیاجائے،دنیاکاکوئی ذی ہوش انسان اس پر خاموش رہ سکتاہے؟۔۔۔۔کسی کی دولت پرجبرًا قبضہ کرلیا جائے ،اسے غریبوں پرخرچ کرنے کافیصلہ سنادیا جائے ،اوراسے آزادئ اظہار رائےکانام دیا جائے ،دنیا کاکوئی ہوش مند انسان اسے درست قراردے سکتاہے!۔۔۔۔نہیں اورہرگزنہیں۔۔۔پھرآزادئ اظہار رائے کے نام پر اُس مقدّس نبی کی توہین کو کیسے برداشت کیاجاسکتا ہے، جو ایک مسلمان کے لیے اس کی جان سے،اس کے خاندان سے، بلکہ دنیاکے ہر انسان سے زیادہ عزیز ہے!؟۔۔
جوگستاخی کروڑں نہیں،بلکہ اربوں انسانوں کے جذبات کاخون کرتی ہو ،اسے آزادئ اظہارِ رائے کانام دیا جائے ،یہ عقلی دیوالیہ پن نہیں تو اور کیا ہے؟!

آزادئ اظہارِرائےکایہ نعرہ اہلِ مغرب کا خود ساختہ نعرہ ہے،جو دیکھنے میں خوبصورت ہے،مگرحقیقت میں کریہ منظر ہے،جس کا راگ وہ رات ودن اس لیے اَلاپتے ہیں،تاکہ اپنی سیاہ حرکتوں پر پردہ ڈال سکیں، اورجس کاڈھنڈوراوہ ہمیشہ اس لیے پیٹتے ہیں،تاکہ دنیا کی آنکھ پر فریب کی پٹّی باندھ سکیں۔اگرانہیں آزادئ اظہارِ رائے کا اتنا ہی پاس ہے، تو پھر یورپ میں اوردیگر کئی ملکوں میں یہودیوں کے "ہولوکاسٹ” کےخلاف تحقیق کرنا جرم کیوں ہے ؟ اگر کوئی شخص علمی بنیاد پر یہ تحقیق کرنا چاہتاہے کہ یہودیوں کو جب جرمنی سے نکالا گیا ،تو کتنے افرادسرقلم کیے گئے،تو قانون اس کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟!
یہ ہے ان کی آزادئ اظہارِ رائے کامکروہ وسیاہ چہرہ!! جب تک اس نعرے سے ان کے سیاسی اورذاتی مفادات حاصل ہوں،ان کاتحفظ لازمی سمجھا جاتا ہے ،لیکن جب ان کاکوئی ذاتی مفاداس سےٹکڑا جائے،تو اس نعرے کو سردخانوں میں ڈال دیاجاتاہے۔
اس لیےآزادئ اظہارِ رائے آزاد کایہ نعرہ مغرب کی اسلام دشمنی، تہذیب باختگی اور اخلاقی مفلسی کاجیتا جاگتاثبوت ہے۔

آزادئ اظہارِ رائے ،آزاد وبے قید نہیں ہے،بلکہ اس کے کچھ لازمی حدود ہیں ،جن کی تعیین دنیا کی کوئی عدالت نہیں ،بلکہ ربِّ ذوالجلال کی عدالت کرتی ہے ،جس نے اظہارِ رائے کے لیے زبان کی قوت بخشی ہے،اس لیے کون سا بول درست ہے اور کون سا درست نہیں ،کسے اظہارِ رائے کی آزادی کہاجائے اور کسے گستاخی و دریدہ دہنی ،اس کا فیصلہ خدائی قانونِ کے تابع ہے۔
ناموسِ رسالت کی توہین کے سلسلے میں خدائی قانون بہت سخت ہے،جہاں اس نے توہینِ رسالت کے غداروں کے خلاف ہمیشہ سخت لب و لہجہ اپنایاہے،لعنتیں برسائی ہیں، اور آخرت میں دردناک سزا کی دھمکیاں سنائی ہیں،وہیں اس نے یہ فیصلہ بھی سنایا ہے کہ ایسے مردود کو روئے زمین پررہنے کا کوئی حق نہیں ،اُس کے ناپاک وجود سے زمین کوپاک کردیاجائے، اگر ایک طرف لعنتوں اوروعیدوں کی آیات موجود ہیں ،تووہیں دوسری طرف عہدِنبوی میں گستاخانِ رسول کے سرقلم کردیے جانے کی نظریں بھی موجود ہیں، آئیے ذرا مختصرًا ان دونوں پہلوؤں پربھی سرسری نگاہ ڈال لی جائے:
سورۂ احزاب میں خدااوررسولِ خداکے ایذا دہندوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ:”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں ، ان پر دنیا میں بھی اللہ کی پھٹکار ہے اور آخرت میں بھی ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رُسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے”۔
(الاحزاب:57)
جب نبی مکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلی بار صفاکی پہاڑی پر چڑھ کر اہلِ مکہ کو جمع کیااور ان کے سامنے دعوت پیش کی توملعون ابولہب نے کہا :”تم ہلاک ہو جاؤ ، کیا تم نے ہمیں اسی کے لیے جمع کیا تھا ؟” اس موقع پر سورۂ لهب نازل کی گئی، اورفرمایاگیاکہ:”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو جائے ۔نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی،وہ عنقریب آتشِ شعلہ زن میں داخل ہوگا”۔۔۔۔۔۔”
مکہ مکرمہ میں دشمنانِ دین پیٹھ پیچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سبّ وشتم کے تیربرساتے ،اورجب آپ سامنے تشریف لاتے ،تو فقرے کستے۔ان سیہ بختوں کے بارے میں سورۂ ہمزہ نازل کی گئی،اورفرمایا گیا کہ :”یہ سارے گستاخ وبدزبان اللہ کی سلگائی آگ میں پھینک دیے جائیں گے،جوانہیں روند ڈالے گی۔۔۔۔۔۔”
جب حضور اقدسﷺ کے بیٹے کا انتقال ہوا تو آپ کے دُشمنوں نے جن میں عاص بن وائل پیش پیش تھا، آپ کو یہ طعنہ دیا کہ معاذ اللہ آپ اَبتر ہیں، یعنی آپ کی نسل نہیں چلے گی۔ اُس کے جواب میں سورۂ کوثرنازل کی گئی ،اورفرمایاگیا کہ” آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے کوثر عطا فرمائی ہے، آپ کے مبارک ذکر اور آپ کے دِین کو آگے چلانے والے تو بے شمار ہوں گے۔ اَبتر تو آپ کا دُشمن ہے جس کا مرنے کے بعد نام ونشان بھی نہیں رہے گا”۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرتﷺ کا تذکرہ اور آپ کی سیرت طیبہ تو الحمدللہ آج بھی زندہ جاوید ہے، اور طعنے دینے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں، اور اگر کوئی اُن کا ذِکر کرتا بھی ہے، تو بُرائی سے کرتا ہے۔
رہے گا تا ابد سایہ مرے آقا کی عظمت کا
یہی ایمان ہے میرا، یہی میری عقیدت ہے

یہ وہ آیات ہیں جن میں گستاخانِ نبی کے اخروی انجام کابیان ہے،ذرا عہدِنبوی کے ان مثالوں کو بھی دیکھ لیں کہ کس طرح ناموسِ رسالت کی دریدہ دہنوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔
مدینہ منورہ میں ابو عفک نامی ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں ایک ہجوآمیز نظم لکھی ۔حضرت سالم بن عمیرؓ نے حضور ﷺکے حکم پر اس مردود کو واصلِ جہنم کیا ،
(سیرۃ ابن ہشام:4/282)
یہودیوں کاسرغنہ کعب بن اشرف ،حضور ﷺکی شان میں گستاخی کرتا اورمذمتی اشعار کہتاتھا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ناپاک وجود سے زمین کوپاک کردیا۔ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، رقم : 4037)
فتحِ مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کردیا گیا تھا، لیکن شاتمِ رسول ابن خطل کو معافی نہیں دی گئی، اس نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑرکھا تھا اور اسی حالت میں اسے واصلِ جہنم کیا گیا، ابن خطل کی دو لونڈیوں کا خون بھی حضور ﷺنے رائیگاں قرار دیا تھا، کیوں کہ وہ بھی حضور ﷺکی شان میں ہجوآلود اشعار گایا کرتی تھیں۔
(الکامل لابن اثیر:2/169 صحیح بخاری،کتاب المغازی، رقم:4035)
اسی لیے گستاخِ رسول کی سزا فقہاء نے لکھی ہے کہ اس کو بطورِحدقتل کردیا جائے گا اور توبہ کرنے پر بھی یہ سزا اس سے معاف نہیں ہوگی۔ ہاں! اس طرح کی سزاوٴں کا جاری کرنا (اسلامی)حکومت کا کام ہے، ہرکس و ناکس اس طرح کی سزا جاری کرنے کا مجاز نہیں ۔
(مستفاد:دار الافتاء دار العلوم دیوبندفتوی نمبر :1149)
گستاخِ رسول کی ایک ہی سزا
سرتن سے جداسرتن سے جدا

مذہبِ اسلام دنیا میں امن کا خواہاں ہے ،اس لیےوہ ہر ایسی چیز پرشدت سے گرفت کرتاہے ،جودنیاکے امن کو سبو تاز کردے،چناں چہ اسی تناظر میں اس نے اپنے ماننے والوں پریہ لازم قراردیاہے کہ مختلف مذاہب کی مقدس شخصیتوں کی بے احترامی نہ کی جائے، ورنہ اس سے جذبات مشتعل ہوں گے اور سماج کا امن و امان تہ وبالا ہو گا،اور جب تم ان کو بُرا بھلا کہو گے،جودوسروں کے نزدیک مقدس اور قابل احترام ہیں،تووہ بھی تمہارے خدا کو ،تمہارے رسول کو اورتمہاری مقدس شخصیات و مقامات کو بُرا بھلا کہیں گے ، اس طرح گویا تم خود اسلام کی مقدس چیزوں کو بُرا بھلا کہلانے کا سبب بنوگے۔(الأنعام:108)
پوری دنیا کے مسلمان اس حکم پر عمل پیرا ہیں،کسی بھی مذہب کا ماننے والا یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ کسی مسلمان نے اس کے مذہب کی کسی مذہبی شخصیت کے لیے گستاخانہ الفاظ استعمال کیا ہو،یااس کا مضحکہ اڑایا ہو۔جب دوسرے اہلِ مذاہب کے جذبات کی اسلام میں اتنی قدر ہے ،پھران اہلِ مغرب کو کچھ تو شرم ہونی چاہیے کہ مذہبِ اسلام کو تختۂ مشق نہ بنایاجائے،اس کے مقدسات کی ہنسی نہ اُڑائی جائے، اس کے ماننے والوں کے احساسات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے،اگر پھر بھی یہ شیاطین الانس یہ غلیظ حرکت کرتے ہیں، تو مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ ان کے نفس کی شرارت ہے،دنیاکےگوشے گوشے میں اسلام کےتیزی سے پھیلنے کی بوکھلاہٹ ہے ،دلیل کے میدان میں شکست خوردگی کی علامت ہے۔ مستشرقینِ مغرب صدیوں سے اسلامی تہذیب وثقافت کے خلاف لکھتے آرہے ہیں،ان کی لائبریریاں اس قسم کی غلیظ آلود کتابوں سےبھری پڑی ہیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ ان کا مدلّل جواب دیاہے،لیکن جب وہ اس میدان میں چاروں شانے چِت ہوگئے ،تو اوچھے ہتکنڈوں پراُترآئے،گالیاں بکنے لگے،اہانت آمیز کارٹونس بنانے لگے،یہ ساری باتیں ان کی خودشکستگی کاعملی اعتراف ہے۔کھسیانی بلی کھمبانوچے۔
لیکن ہاں !ان دشمنوں کی یہ اوچھی حرکت مسلمانوں کی غیرتِ ایمانی کو چیلنج بھی ہے کہ جو لوگ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں ،ان سے محبت کرتے ہیں ،وہ ان کے جواب میں کیاکرتے ہیں،میں سمجھتاہوں کہ پوری امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرے اورنبی کی حرمت پر اپنی جان تک لُٹانے کے لیے تیاررہے اور ہمیشہ دل میں یہ جذبۂ صادق رکھےکہ ۔
ناموس محمد عربی پر ،ہم جان نچھاور کر دیں گے
گر وقت نے ہم سے خوں مانگا ،ہم وقت کا دامن بھر دیں گے
کیوں کہ یہی ہمارا وہ آخری سرمایہ ہے جس کو ہم کھو نہیں سکتے اورجس کے بغیر کمال ِ ایمان کاتصورنہیں۔
( النسائي:5029)
کسی شاعر نے اس کی ترجمانی بہت ہی خوبصورت انداز میں کی ہے:
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

یوں تو نبی ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالتِ شان کایہ عالم ہے کہ کوئی دریدہ دہن ہزار گستاخیاں کریں ،مگرآپ کی عظمتِ شان میں ذرہ برابرکمی نہیں آتی ،کوئی عقل کادشمن چمکتے آفتاب کوتھوکے ،توخود اس کا منہ آلودہ ہوگا، کوئی صفراوی انسان شیریں شیء کو تلخ بتائے ،تو اسے خود اس کے مزاج کا فساد ماناجائے گا،کوئی کج نظر ایک کو دو کہے ، تویہ خود اس کی نگاہ کی خرابی سمجھی جائے گی۔
دیکھوگے برا حال محمدکے عدوّ کا
منہ پہ ہی گرا،جس نے بھی چاند پہ تھوکا
جب تک اس کا ئنات پر خداکی بادشاہت قائم ہے،نبی سيّد الثقلین کے تقدّس کےحسین نغمے گائے جاتے رہیں گے،یہ محض ایک عاشقانہ دعوی نہیں،بلکہ قرآن مقدس میں اس کی شہادتیں موجود ہیں۔
ایک جگہ فرمایا گیا:
اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرہ کو اُونچا مقام عطا کردیا ہے۔(الانشراح:4)
دوسری جگہ فرمایا گیا:یقیناً مذاق اُڑانے والوں کے مقابلہ آپ کی طرف سے ہم ہی کافی ہیں۔
(الحجر:95)

ہاں !ایک مسلمان ہونے کے ناطے ناموسِ رسالت کی حفاظت اور اس کا دفاع تمام مسلمانوں کا اجتماعی مذہبی فریضہ ہے،اس لیے ہم فرانس کی اس نفرت انگیز حرکت کی پُرزور مذمت کرتے ہیں ،جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو سخت ٹھیس پہنچی ہے،اور حکومتِ ہند کے گھناؤنے رویے کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں،جس نے فرانس کی حمایت کرکے صرف بھارت کے 20/کروڑ مسلمانوں کے ہی نہیں،بلکہ سارے عالم کے اربوں مسلمانوں ‌کے جذبات کو مجروح کیاہے اور اپنی اسلام دشمنی کاثبوت دیا ہے۔
ایسےحالات میں عالمِ اسلام کے رہنماؤں اور مسلم حکمرانوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ متحد ہوجائیں، اس ناقابلِ برداشت گستاخانہ حرکت کے خلاف مضبوط لائحہ عمل بنائیں، عالمی پلیٹ فارموں پر اس مسئلہ کو پوری قوت کے ساتھ اٹھائیں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کو یقینی بنائیں، تاکہ مقدّس مذہبی شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائیوں کا سدِّباب ہوسکے۔ عرب لیگ، او آئی سی اور دیگر مسلم ملکوں کو چاہیے کہ وہ حکومت فرانس کے خلاف موثّر آواز بلند کریں،بلکہ دنیا کے نقشے میں موجود 60/کے قریب اسلامی ملکوں کو چاہیے کہ وہ فوری طوری پر دریدہ دہن فرانس سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرلیں، فرانس کے سفیروں کو نکال باہر کریں اوراپنے سفیروں کو بلالیں۔فرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کردیں،یہ وہ طریقے ہیں جن کے ذریعے ان گستاخوں کو کسی حدتک لگام دی جاسکتی ہے۔اگرہم نے اپنے نبی کی ناموس کے تحفظ کے لیے اتنا بھی نہیں کیا ،تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان کے ساتھ کھلی بے وفائی ہوگی۔أعاذناالله منه۔

چلوکہ دشمنانِ مصطفے سے دشمنی کرلیں
محبت کا تقاضا ہے کہ جذبہ آتشی کرلیں
اگرکوئی مرے سرکار کی توہین کرتا ہے
تواس سے منتسب ہرچیز سے ہم سرکشی کرلیں
(محمد رضوان اعظمی)