کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

13
زین العابدین ندوی سنت کبیر نگر۔ یوپی
نبیﷺ سے عقیدت و محبت،ان پر اپنا وجود نچھاور کردینے کا جذبہ، عزت و آبرو، مال ومتاع بلکہ کل اثاثہ حیات قربان کر دینے کا حوصلہ وارادہ ایمان کا جزء لا ینفک ہے،جس کے بغير کسی بھی انسان کا دعویٰ ایمان واسلام معتبر ہی نہیں”لا يومن احدكم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين "
 نبیﷺ کی ذات بابرکت وہ چشمہ حیات ہے جہاں سے جدا ہونے والا کبھی سیراب نہیں ہوسکتا، اور اس در پر پڑ جانے والا کبھی محروم نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اللہ عزوجل ان کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنی اطاعت سے مربوط کر رکھا ہے، *ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم اللہ*…
نبیﷺ سے سچی محبت اور حقیقی لگاو کا اندازہ زبانی جمع خرچ سے نہیں ہوتا اور نہ ہی عقیدت رسول کا حق ادا ہوسکتا ہے، بلکہ اصل محبت یہ ہے کہ ہم خود کو صفات نبی ﷺ سے آراستہ کرتے ہوئے اپنے اعمال وکردار سے دنیا کو نبی ﷺ کی سیرت پڑھنے پر مجبور کر دیں،اور صحیح معانی میں محمدی بن کر یہ ثابت کر دیں کہ نبی ﷺ کے شیدائی ایسے ہوتے ہیں، اور پھر اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں رہنمائی موجود نہ ہو اور ایسا ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ ان کا تعارف ہی یہ ہے *کان خلقہ القرآن*
عام طور پر مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ آسان چیزوں کو تو بہت جلدی تسلیم کر لیتے ہیں مگر جہاں ذرا بھی مفاد متاثر ہوتا نظر آتا ہے تو کتر وبیونت شروع کر دیتے ہیں اس وقت ہمیں سواے اپنے حقیر مفاد کے کچھ اور نظر نہیں آتا، اور پھر ہم اختیاری طور پر سنت نبوی کو پامال کرتے پھرتے ہیں اور محبت وعقیدت کا سارا دعویٰ یک لخت بھلا بیٹھتے ہیں، اور سچ پوچھا جائے تو یہی ہماری ذلت ونکبت کا سبب ہے  *افتومنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذلک منکم الا خزی في الحياة الدنيا ويوم القيامة يردون الى اشد العذابالعذاب*
نبیﷺ کی شان میں گستاخی، اللہ اکبر، جرم کی سنگینی دیکھیے اور ہمارے رد عمل کا اثر بھی، ہم ہیں کہ بس چند تحریروں سے اپنی بھڑاس تو بجھا لیتے  ہیں مگر ان شیطانوں کے خلاف چاہتے ہوئے بھی کوئی مضبوط قدم اٹھانے کی تاب نہیں رکھتے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی منصوبہ اور لائحہ عمل تیار کرتے ہیں، الله  غارت کرے گستاخان رسولﷺ کو،لیکن ساتھ ہی ہمیں بھی اپنے اعمال وکرادر کی روشنی میں خود کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ نبی ﷺ کے تئیں دعویٰ محبت میں ہم کس قدر سچے ہیں۔۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو نبی کے طریقہ کو کما حقہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔ آمین