اکرم حسین صاحب کچھ یادیں کچھ باتیں

37

اکرم حسین صاحب کچھ یادیں کچھ باتیں

ارریہ کورٹ کے جانے مانے وکیل جناب محمداکرم حسین صاحب مرحرحوم اللہ کے پیارے ہو گئے انا للہ وانا الیہ راجعون
. اللہ مغفرت فرمائے اعلی مقام نصیب کرے.
مرحوم وکیل صاحب سے میری پہلی ملاقات ایک اہم خانگی معاملے کی پنچایتی میں بحیثیت شرعی ایڈوازر ہوئی ,دراصل ان کے پاس ایک فریق انہیں مذکورہ معاملہ کورٹ میں لےجانے کےلئے اپنا وکیل بنانے گیاتھا , مگر وکیل صاحب مرحوم نے پوری بات سننے اورپوچھ تاچھ کرنے کے بعداپنے پیشے کی نفسیات کے برعکس محض انسانیت اور ملی خیرخواہی کے تحت سمجھایاکہ: معاملہ کورٹ میں مت لاؤ شہر میں ہی کہیں دوسرے فریق کوبھی بلاؤ بٹھاؤ اور کورٹ سے باہر ہی آپسی مصالحت سے معاملہ حل کرنے کوشش کرو, ورنہ مقدمہ لڑکر دونوں طرف کے لوگ تباہ ہوجاؤگے.
ان کی دین داری, اعلی ظرفی, سچی ہمدردی اور دل سوزی ہی تھی کہ لوگوں سےیہ بھی کہا کہ دارالعلوم رحمانی کے مفتی کو ضرور بلانا کیونکہ معاملہ شرعی نوعیت کاہے. اس زمانے میں دارالافتاء کی ذمہ داری چونکہ میرے ہی سرتھی اس طرح راقم الحروف سے ان کی سب سے پہلی ملاقات ہوئی.
مجھے یاد آتاہے کہ پنچایتی میں میرے بیان کردہ شرعی نکتہء نظر سے شروع میں انہیں پوری طرح اطمینان نہیں ہوا لیکن جب بےنیازانہ انداز میں قدرے تفصیل سے پوری بات سمجھایا تو وہ مطمئن ہوئے اور اسی کے مطابق فیصلہ کروایا. پنچایتی کے بعد گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اردو زبان میں دینی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرتے ہیں اس کے علاوہ ایک لغت اردو ہندی انگریزی وفارسی میں ترتیب دے رہے ہیں. اپنامسودہ دیکھنے کیلئے گھرآنے کی دعوت دی اوراصرار کے ساتھ اپنے اسکوٹر پر بٹھاکر یتیم خانہ ارریہ سے دارالعلوم رحمانی تک بذات خود چھوڑنے آئے. اور میں راستے میں ان کی انسانیت نوازی, انکساری, خوش اخلاقی, اور صلاحیت کا معترف ہوتارہا.
اللہ سے دعاء ہےکہ مرحوم وکیل صاحب پر خاص کرم کا معاملہ فرمائیں. آمین ثم آمین.
حسین احمد ھمدم
مدیر:.چشمہء رحمت ارریہ