اعلی حضرت کے امتیازات اور ہماری رضوی ذمہ داریاں

31

از:۔خالد ایوب مصباحی شیرانی

 

 

آج 25 صفر المظفر 1439 ہے۔ آج سے ٹھیک 99 سال پہلے اس دنیا سے اس عظیم ہستی نے کوچ کیا تھا، جس کے علم و فضل اور عبقریت نے ایک دنیا پر حکومت کی بلکہ اس کی حکم رانی کا دائرہ دن بہ دن وسعت پذیر ہے۔ وہ عظیم ہستی امام عاشقاں، نابغہ روزگار، عبقری الہند، ابو حنیفہ ثانی، امام احمد رضا خاں محدث بریلوی برد اللہ مضجعہ کی ہے۔ امام اہل سنت صرف ایک عالم دین نہ تھے، بلکہ علم و عمل ، عشق رسالت پناہ، تصلب دینی، حمیت اسلامی، سیاسی بصیرت، شخصیت سازی، فراست مومنانہ اور حسن تدبر سمیت درجنوں میدانوں میں وہ امام وقت تھے، جن کی دینی امامت اور حسن قیادت کا لوہا ان لوگوں نے بھی تسلیم کیا جو فکری اور مسلکی طور پر ان سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔

امام اہل سنت کی تہہ دار شخصیت کے کئی ایک امتیازات ہیں، جو انھیں کا حصہ ہیں:

(1)ان کی تصانیف میں تقریبا پچپن علوم و فنون کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ بیک وقت وہ کئی درجن دینی علوم اور ان سے متعلقات میں غیر معمولی مہارت کے ساتھ عصری علوم میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

(2) عشق رسول کا جو نمایاں پہلو ان کے ہاں نظر آتا ہے، ماضی قریب میں اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی قریب کے علما میں یہ ایمانی حرارت نہ تھی جس کے بغیر ایمان بھی کامل نہیں ہوتا لیکن اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ جس شان کے ساتھ بہت دور سے ہی امام اہل سنت کے یہاں یہ عنصر پہچان میں آتا ہے، اوروں کے یہاں یہ بات نہیں۔

(3) دینی کتابوں سے علاقہ رکھنے والے باریک بیں اہل علم و ذوق اس بات کی تصدیق کریں گے کہ دینی تصلب کا جو رنگ امام اہل سنت کے یہاں ملتا ہے ، ماضی قریب بلکہ ماضی بعید میں بھی کافی دور تک وہ رنگ نظر نہیں آتا۔ اس اجمال کی مزید تفصیل علم کلام کی کتابوں کے مطالعہ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

(4) ایک زاہد بوریہ نشیں جس کا شبانہ روز شغل خدمت علم و دین رہا ہو، اس کی سیاسی بصیرت اور فکری گیرائی کس قدر ہو سکتی ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن امام اہل سنت کا وہبی امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے زمانے پر نہ صرف گہری نظر رکھی بلکہ حالات سے بہت اوپر اٹھ کر کرامتی انداز میں ایسی مدبرانہ قیادت فرمائی کہ آج سو سال بعد ان کی قیادت کی داد دیے بنا کوئی چارہ نہیں۔ یہ بات صرف دو ایک اتفاقی مسائل میں نظر نہیں آتی بلکہ آزادی سے ٹھیک پہلے کی اتھل پتھل میں کوئی سیکڑوںمسائل ایسے تھے، جن میں انھوں نے اپنی حسن قیادت اور اصابت رائے کا لوہا منوایا۔

(5) مذہب اسلام کی یہ خوبی رہی ہے کہ اس کے متبعین میں ایسی ہستیاں بھی گزری ہیں جنھوں نے فکر معاش اور سماجیات سے بالکلیہ مستغنی ہو کر کل وقتی طور پر اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے وقف کر دیا ہو،ماضی قریب میں امام اہل سنت کے علاوہ اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔

(6) کامیاب قیادت کا سب سے نمایاں پہلو ہوتا ہے شخصیت سازی، کیوں کہ کام مر سکتے ہیں لیکن کامیاب شخصیات امر ہوتی ہیں۔ امام اہل سنت کی زندگی کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ ان کی چٹائی نے پوری سادگی کے ساتھ اپنے وقت کے بڑے بڑے کج کلاہوں کو سر نیاز خم کرنے پر مجبور کر دیا۔

امام اہل سنت کے آستانے سے ایک ایسی ٹیم تیار ہوئی جو مدتوں بعد کسی استاذ یا کسی رہ نما کا مقدر ہوتی ہے بلکہ سچ یہ ہے ایسے تلامذہ تیار کرنے والے استاذ کو کار شخصیت سازی کے علاوہ کسی کام کے لیے فرصت ملنی ہی نہیں چاہیے تھی جبکہ یہاں حال یہ ہے کہ جیسے کامیاب تلامذہ اور خلفا تیار کیے ہیں، ویسے ہی بہت بڑی تعداد میں نایاب تحقیقی تصانیف کا تحفہ بھی دیا ہے۔آپ کے تلامذہ اور خلفا کی فہرست پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے فقہ و فتاوی ، علوم حدیث، سیاست، طریقت اور تبلیغ اسلام جیسے ان تمام میدانوں کے لیے رجال فراہم کیے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ اسلام کے فروغ و استحکام سے متعلق ہیں۔

(7) باطل فرقوں کے رد و ابطال کے لیے آپ نے تن تنہا اتنا زیادہ اور اتنا با وزن مواد فراہم کر دیا کہ ا ب اس مواد کی تسہیل و تجدید اور جدید انداز میں پیش کش کے علاوہ مزید محنت کی کچھ خاص ضرورت نہیں۔

(8) عقائد و معمولات اہل سنت کو جس تحقیقی، معیاری ، مدلل،خوب صورت اور علم کلام کے جدید لہجے میں امام اہل سنت نے پیش کیا ، ابطال باطل کی طرح اس سلسلے میں بھی اہل سنت کو ا ب اس مواد کی تسہیل و تجدید اور جدید انداز میں پیش کش کے علاوہ مزید محنت کی کچھ خاص ضرورت نہیں۔

(9)اپنے فتاوی میں جدید فقہی مسائل کے حل کے لیے امام اہل سنت نے تنہا جس قدر اصابت رائے کے ساتھ مدلل اور مفصل کام کیا ، آج بڑی بڑی انجمنیں وہ کام نہیں کر پا رہی ہیں۔

(10) "الکلمۃ المھمۃ” کے ذریعہ فلسفہ کی مزخرفات اور ضلالتوں کے سلسلہ وار بتوں کو جس تحقیقی انداز میں آپ نے زمیں دوز کیا، حضرت امام غزالی کے بعد اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہی حشر "مقامع الحدید” کے بعد منطق کا ہوا۔

(11) "فوز مبین” کے ذریعہ جس تحقیقی اور مدلل انداز میں سائنس کا ناطقہ بند کیا، اگر اس کتاب کی تسہیل ہو جائے تو حرکت زمین کے سلسلے میں بار بار اپنا نظریہ بدل چکی سائنس، نہ صرف اس سلسلے میں قرآن کے پیش کردہ نظریہ پر جم جائے بلکہ حضرت امام اہل سنت کی تحقیق کی بدولت سائنس قرآن پر ایمان لانے پر مجبور ہو جائے۔

(12) "حسام الحرمین ” کے ذریعہ امام اہل سنت نے تحقیق کے معیار کے ساتھ تصدیقات کے تسلسل کا بھی ایک خاموش سبق دیا جس کے بعد گم راہوں کے لیے باب الاسلام عرب کا راستہ بھی بند ہو گیا اور آج کے ہمارے موجودہ حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ امام اہل سنت کا یہ طرز عمل نہ صرف بہت ضروری تھا بلکہ بے حد دانش مندانہ اور با کرامت بھی تھا کیوں کہ آج جس ڈھنڈورے پن کے ساتھ باطل بات بات پر عرب میں کسی کام کے ہونے یا ہونے کا حوالہ پیش کرتا ہے، اگر باطل کے کفریات پر عرب کی مہر نہ ہوتی تو شاید آج وہ اور زیادہ آزاد ہوتے اور انھیں گم راہ گری کےمزید میدان ہاتھ لگتے۔

(13) اہل سنت و جماعت کے اتحاد کے لیے امام اہل سنت نے جس بصیرت کے ساتھ مساعی کیں، آج اس طرز عمل کو فولو کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آپ کی بارگاہ میں بلا تفریق ہر جگہ کی مستند خانقاہیں اور ہر جہت کی معتبر شخصیات نہ صرف حاضر ہوتی تھیں بلکہ آپ سے کسب فیض کرتی تھیں۔

(14) تبلیغ دین کے لیے عام طور پر جتنے کار گر میدان ہوتے ہیں آپ نے ان تمام میدانوں کے ذریعہ تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دیا۔ تصنیف و تالیف، فقہ و افتا، تعلیم وتدریس،بیعت وارشاد اور شخصیت سازی بلکہ سیاست سے کوسوں دور رہنے کے باوجود سیاسی بصیرت کے ذریعہ میدان سیاست میں بھی آپ نے اپنے نقوش ثبت فرمائے۔

(15) آپ علیہ الرحمہ نے خود جن جن میدانوں میں طبع آزمائی کی ، ان تمام میدانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اپنے تلامذہ اور خلفا کو جیتے جی ان میدانوں کے لیے عملی طور پر تیار کیا اور اس طرح اپنے پس ماندگان کو بے سہارا نہ چھوڑا بلکہ ان کے لیے سامان راحت فراہم کر کے گئے۔

سرسری نظر میں بر جستہ نوک خامہ پر جاری ہوئے امام اہل سنت کے یہ وہ امتیازی پہلو ہیں جن سے احسان شناسی کے علاوہ کسی بھی ظریف اور انصاف پسند صاحب علم کے لیے چشم پوشی ممکن نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے :

(1) اگرچہ کماحقہ آج بھی آپ کی عبقری شخصیت پر کام نہ ہو سکا تاہم پچھلے سو سال میں نسبتاآپ کی خدمات کا جس شد و مد کے ساتھ اعتراف کیا گیا اور بالخصوص عوام کے ساتھ اہل علم نے جس قدر آپ کی شخصیت کی طرف رجوع کیا، یہ قبول عام ایک زمانے سے کسی آستانے کا حصہ نہیں بنا۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

(2) جس قدر آپ سے معنون و منسوب نئے مدرسے قائم اور رسالے جاری ہوئے اور جس قدر پرانے رسالوں میں آپ کی شخصیت پر نمبر شائع ہوئے، یہ مقبولیت بھی آپ ہی کا حصہ رہا ۔ اس کی وجہ آپ کی شخصیت کا تنوع ہے ۔

(3) آج تک آپ علیہ الرحمہ کی شخصیت پر جس قدر یونیور سٹیز میں پی ایچ ڈی ہوئیں اور جتنے زیادہ تھیسیس لکھے گئے، اتنا کام کسی بھی نئی پرانی مذہبی شخصیت پر نہیں ہوا۔

(4) فقہ و فتاوی کے نام پر اردو زبان میں جس قدر قبول عام آپ کے فتاوی کو حاصل ہوا، اتنی مقبولیت اردو زبان میں تو دور درس نظامی میں رائج بعض فقہی کتابوں کو بھی نہ ہوئی۔

(5) اردو ادب نے آپ علیہ الرحمہ کے ساتھ بے پناہ تعصب برتا لیکن اس کے باوجود جتنا کام آپ کی شخصیت پر ہوا، اس حالت میں کسی پر اتنا کام ہونا واقعتا کسی کرامت سے کم نہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم نے جب خوش قسمتی سے ایسا عظیم دینی و علمی اور عبقری رہ نما پایا ہے تو اس کا ایک کم سو سالہ جشن منانے کے ساتھ ہی رسمی نذر و نیاز اور فاتحہ درود کے علاوہ چند چیزوں کا اپنے آپ کو بھی پابند بنائیں تاکہ محبت اور پیروی کا عملی حق ادا ہو :

(1) چوں کہ امام اہل سنت کی شخصیت سر تا سر علمی شخصیت ہے،اس لیے ان کے فولوور س کے اندر بھی دور سے علمی جھلک محسوس کی جانی چاہیے ورنہ دعوائے محبت مشکوک ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب نہ صرف حضرت امام کی تصانیف ہمارے زیر مطالعہ ہوں گی بلکہ ہمارا معیار علم یہ ہوگا کہ ہم ان تصانیف پر علمی اور فکری انداز میں تبصرہ کرنے کے بھی اہل ہوں گے۔ نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ آج حضرت امام سے دعوائے محبت کرنے والوں میں پچانوے فیصد افراد وہ ہیں جن کا معیار علم اس درجے سے بھی ہلکاہے۔

(2)امام اہل سنت کے لیے "فاضل بریلوی” کا لفظ ہرگز استعمال نہ کریں، اس سلسلے میں رضویات کے ماہر اور نہایت محتاط علمی شخصیت حضرت خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی ؛ ناظم تعلیمات: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کی یہ فکر بنا کسی لفظی نزاع اور چوں چرا کے ساتھ قبول کرنا وقت کی ضرورت ہے، آپ لکھتے ہیں:

"غور فرمائیں کہ اعلی حضرت قدس سرہ کو ہم جس مہارت علوم وفنون اور جس عظیم علمی تبحر سے موصوف کرتے ہیں لفظ ” فاضل” سے اس کا اظہار کس حد تک ہوتا ہے؟ یہ لقب تو ایسے شخص کے لیے بھی بجا و درست ہے جو درس نظامی سے فراغت کے ساتھ مروجہ علوم و فنون میں یک گونہ درک رکھتا ہو اور ایسے ہی حضرات کے لیے عام طور پر بولا بھی جاتا ہے ۔ اعلی حضرت کے لیے اس کا استعمال کر کے کیا یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ بھی ایسے ہی لوگوں کی صف میں تھے؟ ہرگز نہیں، پھر ان کے لیے اسے استعمال کرنے کی کیا ضرورت ؟

بعض لوگ تو اعلی حضرت قدس سرہ کے دیگر عظیم القاب ذکر کرنے کے بعد بھی "فاضل بریلوی” کا پیوند لگا دیتے ہیں۔ اس وقت تو یہ بالکل "فاضل” ہی نظر آتا ہے۔

میں نے اعلی حضرت قدس سرہ کے رتبہ شناس معاصرین اور ان کے کثیر تلامذہ و خلفا کی تحریریں پڑھیں، ان میں اعلی حضرت قدس سرہ کے لیے "فاضل بریلوی” کا استعمال کہیں نہ دیکھا۔ پھر یہ استعمال ہم میں کہاں سے در آیا؟ اس کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے۔

میں نے جہاں تک سمجھا اور معلوم کیا اس کا استعمال ان لوگوں سے شروع ہوا جو امام اہل سنت کو وہابیوں، دیوبندیوں کی طرح "خان صاحب” یا "خان صاحب بریلوی” علانیہ کہنا پسند نہیں کرتے تھے اور اس زمانے کے عرف کے لحاظ سے "مولانا احمد رضا خان” کہنے میں بھی خاص تحریم و تعظیم کا اظہار ہوتا تھا، اس لیے یہ بھی گوارا نہ تھا۔ لیکن "فاضل بریلوی” کہنے میں انھیں یک گونہ راحت نظر آئی اس لیے کہ فاضل کا مصدر فضل اور فضول دونوں ہے، فضل پر نظر کرتے ہوئے معتقد کو کچھ بولنے کی گنجائش نہ ملتی اور فضول پر نظر کرتے ہوئے دل کے بغض اور آتش حسد کی تسکین ہو جاتی۔ اس لیے سب چھوڑ کر اسی کو لکھنا بولنا پسند کیا، جماعت کے لیے لفظ "بریلوی” کے بے جا استعمال کی طرح اب شخصیت کے لیے "فاضل بریلوی” بھی عقیدت مندوں نے اپنا لیا ہے اور اتنی کثرت سے استعمال ہونے لگا ہے کہ جیسے اس کے ذریعہ کسی بڑے بھاری کمال کا اظہار ہوتاہے، جس کی تعبیر سے دوسرے آداب و القاب قاصر ہیں۔ جبکہ عموما یہ زائد یا بے محل ہی نظر آتا ہے”۔ (جہان مفتی اعظم، ص: 98۔99)

(3) امام اہل سنت کے ساتھ ایک ٹریجڈی یہ ہوئی کہ آپ کا تعارف نرم خو کی بجائے مسلکی بنیادوں کو لے کر ایک سخت مزاج کے روپ میں پیش کیا گیا اور یہ غلطی غیر شعوری طور پر آپ سے محبت کرنے والوں نے کی جس کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑا کہ عام سنجیدہ طبقہ بنا تحقیق کیے حضرت امام کی شخصیت سے کنارہ کش ہو گیا اور بالآخر باطل ایسے افراد کو اچک لینے میں کامیاب ہو گیا۔

(4) حضرت امام کی نہایت علمی اور بے غبار شخصیت کا شدید تقاضا ہے کہ آپ کی تصنیفات کو دور جدید کے مطابق سہل کر کے پیش کیا جائے اور حسب ضرورت ان پر حاشیہ آرائی بھی کی جائے تاکہ عام لوگوں کے لیے بھی آپ کی علمی شخصیت سے استفادہ ممکن ہو اور ساتھ ہی ساتھ آپ علیہ الرحمہ سے محض مسلکی روش یا طبعی عناد کی بنیاد پر دل میں خلش رکھنے والوں کا بھی ناطقہ بند ہو۔

اس سلسلے میں جماعت اہل سنت کی چند تنظیموں کا کام قابل قدر ہے جیسے رضا اکیڈمی، بمبئی، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی، دعوت اسلامی، پاکستان اور تحقیقات امام احمد رضا، پاکستان وغیرہ۔

(5)کسی بھی علمی شخصیت کا تعارف اس کی علمیت کے اعتبار سے ہوتو یہ بے شک ہر انصاف پسند کے لیے خواہی نخواہی قابل قبول ہوگا لیکن اگر یہ کام محض عقیدت و محبت کے طول طویل نعروں اور بھاری بھرکم الفاظ و القاب کے روپ میں کیا جائے تو بہت ممکن ہے متعصب اور مخالف کے ساتھ سنجیدہ اور انصاف پسند طبقہ بھی ایسے ممدوح کو نظر انداز کر دے۔ حضرت امام علیہ الرحمہ کے ساتھ یہی ہوا کہ آپ کی محبتوں کے نعرے تو بہت با وزن رہے لیکن عملی دنیامیں آپ کا علمی تعارف وہ نہ ہو سکا جس کے آپ مستحق تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مودودی جیسے وہ لوگ جو حضرت امام کے آگے طفل مکتب کی بھی حیثیت نہیں رکھتے آج عالمی مفکرین کی فہرست میں ہیں جبکہ حضرت امام کو ان کا قرار واقعی مقام نہ مل سکا۔

(6) امام اہل سنت کے افکار نظریات ایک جہان کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ کی تصانیف سے آپ کے افکار کی تخریج ہو اور ان کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے اور پھر ایک حد تک ان پر عمل کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ عالم اسلام پر آپ کے علوم و فنون کی طرح آپ کے افکار و نظریات کی بھی گہری چھاپ مرتب ہو اور واقعتا مذہب و مسلک کا وہ کام ہو، جس کے آپ رحمۃ اللہ تعالی متمنی تھے۔

(7) رضویات پر کام کے تعلق سے ایک اہم گوشہ یہ بھی ہے کہ آپ علیہ الرحمہ کے علمی کاموں کی تعریب ہو تاکہ عالم عرب بھی آپ کی علمیت سے مستفید ہو سکے اور "البریلویۃ” نے جس کذب بیانی اور افترا کی بنیاد پر عرب دنیا کو گم راہ کیا، اس کے مسموم بادل چھٹ سکیں۔

(8)موجودہ حالات میں ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ خانوادہ رضویہ اسی روش پر گام زن ہو جس پر حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خاں علیہ الرحمہ کے دور تک گام زن تھا، بلا تفریق مشرب تمام برادران اہل سنت کی حسن قیادت کرے اور کار افتا کی طرح حتی المقدور جماعت اہل سنت کو متحد کرنے میں بھی اہم کردار نبھائے، اگر خانوادہ رضویہ کے ذمہ داران چاہیں تو یہ کام اب بھی ممکن ہے لیکن اگر بر وقت اس طرف توجہ نہ کی گئی تو شاید پھر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا اور زبان زبان پر یہ بات عام ہونے لگے گی: بریلی میں قیادت کی صلاحیت مفتی اعظم ہند تک تھی اور بس”