دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں ہوئےتشدد کی جانچ میں اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس سے پتہ چلے کہ سیاسی رہنماؤں نے تشدد کے لیے اکسایا یا اس میں حصہ لیا تھا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے سوموار کو دہلی ہائی کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ ابھی تک اس تشدد میں کسی بھی پولیس افسر کی شمولیت کے بھی کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔
دہلی پولیس نے یہ جواب دہلی ہائی کورٹ کے سامنےدائر کچھ پی آئی ایل عرضیوں کے جواب میں دیا ہے۔ان عرضیوں میں بی جے پی کے کپل مشرا سمیت بی جےپی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کچھ رہنماؤں پر ہیٹ اسپیچ کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
پولیس کے حلف نامے میں کہا گیا،‘اگر جانچ کے دوران ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت ہوگی تو دہلی پولیس قانون کے تحت متعلقہ لوگوں کے خلاف کارروائی کرےگی۔ حالانکہ، ابھی اس سطح پر کسی ایف آئی آر کی ضرورت نہیں ہے۔’حلف نامے میں کہا گیا کہ دہلی پولیس رہنماؤں کے ان ہیٹ اسپیچ کی جانچ کر رہی ہے اور اگر یہ ثبوت پایا گیا کہ ان کے بیانات کی وجہ سے فسادات ہوئے تھے تو اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی جائےگی۔
دہلی ہائی کورٹ میں دائر ایک عرضی میں فسادات میں شامل پولیس افسران کی پہچان کرنے کو بھی کہا گیا ہے، جس کے جواب میں پولیس کے حلف نامے میں کہا گیا کہ ابھی تک جانچ کے دوران کسی بھی پولیس افسر کے شامل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔حالانکہ ان معاملوں کی جانچ چل رہی ہے اور اگر کسی بھی طرح کی شمولیت کے ثبوت ملتے ہیں تو ضروری کارروائی کی جائےگی۔پولیس نے ان عرضیوں کو خارج کرنے کی بھی مانگ کی
پولیس نے کہا، ‘انہوں نے (عرضی گزاروں)اپنے ایجنڈے کے تحت چنندہ بیانات اورواقعات کو پیش کیا۔عرضی گزاروں نے چنندہ واقعات پر ہی برہمی کا اظہار کیاجبکہ تشدد کےدیگر گھنونے واقعات کو نظر انداز کیا، جو یہ دکھاتا ہے کہ موجودہ عرضیاں حقیقی نہیں ہیں بلکہ خاص ایجنڈے سےمتاثر ہیں۔’
ایک دوسری عرضی میں الزام لگایا گیا کہ راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کانگریس رہنماؤں اور منیش سسودیا، امانت اللہ خان جیسےعآپ رہنماؤں اور اےآئی ایم آئی ایم ایم ایل اے وارث پٹھان نے بھی ہیٹ اسپیچ دیے تھے۔اس معاملے پر اگلی شنوائی 21 جولائی کو ہوگی۔ بتا دیں کہ اس سال فروری کے آخری ہفتے میں ہوئے دہلی تشدد میں کم سے کم 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی، سینکڑو ں لوگ زخمی ہوئے تھے اور متعدد لوگ در بدر ہو گئے تھے۔