مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مذہبی اتحاد کی طرف قدم بڑھائیے ، مجلس علمائے ملت کی میٹنگ میں شرکاء کا اظہار خیال

40
سنابل اسلامک اسکول چھترگاچھ میں مجلس علمائے ملت کی جانب سے مولانا زین العابدین سنابلی کی صدارت میں علمائے اہل حدیث کی ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ جس میں تمام مسالک و مشارب کو ایک پلیٹ فارم پر آکر بحیثیت مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لیے فکر لی گئی۔ نشست کا آغاز مولانا ضمیر الاسلام نے قرآن پاک کی تلاوت سے کیا۔ مولانا شمیم ریاض ندوی نے تمہیدی گفتگو میں اتحاد و اتفاق کی اہمیت اور ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ اس ملک کے ایک کروڑ علمائے کرام اگر متحد ہوجائیں تو مسلمانوں کے تمام مسائل بآسانی حل ہوسکتے ہیں اور حکومت سے ہر مطالبہ منوایا جاسکتا ہے۔
مولانا زین العابدین سنابلی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جب سے ہم لوگوں نے باہمی میل جول ترک کیا ہے ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں اور ہم ایک دوسرے سے منقطع ہوکر رہ گئے ہیں، یہی ہمارے اتحاد کے نہ ہونے کا سبب ہے۔
میٹنگ میں شریک علمائے کرام نے مجلس علمائے ملت کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے تائید و توثیق کی اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ جن میں مولانا مزمل حق ندوی پرلاباڑی، مولانا عبدالجلیل ندوی بکسہ، مولانا طریق الاسلام گلگلیہ پل، مولانا مستقیم بکسہ، مولابا مصطفیٰ، مولانا سعود عالم، مولانا تسلیم الدین، مولانا مجبیب الرحمٰن بخاری، مولانا اسرار الحق، مولانا نور الاسلام، مولانا عبدالواحد بخاری، مولانا صائم قاسمی، مولانا نورالحق چھترگاچھ، مولانا آفتاب اظہر صدیقی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔