دہلی فسادات : پولیس نے کہا، ہندوؤں کی گرفتاری پر کمیونٹی میں غصہ ، احتیاط برتنے کی ضرورت

37
دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اورگرفتاریوں کے بیچ اسپیشل پولیس کمشنر پرویر رنجن نے ایک آرڈر میں خفیہ ان پٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات متاثرہ علاقوں میں کچھ ہندو نوجوانوں کوحراست میں لیے جانے سے کمیونٹی کے لوگوں میں غصہ ہے۔
نئی دہلی ۔ 15 جولائی 2020
دہلی پولیس کے اسپیشل پولیس کمشنر(کرائم)کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات متاثرہ علاقوں میں کچھ ہندونوجوانوں کی گرفتاری سے ہندوکمیونٹی کے لوگوں میں غصہ ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا کہ لوگوں کی گرفتاری کے دوران احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے تحریری آرڈر جاری کر کےسنیئر افسروں سے جانچ کر رہے افسروں کی رہنمائی کرنے کو کہا۔یہ آرڈر دہلی فسادات معاملوں میں دہلی پولیس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اور گرفتاری کے بیچ آیا ہے۔اسپیشل سی پی(کرائم اینڈ اکنامک کرائمز ونگ)پرویر رنجن کے آٹھ جولائی کے آرڈر میں شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ اور کھجوری خاص سے کچھ ہندونوجوانوں کی فسادات کے سلسلے میں گرفتاریوں کو لےکر خفیہ ان پٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔
آرڈرمیں کہا گیا کہ ہندوکمیو نٹی کے نمائندوں کا الزام ہے کہ یہ گرفتاریاں بنا کسی ثبوت کے کی گئی ہیں اور اس طرح کی گرفتاریاں کچھ ذاتی وجوہات سے کی جا رہی ہیں۔اس آرڈرمیں دو مسلم نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسی علاقے میں دو مسلم نوجوانوں کے خلاف پولیس کی مبینہ غیر فعالیت کے لیے ہندوکمیونٹی کے اندر غصہ ہے۔
ان نوجوانوں پرالزام ہے کہ یہ سی اے اے کے خلاف مظاہروں اور دہلی فسادات کے دوران مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو اکٹھا کرنے والوں میں شامل تھے۔آرڈر میں کہا گیا،‘کسی بھی شخص کو گرفتار کرتےوقت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔براہ راست اور تکنیکی شواہد سمیت تمام ثبوتوں کاٹھیک سے تجزیہ کرنا ضروری ہے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ سبھی گرفتاریاں مناسب ثبوتوں کی بنیاد پر ہو۔ کسی بھی معاملے میں من مانی گرفتاری نہیں کی جانی چاہیے اور سبھی ثبوتوں پر خصوصی پبلک پراسیکیوٹر کے ساتھ بات کی جانی چاہیے۔’
آرڈر میں یہ بھی کہا گیا کہ نگران افسران اےسی پی/ڈی ایس پی ایس آئی ٹی اور ایڈیشنل سی پی/کرائم (ہیڈکوارٹر)صحیح طریقےسے جانچ کرنے والے افسروں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
اس وقت تین اسپیشل جانچ ٹیم ان معاملوں کی جانچ کر رہی ہیں۔معلوم ہو کہ دہلی پولیس نے 20 اپریل کو کیے ٹوئٹ میں کہا تھا، ‘جامعہ اور دہلی فسادات معاملوں کی جانچ کے دوران دہلی پولیس نے بڑی ہی ایمانداری اورغیرجانبداری سے اپنا کام کیا ہے۔ تمام گرفتاریاں سائنسی اورفارینسک ثبوتوں کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔’
حالانکہ پولیس کے ذریعے اس معاملے میں دائر چارج شیٹ لگاتار سوالوں کے گھیرے میں ہے۔