یقین ہے اہل بہار حکمت و فراست کاثبوت دیں گے

27
مدرسہ نور الاسلام
مدرسہ نور الاسلام

محمد قمر الزماں ندوی  مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ، پرتاپگڑھ

آج ہم اپنی تحریر کا آغاز ایک واقعہ سے کرتے ہیں، مشہور ہے کہ سکندر اعظم فتح کے بعد یونان گیا، وہاں ایک آدمی دنیا سے بے خبر سو رہا تھا، سکندر نے اسے لات مار کر جگایا، اور کہا تو بے خبر سو رہا ہے، میں نے اس شہر کو فتح کر لیا ہے، اس نے سکندر اعظم کی طرف دیکھا اور کہا کہ شہر فتح کرنا بادشاہ کا کام ہے اور لات مارنا گدھے کا، کیا کوئی انسان دنیا میں نہیں رہا جو بادشاہت ایک گدھے کو مل گئی۔۔۔
اس لیے بہار کے بدھی جیوی دوستو! بھائیو ،مترو! ، جوانو، مائیں، اور بہنو ! ووٹ سوچ سمجھ کر دینا، اپنے اس ادھیکار کا صحیح پریوگ کرنا ورنہ اگر حکومت اس کو مل گئی اور اقتدار کی کرسی پر وہ براجمان ہوگیا تو پھر آگے افسوس ہوگا اور پھر پچھتاوے سے کچھ نہ ہوگا۔۔۔ پانچ سال پھر رونا گانا پڑے گا، ہوسکتا ہے پھر وہ اقتدار پر بہت دنوں تک قابض رہے اور اپنے منصوبہ کو نافذ کرنا اس کے لیے آسان ہو جائے۔۔۔
بہار الیکشن پر میں نے کافی لکھ دیا، خوب نصیحت پلا دی،کہیں ڈوز زیادہ نہ ہوجائے، اس لیے آج آپ خوب غور و فکر کریں، آپ اور ہم سب رب سے لو لگائیں، صحیح فیصلہ کی توفیق کے لیے دعا کریں۔ کوشش ہو کہ ہر مسلمان باوضو ہوکر دو رکعت صلوۃ الحاجت پڑھ کر ووٹ دینے جائیں۔۔۔۔
بس آج کے پیغام میں آپ سب بہار کے ایک جید اور ذی ہوش عالم دین اور خادم قوم و ملت مولانا ابو الکلام صاحب قاسمی، شمسی کی اس اپیل کو ضرور ملاحظہ کرلیں جو انہوں نے آپ اہل بہار سے کی ہے۔۔۔۔

کل صبح جب آپ بہار کے واسیو! اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیجئے گا تو

آج 27/ اکتوبر ھے ،کل 28/ اکتوبر کو بہار میں پہلا الیکشن ھوگا،پھر 3/ نومبر کو دوسرا اور 7/ نومبر کو تیسرا ۔ اس لئے آج بہار کی موجودہ صورت حال کا تجزیہ پیش ھے ۔بہار کی موجودہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ الیکشن کے موقع پر چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کا جو نیا اتحاد بنا ھے،بہار کی عوام ان چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے نہ کام سے واقف ہیں اور نہ نام سے۔ یہ پارٹیاں صرف فیلڈ بنانے کے لئے بہار کے الیکشن میں آگئی ھیں،جبکہ دانشوروں کے مطابق یہ نازک وقت اس کام کے لئے مناسب نہیں ھے ، اس کی وجہ سے بی جے پی کے لئے راستہ ھموار ھوتا صاف نظر آرہا ھے ،بی جے پی کا اپنا کیڈر ووٹ ھے ،وہ بہت مضبوط ہے،وہ منتشر نہیں ھوگا، البتہ برادران وطن کا وہ ووٹ منتشر ھورہا ھے، جو ووٹ بی جے پی کو نہیں جا تا ھے ،اور مسلم سماج کا ووٹ منتشر ھورہا ھے، اس طرح سیکولر برادران وطن اور مسلمانوں کا ووٹ بری طرح تقسیم ھورہا ھے، اس کا فائدہ بی جے پی کو ھورہا ھے، اس لئے ضرورت اس بات کی ھے کہ مسلم اور سیکولر برادران وطن کے ووٹ کو تقسیم ھونے سے بچایا جائے، ورنہ بہار کو یوپی جیسا اسٹیٹ بنانے میں کسی نہ کسی طرح ھم بھی حصہ دار سمجھے جائینگے،خدا نخواستہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار حاصل ھوگیا تو بہار کا امن و سکون بھی ختم ھو جائے گا، یہ فرقہ پرست لوگ ابھی سے اعلان کر رھے ھیں کہ پورے ملک میں جلد سی اے اے نافذ کیا جائے گا، مدارس ملحقہ کو اسکول میں تبدیل کیا جائے گا،پھر کہیں گے کسی مدرسہ میں دینی تعلیم نہیں ھوگی،دین و شریعت کے خلاف زہر افشانی کرینگے،ملک کے دستور کو تبدیل کرینگے،ان خطرات سے بچنے کے لئے ووٹ کو تقسیم ھونے سے بچانا ھماری بھی ذمہ داری ھے ،بہار کے اضلاع کے سلسلہ میں تجزیہ نگاروں کا یہی تجزیہ ھے کہ بہار الیکشن میں سیدھا مقابلہ بی بے پی اور مہا گٹھبںدھن کے درمیان ھے،دیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کی وجہ سے ووٹ تقسیم ھورہا ھے،اس لئے ھماری حکمت عملی یہ ھو کہ ھم ووٹ کو تقسیم ھونے سے بچائیں،اور سیکولر پارٹیوں کے جیتنے والے امیدوار کو ووٹ دے کر جیت دلائیں، ووٹ آپ کا دستوری حق ھے ،اس کا استعمال ضرور کریں،اس کا استعمال صحیح امیدوار کے انتخاب کے لیے کریں،صحیح پارٹی اور امیدوار کا انتخاب کرکے اپنی حفاظت کریں اور ملک کے دستور کی حفاظت کریں،