آزادی کے غلام

33

تحریر :خورشید انور ندوی

دنیائے علم میں تجریدیت اور معروضیت ایک اعتباری اور تناسبی شئے ہے.. اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہوتا.. فلسفہ کی زبان میں یہ عارض ہے جسم نہیں یا حادث ہے قدیم نہیں.. بلکہ یہ وجود ہے ہی نہیں.. بنابریں آزادی اپنے سیاسی اور سماجی مفہوم میں ایک بے جہت، ناتراشیدہ، غیر متعین، مبہم، ہشت پہلو اور تاویلی مفہوم ہے.. یہ حال انسان کے ڈھالے ہوئے ہر مفہوم اور اصطلاح کا ہوگا جو وحی الہی اور منبع نبوت سے آزاد ہوکر طے کیا جائے گا..

آزادی کی اصطلاح خواہ سیاسی یا سماجی کسی طور پر برتی جائے بالکل گنجلک اور بے معنی ہے.. اس کی رٹ لگانے والے اس کے حدود کی تعیین نہیں کرپارہے ہیں.. بلکہ گندم نما جو فروش مبلغین آزادی یہ باور کرواتے باز نہیں آتے کہ آزادی کا سب سے بڑا مخالف مذہب ہے.. حالانکہ مذہب (مذہب اسلام) نے آزادی کا مفہوم بطور اصطلاح اس وقت متعارف کرایا جب علمی اصطلاحات ترقی یافتہ شکل میں بنی بھی نہیں تھیں.. دین حنیف نے اپنے تشریعی ذخیرے میں "اطلاق” "تطلیق” "فک الرقبہ” تسریح "” حر ” جیسے الفاظ ثبت کئے تو اپنے فکری اور ادبی ذخیرے میں” عبادت الہ و رب "اور مخالف مفہوم میں” عبودیت الناس والعباد "کے الفاظ اضافہ کئے..

آج کی نام نہاد آزاد دنیا ابھی تک اپنی آزادی کی مفروضہ معراج میں انسانوں کی غلامی سے آگے نہیں بڑھ پائی.. اب تک جمہوریت کی عام تعریف یہی بن سکی ہے کہ” عوام کے ذریعے عوام پر عوام کی حکمرانی ".. اس بے مہار فکر سازی سے یہ حاصل کیا جاسکا ہے کہ حکمرانی فرد کے بجائے افراد کو دے دی گئی.. لیکن انتظامی نتیجہ پھر فرد پر ہی مرتکز ہوجاتا ہے.. جیسے امریکن اور یورپین مروجہ سیاسی نظام ہائے حکومت میں ہوتا ہے.. فرد یا افراد کی غلامی سے مطلق آزادی کا کوئی تصور مستحکم نہیں ہوتا ہے. جب کہ اسلام نے فرد اور افراد (انسان) سے مطلق آزادی انسانوں کو عطا کیا.. اور سارے انسانوں کو پیدائشی طور پر آزاد تسلیم کیا.. اور اس کو اپنے منشور کا سرنامہ بنایا ہے..

ایسی آزادی جس میں دوسرے فرد یا اجتماع کی آزادی داؤ پر لگ جائے، عدل کے فطری میزان میں بے وزن ہے.. آزادی یہ مفہوم کس طرح انسان ذہن قبول کر سکتا ہے کہ جو چاہے کہہ دیا جائے لکھ دیا جائے، تشکیل دے دیا جائے یا خاکہ بنادیا جائے اور بولنے لکھنے والوں سے کہیں زیادہ دوسری متعلق سوسائٹی زخم خوردہ ہوجائے.. یہ تو فطری طور پر بنیادی جمہوریت کا مخالف نظریہ ہے،، جمہوریت کے دعویدار معاشرے میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی.. کہا جاتا ہے کہ آپ اپنا ہاتھ ہوا میں لہرانے کے لئے آزاد ہیں، جب تک کہ وہ دوسرے کی ناک تک نہ پہونچے.. لیکن فرانس کے صدر کی آزادی کا تصور تو ساری دنیا اور خود ان کے اپنے ملک کی بڑی آبادی کو بے چین کردے رہا ہے.. آزادی کا ان کا ناپختہ اور نیم زائیدہ تصور دل دماغ ضمیر سوچ اور عقیدہ کو مضطرب کررہا ہے.. اور اس اضطراب میں کوئی سوسائٹی ترقی تو کیا سلامت نہیں رہ سکتی.. آزادی کے متوالے دل آزاری کی آزادی کے طالب ہیں تو یہ انھیں نصیب نہیں ہوسکتی.. آزادی دئے بغیر آزادی لی نہیں جاسکتی ہے…دنیا کے کسی کونے میں کوئی آزادی جزوی نہیں ہوتی.. آزادی ایک کلیت پسند تصور ہے.. اس کی تحدید ممکن نہیں.. جس معاشرے میں آزادی لینے اور دینے کا تصور قائم ہو وہ آزاد ہوہی نہیں سکتا.. یہ ایک فروغ پذیر سماجی تصور ہے جو ہمہ گیریت کا طالب ہے.. اگر اظہار رائے کی آزادی مسلمہ ہوگی تو اس اظہار سے متاثر ہونے والوں کے ردعمل کی آزادی بھی مسلمہ ہوگی.. اور یہ ردعمل محدود بھی نہیں کیا جاسکتا.. اگر ردعمل کو قانونی تحدید دی جائے گی تو انھیں بنیادوں پر اظہار کی آزادی کی تحدید بھی کرنی پڑے گی.. جو اجتماعی عدل کا بنیادی تصور ہے..

مجھے آزادی کے غلاموں کی اس نئی پود پر رحم آتا ہے کہ جو تصور ان کی کل پونجی ہے، اور جس پر یہ اپنی تہذیب اور طرز زندگی استوار کرتے ہیں وہ اتنا نامکمل ہے.. اسی لئے میں ان کو آزادی کے غلام کہنا پسند کرتا ہوں.