’راجستھان حکومت گرانے کی بی جے پی کی سازش اوندھے منہ گر چکی، اب واپس آ جائیں پائلٹ

26
راجستھان میں بی جے پی کی گہلوت حکومت کو گرانے کی سازش ناکام ہونے کے بعد کانگریس نے بیان جاری کرتے ہوئے سچن پائلٹ سے کہا ہے کہ اب بی جے پی کی سازش اوندھے منہ گر چکی ہے، لہذا انہیں گھر کے رکن کے طور پر واپس لوٹ آنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بی جے پی راجستھان کے 8 کروڑ بہادر عوام کی طرف سے منتخب شدہ حکومت کو چیلنج دے رہی تھی اور وہ اپنی سازش میں ناکام رہی، بی جے پی نے مینڈیٹ کے سامنے ہتھیار ڈال دئے ہیں۔ سرجے والا نے کہا کہ سچن پائلٹ سے کہا گیا تھا کہ اگر آپ کے پاس اکثریت ہے تو مقننہ پارٹی کے اجلاس میں اسے ثابت کریں اور اپنے اختیارات حاصل کر لیں، دو بار ان کو موقع دیا گیا لیکن وہ نہیں آئے۔
سرجے والا نے کہا کہ کانگریس نے سچن پائلٹ اور ارکان اسمبلی کو کئی مرتبہ کہا کہ آپ کی کوئی اختلاف رائے ہے تو گھر کے اندر بیٹھ کر پارٹی فورم پر اسے رکھ سکتے ہیں۔ سچن پائلٹ اور ارکان اسمبلی سے بار بار یہ گزارش کی گئی کہ آپ واپس آ جائیے۔ انہیں کئی بار کانگریس کی مقننہ پارٹی کے اجلاس میں آنے کی دعوت دی گئی۔
سچن پائلٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے سرجے والا نے کہا، ’’اگر آپ کو لگتا ہے کہ کانگریس مقننہ پارٹی کی اکثریت آپ کے پاس ہے تو آئیے اکثریت ثابت کیجئے اور جو آپ کے حقوق ہیں انہیں حاصل کر لیجئے۔ کانگریس مقننہ پارٹی کا اجلاس ہم نے ایک نہیں دو دو مرتبہ منعقد کیا۔‘‘
سرجے والا نے اس سوال کے جواب پر کہ پائلٹ نے بی جے پی میں جانے سے انکار کر دیا ہے، سرجے والا نے کہا، ’’ہم نے سچن پائلٹ کا یہ بیان سنا ہے کہ وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ایسا نہیں چاہتے ہیں تو ہریانہ بی جے پی حکومت کی پناہ سے باہر آئیں اور ان کے ساتھ تمام طرح کی بات چیت بند کر کے اپنے گھر جے پور لوٹ جائیں۔‘‘
سرجے والا نے مزید کہا، ’’کانگریس نے سچن پائلٹ کو نوجوانی میں ہی اہم عہدوں پر فائز کیا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی میں شاید ہی کوئی دوسرا شخص ہوگا جسے اتنا فروغ دیا گیا ہو۔ گھر کا کوئی رکن اگر بھول سے گھر سے باہر چلا جاتا ہے تو بھی وہ خاندان کا رکن ہی رہتا ہے۔‘‘
سرجے والا نے کہا کہ سچن پائلٹ سے بار بار کہا گیا تھا کہ اگر آپ پارٹی کے لئے وفادار ہیں تو میڈیا کے سامنے آکر بتائیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو پایا اور چار پانچ دن انتظار کرنے کے بعد بھاری دل سے ہمیں کل کارروائی کا اعلان کرنا پڑا۔