مصیبت در مصیبت،انظرربانی

28

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ) نمائندہ نوائےملت
ابھی ملک تو مہاماری کا شکار ہے اس سے ہرفرد بشر واقفکار ہے لیکن ملک کا ایک عظیم حصہ (ریاست بہار) دو مصیبتوں کا سامنا کر رہا ہے ایک فوری قہر کویڈ 19 کا دوسرا ہمارا سہ ماہی ششماہی سالانہ قہر سیلاب جو بطور خاص سیمانچل کے علاقہ کو اپنے گھیرے میں لیلیتا ہے اس قہر سے اتنا مأثر ہوجاتا ہے کہ سیلابی اثر کو ختم کرتے کرتے کمر سیدھے نہیں ہوتے کہ مہمان دروازے پر دستک دینے کو حاضر ہوجاتا ہے اور جسکا آج تک حکومت بہار نے کوئی بھی سد باب نہیں تلاشا یا کوئی کار آمد تدابیر اختیار نہیں کیا ہاں لیکن اتنا ضرور کرتا کہ سیلاب میں ڈوب گئے لوگوں کے اہل خا نہ و ذمہ داران یا انکے ولی کو دوچار لاکھ رقم کے نام سنا کر تسلی بخش دیتے ہیں اور ہلاک شدہ گھروں کا معائنہ کرکے صاحب ثروت لوگوں کو 5000 تقریباً روپیہ دیکر غریبوں کی ہمدردی حاصل کرتے ہیں
آپ کو لگا ہوگا کے دوچار لاکھ کا نام اور صاحب ثروت کو 5000 دیکر غریبوں کی ہمدردی یہ کیسے اچنبھے کی بات ہے جی ہاں آپ پریشان مت ہوئیے ایسا ہی کچھ ہوتا ہے ریاست بہار میں دوسری جگہ کیا ہے نہیں معلوم لیکن ہمارا صوبہ اس پر خوب محنت سے جان فشانی کے ساتھ عمل پیرا ہے آپکو بتاتے چلوں کہ دوچار لاکھ کا نام اس وجہ سے کے وہ رقم ایک ڈوبے شخص کے عوض نہیں ہوسکتے انکے بال بچوں کی پرورش کو ناکافی ٹھہرتا ہے اس معمولی رقم سے تو انکے گھر والوں کی غم بھی نہیں ختم ہوتے انکے آنسوؤں کی بھی قیمت نہیں ہوپاتی ہے لیکن پھر بھی ایک تسلی بخش قدم ہے کہ کچھ عوض ملے ہائے افسوس کے وہ رقم راستے میں اتنی پتلی گلی سے گزرتے ہوئے آتے ہیں کہ بے حد لاغر دبلی پتلی ہوکر صاحب حق کو مل پاتا ہے مصیبت در مصیبت یہ کہ اس لاغر کو مزید کمزور کرنے کیلئے کچھ دروازے پر حاضر ہوتے ہیں پھر کچھ میل بدن سے وہاں بھی اکھڑتے ہیں. اب چلئے 5000 ہزار کی طرف تو اس میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے لیکن آج ریاست بہار میں جو چند اضلاع ہیں مثلاً ارریہ پورنیہ کشنگنج سوپول یہ بیک وقت دوجنگ لڑ رہا ہے ایک کویڈ 19 دوسرا سیلاب اس پر گھی مکھن لاک ڈاؤن کا ہے اب یہ نہیں سمجھ میں آتا ہے کہ لاک ڈاؤن میں کیا کیا کریں اسکی پالن کرتے ہیں تو گھروں کے ساتھ میرابھی کام تمام ہوجائیگا بھوک کے مارے روزی تلاش کرتے ہیں ک 19 دامن گیر ہوجائے گا کیا کریں ایک ہفتے کا لاک ڈاؤن طے ہوا تھا لیکن سوشل میڈیا کے توسط یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ 16 جولائی سے 31 جولائی تک لاک ڈاؤن جاری رہے گا ایسے مشکل حالات میں سیمانچل والوں کا کیا پرسان حال ہوگا ذرا سر جوڑ کر سوچئے اپنے رہنماؤں کے بارے میں وہ تو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اپنے گناہوں پر پیکیج گڑا کر پردہ ڈال لیں گے. اخیر میں ریاست بہار کے ذمہ دار سے اپیل ہے کہ پردہ پوشی نہیں کیجئے بلکہ کوئی مثبت قدم اٹھائیے.