سیمانچل کی حالت بد سے بد تر

22

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)نمائندہ نوائےملتْ
جب الیکشن قریب ہوتا ہے تو چارو طرف سے نیتاؤ کی بے صری بانصری بجنا شروع ہوجاتا ہے نیتاؤ کی پکار سیمانچل کے بھولی بھالی جنتا کو سنائ پڑتی ہے اور وہ آواز لگا رہا ہوتا ہے کہ ہم آپ کے امید وار ہیں ہم آپ کے ہر مشکل میں ساتھ ہیں ہم آپ کے بچوں کے لۓ اسکول کالج بنائیں گے ہم کے لۓ ہر موڑ پر کھڑے ہیں ہم سڑکیں بنوائنگے آپ کے علاقے کو بہتر سے بہتر بنوائنگے غریبوں کی مدد کریں گے دوستو الیکشن کے دنوں میں ہی آواز بہت زیادہ سنائ پڑتی ہے لیکن جب الیکشن کے دن ختم ہوجاتے ہیں اور سیمانچل کی جنتا کی اوٹ سے کوئ ایک ستا پر بیٹھ جاتا ہے پھر اس کے وہ سارے جملے بازی جو انہوں نے الیکشن سے پہلے کۓ تھے وہ سب کے سب بھول جاتے ہیں پھر کہاں کی جنتا کہاں کی سڑکیں سب بھول جاتا ہے دوستو یہ صرف آپ کے ذہن کو اس اور لانا چاہتا تھا سیمانچل جو ایک پچھڑا علاقہ ہے جس کا پرسان حال پوچھنے والا کوئی نہیں ہے پہلے تو سیمانچل میں اکثر و بیشتر مزدور کسان طبقے کے لوگ ہیں ہی سال بھر محنت کر ایک جھونپڑی تیار کرتا اور اسی میں خوشی بہ خوشی اپنے اہل و عیال کے ساتھ زندگی بسر کرتا لیکن شاید وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ سیمانچل کے خستہ حال علاقے سے جہاں سوا ۓ اللہ کوئ کسی کا پرسان حال نہیں اگر وہ مزدوری کرنے کہیں جانے کا ارادہ کرتا یہاں سڑکیں انکے راستے میں روڑے بن کر کھڑ ا ہو جاتا ہے سیمانچل کے علاقے میں کوئ اس طرح سہولیت نہیں کہ وہ اپنے علاقے میں رہ کر محنت کر اپنے بال بچوں پرورش کریں جب انہیں بھوک ستاتی ہے تو وہ دوسرے شہر جاکر مزدوری کرنا چاہتا ہے تو اس طح کی کوئ اسپیشل ٹرین نہیں حتی کہ سیمانچل کی اور خاص ضروری بات تو یہ کہ ہر سال سیلاب کی وجہ سے سیمانچل کے لوگوں کو کافی دوستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے سیلاب کا پانی لوگوں کے گھروں میں گھس جاتا اور سیمانچل کے مزدور وکسان کا بھاری نقصان ہوتا تا ہے ان سب کا کوئ بھی پرسان حال نہیں آخر کب تک ایسا ہوگا سیمانچل کا عوام کب ترقی کے چہرے پر شرما لگاۓ گا اس سوال کا جوب کون دیگا سرکار سے اپیل ہی کہ سیمانچل کے لوگوں کی پوری سے سے پوری مدد کی جا ۓ