آسام میں این آرسی سے مسلمانوں کو نکالنے کے لیے حکومت نیا حربہ

20

مولانا سید ارشدمدنی
واضح ہوکہ آسام شہریت معاملے میں ہوئی اس تازہ پیش رفت پر اپنے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں آسام میں ناکام ہوچکی ہیں ، انہوں نے این آرسی کولیکر جو نشانہ طے کررکھا تھا اس میں انہیں سخت مایوسی ہاتھ لگی ہے اس لئے اب وہ تازہ حیلوں اوربہانوں سے ایک بارپھر ریاست میں ڈراورخوف کا ماحول پیداکرکے فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی دانستہ کوشش کررہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پورے این آرسی عمل کے دوران ان طاقتوں نے مختلف طریقوں سے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی مگر ہر موقع پر جمعیۃعلماء ہند ان کے راستے میں ایک آہنی دیواربن کر کھڑی ہوگئی ، اور اب نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹرایک نیا حربہ لےکر سامنے آئے ہیں جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف بھی پوری تیاری کے ساتھ سپریم کورٹ جارہی ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ سب سے پہلے جمعیۃعلماء ہند وہ معاملہ عدالت کے روبرولائے گی جس میں نئے کوآرڈینیٹر کی تقرری کو چیلنج کیا گیا ہے اور جو گزشتہ جنوری سے التوامیں ہے۔