مولانا ثناء اللہ ایک بہتر منتظم کے ساتھ ایک مخلص انسان تھے

23

حافظ شاداب احمد
دھن گھٹا ( سنت کبیر نگر
دنیا کا ہر متنفس اپنا وقت متعین لے کر آیا ہے اور یہاں نہ کسی کو سکون ہے اور نہ ہی کسی کو قرار نہ ہی بقا ودوام ،دنیا ایک مسافر خانہ ہے تھوڑی دیر آرام کے بعد اگلی منزل کی طرف جانا ہے،یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ہر کوئی معترف ہے ،دنیا میں ہمیشہ جینے پر پابندی اور آخرت میں مرنے پر پابندی ہے،اس فانی دنیا میں ہر ایک کو جانا ہی ہے،لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے سے قلبی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور دل رنجیدہ ہوجاتا ہے،انہیں میں ایک عظیم شخصیت مولانا ثناء اللہ صاحب کی بھی تھی،جنہوں نے علم کی شمع روشن کرکے بچوں کے دلوں میں ایمان راسخ کرنے کی حتی المقدور کوشش کی،اور اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ظاہر ہوا،
صفحہ 2
مذکورہ بالا خیالات کا اظہار چھوٹی مسجد مہولی بازار کے نائب امام حافظ شاداب احمد نے کیا،وہ مدرسہ عربیہ مصباح العلوم مہولی کے دفتر نظامت میں منعقد تعزیتی نشست کو خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ علم کی شمع کو جلانا اور اس کی لو کو تیز کرنا یقیناً ان ہی حق تھا اور ان کے ہر کام میں اخلاص اور للہیت کی خوشبو آتی ہے،مولانا ثناء اللہ ایک بہتر منتظم کے ساتھ ساتھ ایک مخلص انسان بھی تھے جو ہر کام کو اخلاص کے ساتھ کرتے تھے۔
مولانا محمد حسان ندوی ناظم مدرسہ عربیہ مصباح العلوم مہولی نے کہا کہ مولانا ثناء اللہ نے اپنی قلیل سی مدت میں فیضان ملی کے نام سے ایک مثالی ادارہ دینی اور عصری علوم کا حسین سنگم قائم کرکے پورے علاقے کے لوگوں سیراب اور فیضیاب کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے،خدا نے انہیں انتظامی صلاحیت کے ساتھ ساتھ صالحیت سے بھی نوازا تھا،اور ان کا کام خالص اللہ رب العزت کے لئے ہوتا تھا دنیاوی اغراض اس میں بالکل شامل نہیں ہوتے تھے،
اس موقع پر نثار احمد مہولی،طاہر حسین ،کتاب اللہ،نیتا عبد الجبار،فخر الدین ،انعام الحق کے علاوہ مزمل حسین وغیرہ بھی موجود رہے،آخر میں سورہ اخلاص سامعین نے پڑھ کر مرحوم کے لئے دعائیں مغفرت بھی کی گئی-