چودھری دیوان علی ایک انقلابی شخصیت

69

چودھری دیوان علی ایک انقلابی شخصیت
کالم نویسہ: شاذیہ چودھری
کلر راجوری جموں و کشمیر

چودھری دیوان علی 1883ء میں ضلع راجوری کے ایک گاؤں دھنور میں چودھری فضل داد کھٹانہ کے گھر پیدا ہوئے۔ چودھری فضل داد کھٹانہ بنیادی طور پہ اکھنور کے گاؤں ڈنگاں انباراں کے جانے مانے رئیس تھے جو کہ بعد میں راجوری میں مستقل طور پہ رہائش پزیر ہوئے۔ چودھری دیوان علی نے اس دور میں آنکھیں کھولیں جب راجوری میں شخصی حکومت کا جبر ،سود خور مہاجنوں کی لوٹ کھسوٹ، محکمہ مال کی رشوت خوری اور ظالم پولیس اہلکاروں کا تشدد تھا۔اوپر سے راجوری قحط کی زد میں بھی تھا۔سوکھا پڑنے کی وجہ سے خوراک کی انتہائی قلت کی وجہ سے ہزاروں افراد جان بحق اور گھر سے دربدر تھے لوگ دانے دانے کو ترس رہے تھے ،کسانوں سے ٹیکس کے علاوہ تمام بقایا جات کی ادائیگی کے احکامات صادر کئے گئے اور جو کسان لگان ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے ان کو زدوکوب کیا جاتا اور زمینوں سے بے دخلی بھی ان کا مقدر بننے لگی، ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ چودھری دیوان علی ان سب حالات کو دیکھتے محسوس کرتے اور سہتے ہوئے پروان چڑھ رہے تھے۔ عوام کی بے بسی اور بے کسی کی طرف کسی کی توجہ نہ تھی وہ دو دو ہاتھوں سے لٹ رہے تھے۔ ہر طرف سے ان کا استحصال ہو رہا تھا ایک عجیب سی کشمکش اور بے چینی عوام کے اندر تھی۔ گاؤں کے مذہبی اجتماعات میں لوگوں کی طرف سے شخصی حکمرانوں کی نا انصافیوں، جاگیردارانہ نظام کی لوٹ کھسوٹ اور ساہوکاروں کے استحصال کے خلاف دبے لفظوں میں آوازیں اٹھنی شروع ہو گئیں تھیں، اور ان بدعتوں سے چھٹکارا پانے کی سبیلیں بھی سوچی جا رہی تھیں لیکن کہیں کوئی راہِ نجات دکھائی نہ دیتی تھی، پوری ریاست جموں و کشمیر کی طرح ضلع راجوری پر بھی سکوت اور جمود طاری تھا کوئی رہنما نہیں تھا۔ عوام میں فقط مایوسی، قحط، یاسیت، بھکمری، ناخواندگی، پسماندگی اور موذی بیماریاں تھیں۔ افسران کے قہر، پٹواریوں کی دھونس، حاکموں کا دبدبہ اور سپاہیوں کے ڈنڈے تھے اور نہتے عوام جبر سہہ رہے تھے، کوئی بولنے والا نہ تھا۔ لب کشائی کا انجام دیکھا تھا انہوں نے، کیسے مہاراجہ گلاب سنگھ کے انتظام میں ان کی ریاست کے حکمرانوں کو ملک بدر کیا گیا تھا، پونچھ ریاست میں راجہ شمس خان کے حامیوں کی زندہ کھالیں کھنچوا کر ان میں بھوسا بھر کے درختوں سے لٹکایا گیا تھا، عوام نے مہاراجہ کے ہاتھوں ریاسی کے میاں دیدو کے، بھمبر کے سلطان خان اور راجوری کے اگر اللہ کی حالت بھی دیکھی تھی اس لئے دبے ہوئے، سہمے ہوئے اور دُبکے ہوئے تھے۔ ان سماجی اور سیاسی حالات کا اثر جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے چودھری دیوان علی پہ ایسا ہوا کہ انہوں نے اپنی ساری عمر راجوری کے مظلوم و محکوم عوام کے لئے وقف کر دی انہوں نے سود خور مہاجنوں، رشوت خور ملازموں اور ظالم پولیس اہلکاروں کے خلاف تن تنہا ہی جہاد شروع کیا اور بے شمار مظلوموں کے حقوق بحال کروائے، اس دوران ان کو گونا گوں مصیبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
چودھری دیوان علی کی مسلم کانفرنس میں شمولیت: 1933ء میں راجوری میں مسلم کانفرنس کی شاخ قائم ہونے کے بعد ہر سال کانفرنس کا اجلاس منعقد ہونے لگا۔ اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا اور شخصی حکومت جاگیرداروں، اہلکاروں اور ساہوکاروں کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف عوامی جنگ کا بھی آغاز ہوا اس جنگ کے ایک سپہ سالار چودھری دیوان علی بھی تھے۔ اس جماعت میں شمولیت چودھری دیوان علی نے گجر بکروال قوم کی نمائندگی کے لئے کی تھی کیونکہ انہوں نے دیکھا اور محسوس کیا تھا کہ راجوری اور اس کے گردو نواح میں گجر بکروال قوم کثیر تعداد میں آباد ہے لیکن اس قوم کی نمائندگی سیاسی اور سماجی طور پہ نہ کے برابر ہے اور پسماندگی ناخواندگی اور سماجی نابرابری کی وجہ سے اس قوم کو آگے نہیں آنے دیا جا رہا۔ اس لئے انہوں نے مسلم کانفرنس جماعت کے سہارے اپنی قوم کی نمائندگی کا بیڑا اٹھایا۔
گجر جاٹ کانفرنس اور چودھری دیوان علی صاحب کا کردار: چودھری دیوان علی نے مسلم کانفرنس کی راجوری شاخ کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد محسوس کیا کہ اس جماعت پر راجوری کے مقامی کشمیری مسلمانوں کا غلبہ ہے جبکہ گجر قوم کے افراد کثیر تعداد میں اس علاقے میں آباد تھے لیکن اس جماعت میں راجوری کی گجر قوم کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی اس لئے گجر بکروال طبقہ مسلم کانفرنس کی اس مقامی شاخ سے بدظن ہو چکا تھا چنانچہ 1935ء میں چودھری دیوان علی نے راجوری میں آباد کثیر التعداد گجروں کی خستہ حالی، پسماندگی اور ناخواندگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ایک ایسی تنظیم کی تشکیل کی جائے جو صرف گجر بکروالوں کے فلاح و بہبود کے لئے کمربستہ رہے اور ان کی سچی نمائندگی کرے اس سلسلے میں انہوں نے لسانہ سرنکوٹ کے چودھری غلام حسین لسانوی سے مشورہ کیا اور راجوری میں گجر جاٹ کانفرنس بلانے کا اعلان کیا، یہ کانفرنس 1935ء میں راجوری شہر میں منعقد ہوئی جس میں چودھری دیوان علی کے علاوہ لسانہ کے چودھری غلام حسین لسانوی، حاجی محمد اسرائیل، حاجی حیات، مولانا مہر الدین قمر، مولانا اسماعیل ذبیح راجوروی، چودھری محمد دین برنالوی ایڈیٹر اخبار اللسان اور میاں نظام الدین لاروی رحمتہ اللہ علیہ جیسی برگزیدہ شخصیتوں نے شرکت کی۔ راجوری میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی گجر جاٹ کانفرنس تھی جو تین دن تک جاری رہی جس میں ممتاز گجر بکروال رہنماؤں کے علاوہ ریاست اور بیرون ریاست کے گجر جاٹ اور ہزاروں کی تعداد میں مقامی گجروں نے حصہ لیا۔ اس کانفرنس میں گجر بکروال طبقے سے ملازمتوں میں امتیاز، نابالغی میں شادیاں، علاقے کی پسماندگی اور آبادی کے تناسب سے گجروں کو ایوانِ نمائندگان میں نمائندگی جیسے مسائل پہ غور کیا گیا۔ اس کانفرنس کی بدولت پہلی بار راجوری علاقے کے گجر بکروال اپنے حقوق سے بہراور ہوئے۔ صدیوں سے خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی اس قوم نے بھی کروٹ بدلی اور انہیں اپنی آواز بلند کرنے اور مطالبات منوانے کے لئے سٹیج ملا۔
چودھری دیوان علی کی مسلم کانفرنس سے علیحدگی:1935ء کی کامیاب گجر جاٹ کانفرنس بلانے کے بعد چودھری دیوان علی نے خود کو مکمل طور پہ گجر بکروال قوم کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے وقف کر دیا ادھر مسلم کانفرنس کی باگ ڈور کشمیری رہنماؤں، عبدل عزیز شال، ستار میر اور رسول میر کے ہاتھ میں تھی جبکہ راجوری میں کثیر التعداد گجر بکروال آباد تھے۔ لیکن انہیں کوئی خاص نمائندگی نہ ملی تھی دراصل یہی وجہ گجر جاٹ کانفرنس منعقد کرنے کا موجب بنی چنانچہ چودھری دیوان علی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر لی اور فقط گجر جاٹ قوم کی فلاح و بہبود، ان کو متحد کرنے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے تن من دھن سے جٹ گئے۔
چودھری دیوان علی کی غلہ بینک تحریک: 1935ء میں ہی چودھری دیوان علی نے ایک اور زبردست تحریک غلہ بینک تحریک کے نام سے چلائی جس سے راجوری کے عوام کو اک نئی زندگی ملی اس زمانے میں کسان اور کاشتکار کا بری طرح استحصال ہو رہا تھا جو غلہ وہ سال بھر محنت کر کے کماتے تھے فصل تباہ ہونے پر جاگیردار، ساہوکار اور نمبردار وغیرہ اپنا اپنا حصہ اٹھا کر لے جاتے اور کسان کے حصے میں فقط بھوک اور غریبی ہی آتی تھی، چنانچہ اپنے گھر والوں کو زندہ رکھنے کے لئے وہ ساہوکار کا دروازوہ کھٹکھٹاتا اور سود پہ قرض لیتا لیکن سود اتنا ہوتا تھا کہ وہ اس سے نجات حاصل نہیں کر سکتا تھا اس طرح کسان صدیوں سے جاگیرداروں اور ساہوکاروں کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا۔چنانچہ کسانوں کو جاگیرداروں اور ساہوکاروں کے پنجے سے آزاد کرانے کے لئے چودھری دیوان علی نے راجوری میں غلہ بینک کھولنے کی کوشش کی اور اس تحریک کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ جب فصل تیار ہو جائے تو ہر ایک کسان غلے کا کچھ حصہ گاؤں کے غلہ بینک میں جمع کرا دے اور پھر جب کسی بھی کسان کو غلے کی ضرورت پڑے تو غلہ بینک سے بلا سود غلہ اسے مہیا کر کے اس کی ضرورت کو پورا کر دیا جا تا کہ وہ کاشتکاروں کے چنگل میں نہ پھنسے۔ غلہ بینک کی یہ تحریک 1937ء میں چودھری دیوان سے شروع ہوئی اور سب سے پہلا غلہ بینک اپنے ہی گاؤں دھنور میں قائم کیا اسکے بعد دوسرے گاؤں کے لوگوں نے بھی اسکی تقلید کی یہ تحریک تقریباً چھ سال تک چلتی رہی لیکن یہ اصلاحی کام جاگیرداروں اور ساہوکاروں کی نظروں میں کھٹک رہا تھا اسی لئے وہ کسی بھی صورت میں اس نظام کو تار تار کرنے کے در پہ تھے ان کو پتہ تھا کہ غلہ بینک کی تحریک اگر راجوری کے تمام علاقوں میں پھیل گئی تو ان کا دبدبہ ختم ہو جائے گا چنانچہ 1943ء میں جب چودھری دیوان علی کچھ عرصے کے لئے اکھنور چلے گئے تو ان کی عدم موجودگی میں کچھ لوگوں کے ذریعے عوام کو غلہ بینک تحریک سے منحرف کرا دیا گیا اس طرح چودھری دیوان علی کی چلائی ہوئی تحریک جو کہ عوامی تحریک تھی دب کر رہ گئی۔
چودھری دیوان علی کی راجوری میں کسان ریلی اور کسانوں میں حقوق کی بیداری: چونکہ چودھری دیوان علی گجر جاٹ طبقے کی نمائندگی کرتے تھے اور گجروں اور جاٹوں کی اکثریت کاشتکاری کا کام کرتی تھی جن کا استحصال ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔ چودھری دیوان علی عوام کی اس زبوں حالی سے بہت نالاں تھے، چنانچہ انہوں نے 42-1941ء میں راجوری میں ایک کسان ریلی منعقد کی اور اس ریلی میں بھاری تعداد میں کسانوں اور کاشتکاروں نے بلا امتیاز مذہب و ملت حصہ لیا دیوان علی نے ریلی کی صدارت کے فرائض انجام دیئے اور کسانوں کو مل جل کر ایک ساتھ جدوجہد کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے دوسرے مقررین کے ساتھ مل کے جاگیرداروں اور ساہوکاروں کی پول کھولی اور کہا کہ اگلے چھ ماہ کے لئے کسی بھی جاگیر دار یا ساہوکار کی زمین کو ٹھیکے پر نہ لیں اور نہ ہی کاشت کریں اور اگر زمین کے مالکان کو اپنی زمین کاشت کرانی ہے تو کاشت بہ حصہ نصفی پر ہی کرانی ہوگی یہ قرار داد کسان ریلی میں متفقہ طور پر پاس ہوئی۔
چودھری دیوان علی کے کسانوں کے حقوق کے مطالبے کی منظوری اور باعزت سمجھوتہ: چودھری دیوان علی کی کسان ریلی والے قدم کے بعد اب کسان متحد ہو چکے تھے اور اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کا شعور ان کے اندر جاگ اٹھا تھا اب انہوں نے متفقہ فیصلہ کر لیا تھا کہ آئندہ وہ کسی کی زمین کو ٹھیکے پر نہیں لیں گے اور اگر کاشتکاری کریں گے بھی تو پیداوار کا آدھا حصہ لیں گے۔ جب یہ اطلاع جاگیرداروں اور ساہوکاروں کو ملی ان میں کھلبلی مچ گئی اور سازشیں رچ کے کسانوں کی یکجہتی کو توڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے پھر جھوٹ کا سہارا لے کر مہاراجہ ہری سنگھ کو بذریعہ تار اطلاع دی کہ چودھری دیوان علی علاقہ راجوری کے عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اور گاؤ کشی کے لئے سرعام اکسا رہا ہے مہاراجہ ہری سنگھ جو 1931ءکے راجوری کے واقعات سے ڈرا ہوا تھا اُس نے بنا تحقیقات کئے ریاسی کے ڈپٹی کمشنر کو پولیس کے دستے کے ساتھ راجوری بھیج دیا اور حکم دیا کہ راجوری کے انتشار پسندوں کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے چودھری دیوان علی کو جب طلب کیا تو انہوں نے کمشنر کو بتایا کہ ہم نے کسان ریلی ضرور کی تھی لیکن چھپ چھپا کے نہیں بلکہ موضع ٹھڈی جواہر نگر میں ریاستی پولیس و سی آئی ڈی کی موجودگی میں کی تھی اور اس ریلی میں ہندو مسلمان سبھی نے شرکت کی تھی جس میں کسانوں کے حقوق کے بارے میں سب نے مل کر سوچ بچار کی نہ کہ کسی فرقے یا حکومت کے خلاف کوئی بات کی گئی تھی اور نہ ہی گﺅ کشی کے بارے میں کچھ کہا گیا تھا۔ چودھری دیوان علی نے ثبوت کے طور پر محکمہ سی آئی ڈی کی ڈائری بھی دکھائی جس سے ان کی سچائی ثابت ہو گئی اور جاگیرداروں اور ساہوکاروں کی قلعی کھل گئی اور چودھری دیوان علی کو با عزت بری کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے سی آئی ڈی کی روپورٹ مہاراجہ کو بھیج دی اور ساتھ میں یہ سفارش لکھی کہ اگر ٹھیکیداری سسٹم کو ختم نہ کیا گیا تو علاقہ راجوری میں یقیناً بغاوت ہو جائے گی چنانچہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک حکم نامہ جاری کر کے ٹھیکیداری سسٹم پر پابندی عائید کر دی اور حکم دیا کہ آئندہ اگر کسی جاگیردار نے اپنی زمین کسانوں کو ٹھیکے پر دی تو اس کی زمین ضبط کر لی جائے گی اور اس فرمان کے راجوری پہنچنے سے پہلے ہی جاگیرداروں اور ساہوکاروں نے کسی طرح اپنی ناک بچانے کے لئے چودھری دیوان علی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا کہ آئندہ کسانوں کو نصف حصے پر زمین کاشتکاری کے لئے دی جایا کرے گی اس دور میں کسانوں اور کاشتکاروں کی یہ سب سے بڑی کامیابی تھی جس کا سہرا صرف اور صرف چودھری دیوان علی کے سر جاتا ہے۔
1946ء میں چودھری دیوان علی کا چناؤ میں گجر جاٹ قوم کی نمائندگی : اس وقت راجوری میں ضلع ریاسی کی طرف سے مہاراجہ کی اسمبلی کے لئے ایک سیٹ ریزرو تھی جس کے لئے مسلم کانفرنس کی ٹکٹ پر مرزا محمد حسین چناؤ لڑنے کے لئے میدان میں اترے اور مقابلہ میں گجر جاٹ قوم کی نمائندگی کے لیے چودھری دیوان علی سامنے آئے، حالانکہ چودھری دیوان علی کا کسی بھی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا، بڑی معرکے کی ٹکر تھی تمام علاقے میں جلسے ہو رہے تھے اور دونوں امیدوار گاؤں گاؤں گھوم کر ووٹ مانگ رہے تھے۔اور جب چناؤ کے نتائج آئے تو مرزا محمد حسین، چودھری دیوان علی سے معمولی ووٹوں کی اکثریت سے جیت گئے، لیکن گجر جاٹ طبقے نے شور اٹھا لیا کہ چناؤ میں دھاندلی ہوئی ہے احتجاج نے زور پکڑ لیا دیوان علی نے وزیر پنڈت رام چند کاک کے سامنے چناؤ میں دھاندلی کی شکایت کی وزیر نے وعدہ کیا کہ ایک ماہ کے اندر اندر متنازعہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ چناؤ کراے جائیں گے۔لیکن وزیر کا وعدہ وفا ہونے سے پہلے ہی 1947ء کے واقعات نے جنم لے لیا اور انگریزوں نے ہندوستان کی آزادی کے اعلان کے ساتھ ساتھ ملک کی تقسیم کا اعلان بھی کر دیا۔
1947ء کی ملک گیر سیاسی اتھل پتھل اور چودھری دیوان علی :1947ء میں لارڈ اٹیلی نے ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ ملک کی تقسیم کا بھی اعلان کر دیا یعنی برصغیر کو دو آزاد اور خودمختار مملکتوں ہندوستان اور پاکستان میں بانٹ دینے کی تجویز رکھی گئی جس کو مسلم لیگ اور کانگریس نے منظوری دے دی اسی کے ساتھ ہی ہندوستان کی تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں لیکن ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 15اگست 1947ء تک کسی کے ساتھ الحاق نہ کیا اور جوں کی توں حالت کو بنائے رکھا کیونکہ مہاراجہ اپنے آپ کو آزاد رکھنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران جموں ریاسی اکھنور وغیرہ علاقوں میں اقلیتی طبقے کے لوگوں پر حملے شروع ہو گئے تھے اور گجر بکروال لوگ تشدد کا نشانہ بن رہے تھے، ان دنوں چودھری دیوان علی اکھنور اپنے گاؤں ڈنگاں انباراں جہاں پہ ان کا گھر اور زمین تھے اہل خاندان کےساتھ رہ رہے تھے اکھنور کا ماحول سخت فرقہ وارانہ ہو گیا تھا اور بدامنی پھیلی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں دیوان علی کے دو بھتیجوں چودھری چراغ علی اور چودھری غلام رسول کو فرقہ پرستوں نے شہید کر دیا تھا ۔
اکھنور کے علاوہ دوسرے کئی علاقوں میں گجر بکروال قوم پر حملے ہوئے کئی لوگ مارے گئے اور کئی سوں کے گھر بار لٹ گئے بیشتر لوگ سرحد پار کر کے حد متارکہ کے اس پار چلے گئے لیکن اس طبقے کی بیشتر آبادی راجوری میں منتقل ہونا شروع ہو گئی۔ چودھری دیوان علی بھی خاندان کے کئی چشم و چراغ کھونے کے بعد اپنے بیٹے چودھری گلزار احمد اور دیگر اہل خاندان کے ساتھ اکھنور سے بھاگ کر بڑی مصیبتوں سے پونی بھارکھ کے راستے جنگلوں سے ہوتے ہوے لٹ پٹ کر راجوری شہر میں اپنے گاؤں دھنور میں آئے تھے اور پھر زندگی کی آخری سانس تک یہیں کے ہو کے رہ گئے اس وقت تک راجوری کا ماحول بالکل ٹھیک اور فرقہ واریت سے پاک تھا لیکن باہر سے لٹ پٹ کر آئے لوگوں کی حالت زار دیکھ کر اور ان کے منہ سے ان کی روداد سننے کے بعد راجوری بھی فرقہ وارانہ جذبات کی آگ میں بھڑک گئی اور قتل عام شروع ہو گیا۔ چودھری دیوان علی نے عوام کو مذہبی بھائی چارہ قائم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کئی لوگوں کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا اور جب پاکستانی قبائلیوں اور پاکستانی فوج نے راجوری پر قبضہ کرنے کے لئے چڑھائی کر دی اور راجوری کے نہتے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ موت کے گھاٹ اتارنا شروع کیا تو چودھری دیوان علی نے مرزا محمد حسین کی انقلابی کونسل میں شمولیت کی اور وزیر بے محکمہ کا عہدہ سنبھال لیا مرزا محمد حسین نے اپنی سول انتظامیہ کو مضبوط کرنے کے جتن شروع کر لئے انہوں نے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے رضاکار فوج بنانی شروع کی مرزا نے اس وقت کے مرزا خاندان کے ان تمام فوجیوں کو اپنی فوج میں شامل کیا جو مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج سے بھاگے ہوئے تھے ان سب افسران اور سپاہیوں کی شیرازہ بندی کر کے رضاکار فوج تیار کی اور ان کو دیہاتوں اور شہر میں امن و قانون نافذ کرنے کے لئے تیار کر دیا۔ چودھری دیوان علی نے جب دیکھا کہ مرزا نے صرف مرزا خاندان کے ہی لوگوں کو رضاکار فوج میں جگہ دی ہے جب کہ اس وقت گجر بکروال اور جاٹ طبقے کے نوجوان بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے لیکن رضاکار فوج میں ان کو موقعہ نہیں دیا گیا تو ان کو مرزا کی یہ پالیسی نا گزیر گزری اسکے علاوہ فوج کے ذریعے کچھ غلط عناصر بھی انتظامیہ میں شامل ہو گئے جنہوں نے دیہاتوں میں لوٹ مار شروع کر دی اس لوٹ مار کو دیکھتے ہوئے چودھری دیوان علی جو کہ انتظامیہ میں منسٹر تھے انھوں نے عبدالعزیز شال کے ساتھ مل کر زبردست احتجاج کیا اور اپنی آواز بلند کرنے کے لئے نڈیاں اور فتحپور گڑھیاں میں سائیں گنجی خانقاہ شریف میں جلسے کر کے مرزا کی انتظامیہ کی پر زور مزمت کرتے ہوئے احتجاج کے طور پر انقلابی کونسل سے علیحدہ ہو گئے اور گوشہ نشینی اختیار کر لی ان کی وفات 1667ء میں اپنے گاؤں دھنور راجوری میں ہوئی اور وہیں پہ انکو سپرد خاک کیا گیا۔
چودھری دیوان علی بحیثیت شاعر: چودھری دیوان علی راجوری کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں عرصہ طویل تک چھائے رہے ہیں اس لئے بہت کم لوگوں کو ان کے شاعر ہونے کا علم تھا۔ وہ ایک پر جوش رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ اک درویش صفت انسان، دردمندی کے ہتھیار سے لیس سپاہی اور پر خلوص شاعر بھی تھے دراصل شاعری کے میدان وہ عمر کے آخری حصے میں ہی آئے جو کہ گوجری میں تھی اور سی حرفی اور منظوم چٹھیوں کی صورت میں انکی وفات کے بعد سامنے آئیں اور یہ چٹھیاں انہوں نے حد متارکہ کے اس پار ہجرت کر کے گئے ہوئے اپنے
 ساتھیوں مولانا اسماعیل ذبیح راجوروی، قمر راجوروی اور رانا فضل صاحب کے نام لکھیں تھیں۔ (ختم شُد)
( نوٹ: کالم نویسہ ہفتہ وار گوجری اخبار رودادِقوم کی معاون مدیرہ ہیں )۔