روز انتخاب دراصل روز حساب ہے

147

روز انتخاب دراصل روز حساب ہے
یہ الک بات ہے کہ اپنے دیش میں کورونا ہے،مگر بہار میں ودھان سبھا کا الیکشن ہونا ہے۔تین مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے،عنقریب پہلے مرحلہ کی ابتدا ہونے جارہی ہے، ایک ہفتہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی بڑی جلدی میں نظر آرہی ہے،اوراسمبلی انتخاب سے قبل اپناانتخابی منشور جاری کررہی ہے۔جمہوریت میں حکمران جماعت کےلئےروز انتخاب دراصل روز حساب ہے،جسمیں ملک وریاست کا ایک ایک شہری اپنےقائدین کا حساب لیتاہے اور اس کی سیاسی تقدیر لکھ دیتا ہے۔
نامہ اعمال کہیں بائیں ہاتھ میں نہ ملے اس سے بچنے کے لئے برسراقتدار پارٹی کو بڑی تشویش رہتی ہے،اسی لئے عموما اپنے انتخابی منشور کو پرکشش اور وزنی،ودیدہ زیب بنانے کی فکر اسے دامنگیر رہتی ہے ۔اس کی تازہ ترین مثال حکمران جماعت کی حلیف پارٹی بی جے پی کے انتخابی منشور سے دی جاسکتی ہے،انہوں نے اپوزیشن میں بیٹھی پارٹی کے منشور میں دس لاکھ ملازمت کو تقریبا دو سے ضرب کردیا ہے، یہ تعداد تقریبا دوگنی ہوکر انیس لاکھ ہوگئی ہے ۔ادھر جدیو نے بھی اپنے سات نشچئ یوجنا کو ڈبل کردیا ہے، اب وہ چودہ نشچئ یوجنا ہوگئی ہے۔
سب سے افسوسناک بات اس بیچ میں ویکسین کی آگئی ہے، بی چے پی اقتدار میں آتی ہے تو کورونا ویکسین مفت میں بہاریوں کو دستیاب ہوگا، انتخابی منشورکا اسے حصہ بنانے پر ہرطرف چہ می گوئی ہورہی ہے، سیاسی پارٹیوں نے اس پر سوالات کھڑے کئے ہی،اور یہ دلیل دی ہےکہ ہر حکومت کا یہ فرض منصبی ہے ،بہت سارے ٹیکے گورنمنٹ مفت دیتی ہے اسے کبھی انتخابی منشورمیں جگہ نہیں دی گئی، ایسا کرناصحیح نہیں ہے ،بلکہ شرمناک ہے۔کوروناوائرس آگر کسی ملک میں داخل ہوتے ہی سیاسی وائرس میں بدل گیا ہے وہ اپنا وطن ہندوستان ہے،یہاں اس وائرس کے مذہب کی بھی تلاش ہوئی ہے، اور اب جبکہ اس وائرس کا زور کم ہورہا ہے تو اب اسے بھگانے کے لئے سیاسی ویکسین کی ضرورت پڑ گئی ہے۔گویا اس کو زمینی زبان میں کہیں تو وائرس کا داخل اورخارج دونوں سیاسی ہونا طے ہے۔
اس مہاماری کے ایام کو آج پھر یاد کرنے کی ضرورت ہے جس سے ملک کے غریب ومزدورں کی بیشمار جانیں گئی ہیں، بھوک کی شدت آج بھی محسوس ہورہی ہے، پیٹ میں پتھر باندھ کر کوروناوائرس سے متعلق سرکاری گائیڈ لائن کی یہاں کے ہرناگرک نے پابندی کی ہے،پی ایم کئرفنڈ میں خطیررقم بطور چندہ مزدورں اورغریبوں کے لئے ہی جمع کی گئی ہے،اس وائرس سے نمٹنے اور ویکسین تیار کرنے کے لئے دی گئی ہے، پورا ملک شانہ بشانہ اس عنوان پر کھڑا ہے، آج بہار کی عوام کا مذاق اڑایا جارہا ہے کہ یہاں حکومت پھر آتی ہے تو ویکسین مفت ،۰۰۰۰
ویکسین تیار کرنا ،کروانا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے، پورے ملک کی نظر اس معاملے میں حکومت پر ٹکی ہے،صرف بہار کی تخصیص اس معاملے میں نہیں کی جاسکتی ہے۔حکمرانوں کے بھی فرائض ہیں اور جس پارٹی کی حکومت مرکز میں ہے اسے مرکزی فکر کا حامل ہونا چاہئے اور اپنے فرائض کو احسان اور انتخابی منشور بناکر پیش نہیں کرنا چاہئے، یہ نہایت عار کی بات ہے۔
ووٹ تو ایک قسم کی گواہی کا نام ہے،حکمراں جماعت کو دوبارہ جب اقتدار میں عوام لاتی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے اچھا کام کیا ہے اسے بنے رہنے کا حق ہے۔اگر دوسرے کو ووٹ کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بہتر فلاں شخص ہے یا فلاں پارٹی ہے،اسے ویکسین لے کر یا پیسے لیکر کسی کو نہیں دیا جاسکتا ہے، بلکہ مذہب اسلام میں تو کسی لالچ میں ووٹ دینے پر ڈبل مجرم اسے کہا گیا ہے،حضرت مولانا خالدسیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں:”اگر کسی نے پیسے لیکر دوسرے شخص کے حق میں ووٹ دیا،تو وہ دوہرےگناہ کا مرتکب ہے، ایک تو رشوت لینے کا، اور رشوت لینے والے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے،( ترمذی،حدیث نمبر:1336)
دوسرے جھوٹی گواہی دینے کا، کیونکہ وہ ایک شخص کو نامناسب یا کم مناسب خیال کرنے کے باوجود اس کے حق میں ووٹ کا استعمال کر رہا ہے، اور جھوٹی گواہی دینے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کا ہم درجہ قرار دیا ہے، اس لئے ایسی باتوں سے خوب بچنا چاہئے ۔(کتاب الفتاوی:269)
حکمران جماعت کو تو اپنی کارگزاری پیش کرنی چاہئے، اسی بنیاد پر عوام اس کے ذریعہ کئے گئے کاموں کو دیکھ کر اسے ووٹ کرتی ہے، اب بہار میں بھی لوگ سیاست کی زبان کو سمجھنے لگے ہیں، اب کسی لالچ میں یہاں کی عام جنتا آنے والی نہیں ہے ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710