زمام حکومت کے لیے انقلابی شخصیت کا انتخاب ضروری ہے!

121

انوار الحق قاسمی ڈائریکٹر :نیپال اسلامک اکیڈمی  جوں جوں بہار الیکشن کا وقت قریب آتاجارہاہے، ویسے ویسے سیاسی پارٹیاں بڑے ہی شد و مد کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں دیکھاتی نظر آرہی ہے،سیاسی قائدین ہردفعہ کی طرح اس دفعہ بھی عوام کوسبزباغ دیکھا رہے ہیں ، نیز خوب لمبے لمبے وعدے بھی کرتےنظرآرہےہیں ، جن وعدوں کاخیال تک بھی ان کےاقتدار میں آجانےکےبعد،کبھی ان کےاذہان میں ،شایدہی آجائے کہ میں نےعوام سےکبھی ووٹ کی بھیک مانگتے وقت فلاں فلاں وعدے کیے تھے ؛مگر وعدہ ایفاکرنا،بس ایک خواب وخیال ہے،جوبس خواب وخیال ہی کی حدتک ہے،اور ان کاحقیقت سےدور تک کابھی کوئی واسطہ نہیں ہے ۔

ایسا میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کوئی ایک الیکشن کےموقع سے نہیں؛ بل کہ ہرایک الیکشن کےموقع سےہرسیاسی بڑی چھوٹی پارٹی عوام کو بیوقوف بنانےکےلیے ایک دونہیں؛بل کہ بےشمار جھوٹے وعدے کرتی ہیں، اورپھراقتدارکی کرسی حاصل کرلینے کےبعد،اپنےسارےوعدوں کواس طرح بھول جاتی ہیں کہ خیال ہوتاہے،کہ یہ وعدے ان کی زبان پرکبھی آئےہوں،یہ تودور؛بل کہ ان کےقلوب میں کبھی کھٹکےہوں،ان کابھی احساس، ان کےرویہ سےنہیں ہوتاہے،جن کاگلہ اور شکوہ ہرہندوستانی ہرالیکشن کےموقع سےبکثرت کرتےنظرآتےہیں۔

مگر بہار کی عوام بھی اب پہلےسےکافی بیدار اورچاق وچوبندہوچکی ہیں ،اور انہیں ان کےہرایک وعدہ کی یاددہانی بھی دلارہی ہیں، کہ آپ فلاں وعدہ کی طرف بھی ایک نظر دوڑائیں کہ وہ وعدہ پورابھی ہوا؟یاصرف بس وعدہ ہی تک رہ گیا ہے؟ اس طرح بہار کی عوام سیاسی پارٹیوں کی اس دفعہ خوب جم کرقدم قدم پرگرفت کررہی ہیں، جس سےصاف معلوم ہوتاہےکہ اب کی بار بہار2020ء کاالیکشن اقتدار کی کرسی پرکسی نئے چہرے کودیکھناچاہ رہاہے۔

یہ ایک حقیقت ہے جس سے کسی فرد بشرکوانکار نہیں ہے کہ ہرمیدان میں ترقی سےبہت دور اگر کوئی صوبہ ہے ،تووہ صوبہ بہار ہے،یہاں نہ اچھے تعلیمی مراکز ہیں، جن کانتیجہ یہ ہے کہ یہاں کے طلبہ اعلی تعلیم کےحصول کےلیےدیگر صوبوں میں قائم اعلی مراکزکارخ کرتے ہیں، نہ معاش کاکوئی بہترین نظام ہے،اس لیے مجبورایہاں کےلوگ کسب معاش کے لیے دیگرصوبوں کاسفرکرتےہیں اور وہاں خوب محنت کرکےاپنی آل واولاد کی پرورش کرتے ہیں،اور نہ ہی یہاں ہرطرح کی فیکٹریاں ہیں، اسی طرح سڑکیں بھی ٹوٹی پھوٹی اور اونچی نیچی ہیں،کہ اگر ڈرائیور سےمعمولی غفلت بھی ہوئی ،توسمجھیےکہ حادثے کاوقوع یقینی ہے،اوراسی طرح بجلی کابھی مسئلہ ہے کہ اکثر مقامات تک بجلی نہیں پہنچی ہوئی ہے،جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی دقتوں کاسامناکرناپڑرہاہے،نیز پانی کابھی اب تک کوئی معقول انتظام نہیں ہوسکاہے۔

یہی چند اور اہم وجوہات ہیں، جن کی بناآج صوبہ بہار دیگرصوبوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے، اوردیگرلوگوں کی نظروں میں بہار والوں کی کوئی خاطر خواہ وقعت واہمیت نہیں ہے؛اس لیے کہ یہ لوگ ہرچیزمیں دوسروں کےمحتاج ہی ہیں، نہ کہ محتاج الیہ اور دنیامیں اسی کی عزت ورفعت ہوتی ہے،جومحتاج الیہ ہوتے ہیں، اور محتاج توخیرمحتاج ہی ہےاس کی کیااہمیت ہوگی؟۔

بہار اگر پیچھےہے،توبس وہ لالویادواورنتیش کمار کی دین ہے ،یہ دونوں ایک جان اوردوقالب کےمانندہیں،معمولی فرقوں کے ساتھ تقریبادونوں ہی کابہار کےساتھ زمام حکومت ہاتھ میں لینےکےبعدایک ہی رویہ رہاہے،یعنی دونوں ہی گھپلہ باز انسان ہیں اور دھوکہ باز بھی کوئی کم نہیں ہیں، یہ لوگ مفاد پرست انسان ہیں،بس یہ اپنافائدہ سوچتے ہیں، عوام کاقطعی نہیں اور عوام کی کیا حالت ہے؟اس سےبالکل بے خبر رہتے ہیں؛ اس لیے بہار کی عوام ان دونوں کابالکل صفایا کرنا چاہتی ہےاور کسی نئے لیڈر کےہاتھ حکومت سپرد کرناچاہتی ہے۔

مجھے اس بات کا یقین کامل ہے کہ تعلیم یافتہ افراد بہت ہی سوچ سمجھ کر ووٹ دیں گے اور کسی کے بہلاوےپھسلاوے میں کسی صورت میں نہیں آئیں گے اور وہ ہر ظالم وخائن کو اقتدار کی کرسی سے محروم کرکے کسی امانت دار شخص کے ہاتھ بہار حکومت کی باگ ڈور سپردکریں گے؛ مگر مجھے غیر تعلیم یافتہ افراد سے بہت ہی خدشہ لاحق ہے، کہ کہیں وہ بہلاوے اور پھسلاوے کے شکار نہ ہو جائیں، اور پھروہ ووٹ جو کہ ایک امانت ہے، اسے غیر امانت سمجھ کر غیر امین شخص کے حوالےنہ کردیں،نتیجتاپھرکسی خائن ہی کی حکومت عمل میں آ جائے؛ اس لیے کہ غیر تعلیم یافتہ افراد سادہ لوح انسان ہوتے ہیں، انہیں ہر ایک اپنی چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے باآسانی اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں اور پھر انہیں جب چاہیں اور جس طرح چاہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لیتے ہیں؛ اس لیے ہر علاقے کے تعلیم یافتہ افراد اپنے اپنے علاقے کےغیر تعلیم یافتہ افراد کی ذہن سازی کریں اور انہیں غلط اور صحیح کی پہچان کرائیں، تاکہ وہ کسی کےبہکاوے میں آکر غلط فیصلہ نہ کرلیں، جس کاخمیازہ پانچ سالوں تک پھربھگتنا پڑے ۔

اگر ماحول سازگار بنایا گیا اور عوام کے دلوں میں نیا بہار بنانے کا جذبہ اور شوق بھی پیدا ہو گیا،اور ان کےجذبہ و شوق کے مطابق ووٹوں کا صحیح استعمال بھی کیا گیا، تو یقین کیجئے کہ -ان شاء اللہ العزیز -آنے والے پانچ سالوں میں بہار وہ بہار نہیں رہے گاجواب تک تھا،جس بہار میں حکومت پر جلوہ افروز انسان سے عوام اب تک دھوکہ ہی کھاتی آرہی تھی اورہرمیدان میں پستی زوال کے شکار ہونے کی وجہ سے عوام و خواص کی نظروں میں حقیر تھی، اب جب بہار ہرمیدان میں (یعنی اعلی تعلیمی مراکز کے قیام اور ان کے لیے اچھےاساتذہ کا انتخاب، ہر طرح کی فیکٹری کا وجود اورراستوں کی مرمت اور پیچنگ،بےروزگاروں کوروزگاری کاملنا، ہر ہرگھر تک بجلی کی سپلائی اور بیت الخلاء کی تعمیر،ہرکھیت تک سینچائی کاپانی، صاف شہر، صاف اور خوش حال گاؤں)ترقی کرے گا، تو پھر اہل بہار ایک نئی شان و شوکت کے ساتھ حیات مستعار بسر کریں گے اور ان کاایک نمایاں مقام بھی دیگرصوبوں میں مقیم افراد کے قلوب میں پیدا ہو جائے گا،اور اب یہ بھی کسی کے محتاج نہیں رہیں گے۔

اسی طرح اقتدار میں آنےوالی حکومت اپنےدور اقتدار میں صوبہ بہار سےمآب لینچینگ کےنام سے ،ظلم وستم کاایک نیاسلسلہ ،جوچندسالوں سےبڑےہی زور شور کے ساتھ مروج ہےاس کابھی خاتمہ اگرکردے گی،تومیں کہتاہوں کہ اگر ایساہواتوصرف اسی کےخاتمےسےبہار میں ایک نمایاں تبدیلی پیداہوجائےگی۔

ماب لنچنگ کا نام ہی سن کر جسم کا ایک ایک عضو ڈراور دہشت سے کانپنے لگتا ہے اور کیوں نہ کانپے جب کہ اس میں کسی بے گناہ مسلمان کو محض اس بنیاد پر کہ وہ مسلم و مومن ہے ،موقع پاتے ہی ، انسان نما درندوں کی ایک جماعت سرعام ہاتھوں اور پیروں کو مضبوط رسی سے باندھ کر خوب زدوکوب کرتے رہتے ہیں؛جس پردائمی قدغن لگانابہت ہی ضروری ہے، یاد رکھیں! کہ اس کےذریعہ صوبہ بہار میں ایک بڑاانقلاب بھی پیداہوگا۔

نیزآئے روزبالغہ عورتوں اور نابالغہ بچیوں کےساتھ واقع ہونےوالےعصمت دری کےواقعات پر بھی سخت پابندی عائد کرے،تاکہ عورتیں اوربچیاں بھی پرامن زندگی بسر کرسکیں۔

اس لیے اس کےلیے خوب سوچ سمجھ کر اپنےحق رائےدہی کااستعمال کریں اورمنصف وامین کواقتدار کےلیے منتخب کریں، تاکہ آئندہ پھرکبھی کف افسوس نہ ملنا پڑے۔

خدا نخواستہ جسےآج آپ منصف وامین سمجھ کرقتدار کی کرسی پربیٹھائےہیں،وہ سوء اتفاق کل ان لوگوں سے بھی بڑاظالم وخائن نکلا، اور بہار اس کے ذریعے مزید پستی وزوال کاشکارہوا،توپھر آپ اسے 2025ء کےالیکشن میں عمدہ سبق سکھلائیں اور اسے ہمیشہ ہمیش کےلیےاقتدارسے محروم کردیں،پھرنئے وزیر اعلٰی کاانتخاب کریں، جوہرایک کےحق میں مفید ہو۔